پیرس(رائٹرز+ فرانس24) فرانس میں طلبہ کے احتجاج کے دوران پولیس اور مظاہرین کے درمیان مختلف مقامات پر جھڑپیں ہوئیں، پولیس نے مظاہرین کو منتشر کرنے کے لیے آنسو گیس کے شیل فائر کیے اور لاٹھی چارج بھی کیا۔
فرانس24 کے مطابق جمعرات کی صبح شمال مشرقی پیرس کے ہیلین بوچر ہائی اسکول کے باہر طلبہ نے کوڑے دان گھسیٹ کر رکاوٹیں کھڑی کیں، جس کے بعد پولیس نے آنسو گیس کی شیلنگ کی۔ یہ اسکول حالیہ دنوں میں طلبہ اور پولیس کے درمیان جھڑپوں کا مرکز بنا ہوا ہے۔
پیرس کے باسٹیل چوک میں بھی پولیس اور مظاہرین کے درمیان کشیدگی رہی۔ رائٹرز کے مطابق فسادات سے نمٹنے والی پولیس نے مظاہرین کو باسٹیل چوک سے منتشر کرنے کی کوشش کی اور اس دوران لاٹھی چارج کیا۔

فرانسیسی وزارت تعلیم کے مطابق جمعرات کو 224 مڈل اور ہائی اسکول مکمل طور پر بند رہے جبکہ 151 اسکول جزوی طور پر کھلے رہے۔ وزارت کے مطابق 94 فیصد تعلیمی ادارے مکمل یا جزوی طور پر کھلے رہے۔
فرانس کے مختلف شہروں میں طلبہ کی جانب سے احتجاج جاری رہا، جبکہ مارسیلی میں پولیس کے اندازے کے مطابق تقریباً 3 ہزار 900 افراد نے مارچ میں شرکت کی۔
پیرس کے 11ویں ضلع میں لائسی والٹیئر کی ناکہ بندی بھی جاری رہی، جہاں طلبہ نے احتجاج میں شرکت سے قبل اجلاس کیا۔ طلبہ نے گزشتہ ہفتے مظاہروں کے دوران آنسو گیس کے استعمال پر پولیس کے طرز عمل پر بھی تنقید کی۔

طلبہ اور اساتذہ کی یونینوں نے احتجاج کا سلسلہ جاری رکھنے کا اعلان کرتے ہوئے 13 اکتوبر کو ملک گیر ہڑتال اور مظاہروں کی نئی کال دی ہے۔ طلبہ یونین کی ترجمان سبرین خرباچ نے کہا کہ مطالبات تسلیم ہونے تک احتجاج جاری رکھا جائے گا۔
دوسری جانب سابق فرانسیسی صدر فرانسوا اولاند نے آئندہ صدارتی انتخابات میں نوجوانوں کو ترجیح دینے کی ضرورت پر زور دیا ہے۔ انہوں نے تعلیمی شعبے میں اصلاحات اور اساتذہ کی غیر حاضری سے متعلق اقدامات کا بھی مطالبہ کیا۔
سینٹ ڈینس کے میئر بالی باگایوکو بھی پیرس کے باسٹیل چوک میں ہونے والے احتجاج میں شریک ہوئے۔ انہوں نے حکومت پر تعلیم میں سرمایہ کاری کو ترجیح دینے اور امیر طبقے پر زیادہ ٹیکس عائد کرنے پر زور دیا۔

