برامپٹن (اشرف خان لودھی سے)برامپٹن چنگاکوزی پارک سےرکن پارلیمنٹ اور خزانہ بورڈ کے صدرشفقت علی کے دفتر میں میٹ اینڈ گریٹ تقریب منعقد کی گئی، جس میں انہوں نے اپنے دفتر کے ساتھیوں کی خدمات، شہریوں کے مسائل کے حل، برامپٹن میں طبی تعلیم کے فروغ اور کاروباری ضابطوں کو آسان بنانے کے حکومتی اقدامات پر گفتگو کی۔
شفقت علی نے کہا کہ اس تقریب کا مقصد شہریوں کو یہ موقع فراہم کرنا ہے کہ وہ دفتر کی ٹیم سے ملاقات کریں اور جان سکیں کہ ان کے مسائل حل کرنے کیلئے کس طرح کام کیا جا رہا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ دفتر کی ٹیم برامپٹن اور گریٹر ٹورنٹو کے علاقے میں مقیم شہریوں کی معاونت کرتی ہے اور وفاقی حکومت کے مختلف اداروں سے متعلق مسائل کے حل میں ان کی نمائندگی کرتی ہے۔
انہوں نے کہا کہ دفتر کی ٹیم عوامی شکایات اور تجاویز پر کام کرنے کے ساتھ ایسی سرگرمیوں کے انعقاد کیلئے بھی کوشاں ہے جن سے شہریوں کی شرکت بڑھے اور انہیں اپنے منتخب نمائندے کے دفتر سے بہتر اور مثبت تجربہ حاصل ہو۔
شفقت علی نے اپنے حلقے میں ہونے والی پیش رفت کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ ٹورنٹو یونیورسٹی کے برامپٹن میں قائم کیے جانے والے طبی تعلیمی ادارے کیلئےڈھائی کروڑ ڈالر کی رقم فراہم کی گئی ہے۔ ان کے مطابق یہ منصوبہ طبی تعلیم کے شعبے میں ایک اہم پیش رفت ہے اور اس سے نوجوانوں، ڈاکٹروں اور نرسوں کو فائدہ پہنچے گا۔ انہوں نے کہا کہ برامپٹن سے تعلق رکھنے والے دیگر ارکانِ پارلیمنٹ نے بھی اس اقدام کی حمایت کی، جبکہ صوبائی اور بلدیاتی سطح پر بھی اس منصوبے کیلئے تعاون حاصل ہوا۔

انہوں نے کینیڈا کے موسمِ گرما میں نوجوانوں کو روزگار فراہم کرنے کے پروگرام کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ حکومت ایسے اقدامات کے ذریعے نوجوانوں کے لیے مواقع پیدا کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔
وفاقی وزیر نے مہنگائی کے اثرات کم کرنے کیلئے حکومتی اقدامات پر بات کرتے ہوئے کہا کہ حال ہی میں اہل کینیڈین شہریوں کو انیس سو ڈالر تک کی مالی معاونت فراہم کی گئی ہے۔ ان کے مطابق اس اقدام کا مقصد ضروری اشیائے خورونوش کے اخراجات سمیت بڑھتی ہوئی مہنگائی کے باعث پیدا ہونے والی مشکلات سے نمٹنے میں شہریوں کی مدد کرنا ہے۔
شفقت علی نے، جو صدرِ خزانہ بورڈ کی ذمہ داریاں بھی انجام دے رہے ہیں نے بتایا کہ حکومت نے سینیٹ میں بل ایس سیون پیش کیا ہے، جس کا مقصد غیر ضروری ضابطوں اور پیچیدہ سرکاری کارروائیوں کو کم کرنا ہے۔ انہوں نے کہا کہ وقت گزرنے کے ساتھ بعض قواعد غیر مؤثر، غیر ضروری اور کاروباری سرگرمیوں میں رکاوٹ بن جاتے ہیں، جس سے اضافی اخراجات اور کام کی تکرار بڑھتی ہے۔
ان کے مطابق حکومت نے مختلف سرکاری محکموں سے متعلق ایسے 31 مسائل کی نشاندہی کی ہے جن کے حل کیلئے قانون سازی کے ذریعے تبدیلیاں متعارف کرائی جا رہی ہیں۔ ان اقدامات سے کاروباری اداروں اور شہریوں کیلئے سرکاری کارروائیاں آسان بنانے، منظوریوں میں تیزی لانے اور اخراجات کم کرنے میں مدد ملے گی۔
انہوں نے کہا کہ اندازوں کے مطابق ان اقدامات کے نتیجے میں آئندہ دس برسوں کے دوران کاروباری اداروں کے 26 کروڑ ڈالر سے زیادہ کی بچت متوقع ہے۔اس کے علاوہ کاروبار شروع کرنے اور چلانے کے مراحل آسان ہونگے،منظوریوں میں تاخیر کم ہو گی اور کاروباری اداروں کو روزگار کے نئے مواقع پیدا کرنے میں مدد ملے گی۔
شفقت علی نے بتایا کہ وزارت کی ذمہ داریاں سنبھالنے کے بعد انہوں نے غیر ضروری ضابطوں کا جائزہ لینے کیلئے ایک خصوصی عمل شروع کیا، جس کے تحت مختلف سرکاری محکموں کی جانب سے 500 تجاویز اور اقدامات سامنے آئے۔
مثال دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ذیابیطس کے علاج کیلئے استعمال ہونیوالی بعض ادویات کی منظوری میں پہلے برسوں لگ جاتے تھے، کیونکہ طبی ٹیکنالوجی اور تحقیق کے طریقوں میں تبدیلی کے باوجود متعلقہ ضابطے پرانے تھے۔ ان ضابطوں کا جائزہ لے کر منظوری کے عمل کو آسان بنایا گیا، جس کے نتیجے میں یہ مدت برسوں سے کم ہو کر مہینوں تک لانے کی گنجائش پیدا ہوئی۔ ان کے مطابق اس سے مریضوں کو جدید ادویات تک نسبتاً جلد رسائی حاصل کرنے میں مدد مل سکتی ہے۔
انہوں نے کہا کہ بعض ضابطوں کو پالیسی میں تبدیلی کے ذریعے آسان بنایا جا سکتا ہے، جبکہ دیگر کیلئے قانون سازی ضروری ہوتی ہے۔ پیش کیا گیا بل اسی مقصد کے تحت تیار کیا گیا ہے اور حکومت مستقبل میں بھی ایسے اقدامات جاری رکھے گی۔
شفقت علی کا کہنا تھا کہ حکومت کا مقصد ایسا ماحول پیدا کرنا ہے جس میں کاروبار کرنا آسان ہو، سرکاری خدمات تیزی سے فراہم ہوں اور معیشت کے مختلف شعبوں، بشمول زراعت، کو فائدہ پہنچے۔ انہوں نے کہا کہ غیر ضروری اخراجات میں کمی اور سرکاری نظام کی کارکردگی بہتر بنانے سے کینیڈا کی معیشت کو مضبوط بنانے اور اسے گروپ آف سیون کی مضبوط ترین معیشت بنانے کے ہدف کے حصول میں مدد مل سکتی ہے۔

