بھارت میں 13 کروڑ سے زائد ووٹر نام خارج کرنے کا تنازع، اپوزیشن کا چیف الیکشن کمشنر سے استعفے کا مطالبہ

نئی دہلی(رائٹرز، اے پی) بھارت میں خصوصی انتخابی نظرثانی کے دوران 13 کروڑ سے زائد ووٹرز کے نام انتخابی فہرستوں سے خارج کیے جانے کا معاملہ عالمی سطح پر بھی توجہ حاصل کر رہا ہے۔

رائٹرز اور ایسوسی ایٹڈ پریس کے مطابق بھارت کے الیکشن کمیشن کے اعداد و شمار میں 13 کروڑ 39 لاکھ ووٹرز کو غیر حاضر، مستقل طور پر منتقل، فوت شدہ یا دہری اندراج سمیت مختلف زمروں میں رکھا گیا ہے۔ الیکشن کمیشن کا کہنا ہے کہ یہ کارروائی انتخابی فہرستوں سے غیر اہل اور دہری اندراجات ختم کرنے کے لیے کی گئی ہے۔

اپوزیشن جماعتوں اور حکومت کے ناقدین نے انتخابی فہرستوں کی نظرثانی کے طریقہ کار پر سوالات اٹھاتے ہوئے الزام عائد کیا ہے کہ اس سے بڑی تعداد میں اہل ووٹر بھی متاثر ہوسکتے ہیں۔ اپوزیشن رہنما راہول گاندھی اور دیگر جماعتیں چیف الیکشن کمشنر گنیش کمار کے استعفے کا مطالبہ کر رہی ہیں۔

اس معاملے پر ملک کے مختلف شہروں میں احتجاج بھی جاری ہیں۔ نئی دہلی، ممبئی اور بنگلورو سمیت مختلف مقامات پر مظاہرین نے انتخابی فہرستوں میں مبینہ بے ضابطگیوں کے خلاف احتجاج کیا، جبکہ 10 اکتوبر کو نئی دہلی کے جنتر منتر پر مزید احتجاج کی کال دی گئی ہے۔

الیکشن کمیشن نے 13 کروڑ 39 لاکھ ناموں کو براہ راست ’’حذف‘‘ کیے جانے کے سیاسی دعوے کو مسترد کرتے ہوئے وضاحت کی ہے کہ یہ ووٹر خصوصی نظرثانی کے دوران غیر حاضر، مستقل طور پر منتقل، فوت شدہ اور دہری اندراج سمیت مختلف زمروں میں شامل کیے گئے تھے۔ کمیشن کے مطابق اہل افراد اپنے نام دوبارہ انتخابی فہرست میں شامل کراسکتے ہیں۔

بھارتی میڈیا کے مطابق اس معاملے پر سپریم کورٹ میں بھی درخواستیں زیر سماعت ہیں، جبکہ الیکشن کمیشن کے دو ارکان کی جانب سے خصوصی نظرثانی کے بعض اقدامات پر اعتراضات سامنے آنے کے بعد تنازع مزید شدت اختیار کرگیا ہے۔