اسلام آباد (نمائندہ خصوصی) بین الاقوامی اسلامی یونیورسٹی اسلام آباد کی گولڈ میڈلسٹ طالبہ لائبہ اعجاز کی مبینہ خودکشی اور ویزا فراڈ کیس میں اہم پیش رفت سامنے آئی ہے، ابتدائی پوسٹ مارٹم رپورٹ پولیس کو موصول ہوگئی، جس کے مطابق طالبہ کی موت پھندا لگنے کے باعث ہوئی، جبکہ مرکزی ملزم نعمان کے بھائی وقاص کے مبینہ فراڈ میں ملوث ہونے کے انکشافات بھی سامنے آئے ہیں۔ پولیس نے موت کی حتمی وجہ اور واقعے کے دیگر پہلوؤں کی تصدیق کے لیے نمونے فرانزک لیبارٹری بھجوا دیے ہیں۔
پولیس ذرائع کے مطابق فرانزک ٹیسٹ کے نتائج موصول ہونے کے بعد حتمی رپورٹ مرتب کی جائے گی۔ لائبہ اعجاز کی مبینہ خودکشی کے معاملے میں پولیس نے تفتیش آگے بڑھانے کیلئےمقدمے کی بند فائل دوبارہ کھول دی ہے، جبکہ ان کے والد کا بیان بھی ریکارڈ کرلیا گیا ہے۔ مقدمہ والد کی مدعیت میں تعزیراتِ پاکستان کی دفعات 322 اور 34 کے تحت درج کیا گیا ہے۔
ذرائع کے مطابق لائبہ کے والد نے الزام عائد کیا ہے کہ نعمان نامی شخص نے ان کی بیٹی کو تعلیمی ویزے پر امریکا بھجوانے اور اعلیٰ تعلیم کیلئے داخلہ دلوانے کا جھانسہ دے کر لاکھوں روپے وصول کیے، بعدازاں رابطہ منقطع کرلیا۔ اہل خانہ کے مطابق لائبہ امریکا میں مزید تعلیم حاصل کرنا چاہتی تھیں اور ملزم نے انہیں امریکی جامعہ میں داخلے اور وظیفے کی یقین دہانی کرائی تھی۔
تفتیشی اطلاعات کے مطابق مرکزی ملزم نعمان کا بھائی وقاص مانسہرہ میں فراڈ کے ایک مقدمے میں جیل میں قید ہے۔ ذرائع کا دعویٰ ہے کہ نعمان اور وقاص اپنے دیگر مبینہ ساتھیوں کے ساتھ مل کر شہریوں کو دھوکا دینے میں ملوث رہے ہیں۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق نعمان مبینہ طور پر خود کو مانسہرہ میں ایک حساس ادارے کا اسسٹنٹ ڈائریکٹر ظاہر کرتا تھا، جبکہ تفتیش کے دوران حساس ادارے کے نام سے منسوب جعلی تقرری نامے سامنے آنے کی اطلاعات بھی ہیں۔ ان انکشافات کے بعد وفاقی تحقیقاتی ادارے نے مانسہرہ فراڈ کیس سے متعلق بھی تحقیقات شروع کردی ہیں، جبکہ لائبہ کیس کی تفتیش کا دائرہ وسیع کیا جارہا ہے۔
پولیس ذرائع کے مطابق نعمان نے مبینہ فراڈ کیلئے مصنوعی ذہانت کی مدد سے تین مختلف کھاتے بنائے اور تین افراد کا کردار خود ادا کیا۔ ملزم مبینہ طور پر لائبہ کے سوالات کے جوابات حاصل کرنے کیلئےمصنوعی ذہانت کا سہارا لیتا تھا اور خود کو مختلف افراد کے طور پر پیش کرتا رہا۔
تحقیقات کے مطابق لائبہ کا ملزم سے پہلا رابطہ مارچ 2023ء میں ہوا، جب انہوں نے ایک بیمہ کمپنی میں انٹرن شپ کیلئے درخواست دی تھی۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ نعمان 2022ء تک محکمہ انسدادِ بدعنوانی میں ملازم رہا، تاہم غیر حاضری کے باعث اسے ملازمت سے برطرف کردیا گیا تھا۔ بعدازاں وہ مختلف بیمہ کمپنیوں میں بطور مینیجر کام کرتا رہا اور 2025ء میں بلیو ایریا میں ایک بیمہ کمپنی سے وابستہ ہوا۔
پولیس ذرائع کے مطابق ملزم نے لائبہ، ان کی بہن اور والدہ کو اشتہاری کام کیلئے بھی اپنے ساتھ منسلک کیا۔ بعدازاں لائبہ نے اپنی جاننے والی عائزہ کے بھائی کے ذریعے امریکی ویزا حاصل کرنے کیلئے نعمان سے مدد طلب کی۔ الزام ہے کہ ملزم نے عائزہ اور اس کے بھائی کی جعلی شناختیں بنا کر ان کے نام سے لائبہ سے رابطہ کیا اور ویزے سے متعلق دستاویزات فراہم کیں۔
ذرائع کے مطابق ملزم نے امریکی ویزا انٹرویو کی تاریخ پہلے یکم ستمبر، پھر 17 ستمبر اور بعدازاں 26 ستمبر بتائی۔ لائبہ کو شبہ ہونے پر دستاویزات کی جانچ کی گئی تو وہ مبینہ طور پر جعلی نکلیں۔ تحقیقات میں امریکی تعلیمی داخلے، وظیفے اور دیگر اخراجات کے نام پر رقم وصول کرنے کے الزامات بھی سامنے آئے ہیں۔
لائبہ کے والد کے مطابق انہوں نے اپنی بیٹی کو رقم فراہم کرنے کیلئے 21 لاکھ روپے کا پلاٹ فروخت کیا، جبکہ لائبہ نے اپنی سوتیلی والدہ کے زیورات بھی ملزم کو دیے تھے۔ پولیس ذرائع کا کہنا ہے کہ زیورات واپس کرنے کیلئےلائبہ پر دباؤ تھا، تاہم ملزم نے ان سے رابطہ منقطع کرلیا۔ خاندان کی جانب سے مجموعی مالی نقصان سے متعلق مزید تفصیلات بھی تحقیقات کا حصہ ہیں۔
پولیس ذرائع کے مطابق ملزم نے گرفتاری سے قبل اپنے موبائل فون سے ڈیٹا حذف کردیا تھا۔ پولیس فون کا فرانزک تجزیہ کروا کر حذف شدہ معلومات بحال کرنے اور ممکنہ طور پر دیگر متاثرین کا سراغ لگانے کی کوشش کررہی ہے۔
واضح رہے کہ 12 اکتوبر کو اسلام آباد کی عدالت نے مرکزی ملزم نعمان کو پانچ روزہ جسمانی ریمانڈ پر پولیس کے حوالے کیا تھا تاکہ طالبہ کی موت اور مبینہ مالی فراڈ کے مختلف پہلوؤں کی تحقیقات کی جاسکیں۔
پولیس اور وفاقی تحقیقاتی ادارے کی تحقیقات جاری ہیں۔ لائبہ اعجاز کی موت کی حتمی وجہ، مبینہ فراڈ میں دیگر افراد کے کردار اور سامنے آنے والے الزامات کی تصدیق فرانزک رپورٹس اور تفتیش مکمل ہونے کے بعد ہی ہوسکے گی۔

