فضائی صنعت کو آئندہ 20 برس میں 24 لاکھ سے زائد نئے ہنرمند کارکن درکار ہونگے

لندن (ایجنسیاں) دنیا بھر میں فضائی صنعت کو تیزی سے بڑھتی ہوئی مارکیٹ کے تناظر میں ہنرمند افرادی قوت کی شدید کمی کا سامنا ہے جبکہ آئندہ دو دہائیوں میں اس شعبے کو تقریباً 24 لاکھ 50 ہزار نئے کارکنوں کی ضرورت ہوگی۔

برطانوی میڈیا رپورٹ کے مطابق طیارہ ساز کمپنی ایئربس کے جاری کردہ اعداد و شمار میں بتایا گیا ہے کہ فضائی صنعت کو مستقبل میں بڑی تعداد میں پائلٹس، طیاروں کی دیکھ بھال کرنیوالے ماہرین اور کیبن عملے کی ضرورت پیش آئیگی۔ ماہرین کے مطابق اس وقت بھی صنعت کو تقریباً 7 لاکھ 30 ہزار ماہر تکنیکی کارکنوں کی کمی کا سامنا ہے، جو فضائی شعبے کیلئے ایک بڑا چیلنج بن چکی ہے۔

رپورٹ کے مطابق آئندہ برسوں میں دنیا بھر میں تقریباً 10 لاکھ 50 ہزار نئے کیبن عملے کے ارکان اور 6 لاکھ 60 ہزار پائلٹس درکار ہونگے۔ اس کے علاوہ طیاروں کی مرمت، دیکھ بھال اور تکنیکی خدمات کیلئےبھی بڑی تعداد میں تربیت یافتہ کارکنوں کی ضرورت ہوگی۔

اعداد و شمار کے مطابق طیاروں کی فروخت کے بعد فراہم کی جانے والی خدمات کی عالمی منڈی آئندہ 20 برس میں دگنی ہوکر 420 ارب ڈالر تک پہنچنے کا امکان ہے۔ اس شعبے میں طیاروں کی معمول کی دیکھ بھال، انجنوں کی مرمت، پرزوں کی تبدیلی اور تکنیکی معاونت جیسی خدمات شامل ہیں۔

رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ فضائی صنعت میں کاروبار کا دائرہ اب صرف نئے طیاروں کی فروخت تک محدود نہیں رہا بلکہ ان کی مسلسل دیکھ بھال اور مرمت بھی اہم کاروباری شعبہ بن چکی ہے۔ حالیہ برسوں میں طیاروں کے انجنوں کی مرمت کی ضرورت میں اضافہ ہوا ہے، جبکہ دنیا بھر میں کئی سو طیارے تکنیکی مسائل اور مرمت کے باعث گراؤنڈ ہیں۔

ماہرین کے مطابق تربیت یافتہ تکنیکی عملے کی کمی کے باعث طیاروں کی مرمت اور دوبارہ سروس میں واپسی میں تاخیر ہوسکتی ہے۔ اسی لیے فضائی کمپنیوں اور طیارہ ساز اداروں کیلئے ہنرمند کارکنوں کی تربیت، بھرتی اور تکنیکی مہارتوں میں اضافہ مستقبل کی اہم ترجیحات میں شامل ہوگیا ہے۔