کسان کب تک رہے گا پریشان ؟

پاکستان ایک زرعی ملک اور پنجاب کو بجا طور پر ملک کا اناج گھر کہا جاتا ہے، ہماری زمینیں زرخیز ، کسان محنتی اور قدرت نے ہمیں ایسی آب و ہوا عطا کی ہے جس میں گندم، چاول، گنا، کپاس اور دیگر فصلیں وافر مقدار میں پیدا کی جا سکتی ہیں، اس کے باوجود یہ ایک تلخ حقیقت ہے کہ ہم کبھی گندم کی قلت کا رونا روتے ہیں، کبھی آٹے کی قیمتیں آسمان سے باتیں کرنے لگتی ہیں اور کبھی چینی کی مصنوعی یا حقیقی کمی پوری کرنے کیلئے درآمدات کا سہارا لینا پڑتا ہے، سوال یہ ہے کہ جس ملک کی معیشت کی بنیاد زراعت پر ہونی چاہیے، وہاں غذائی اجناس کی منصوبہ بندی آخر اتنی ناقص کیوں ہے؟ اور سب سے اہم سوال یہ کہ اس تمام صورت حال میں نقصان کس کا ہوتا ہے اور فائدہ کس کی جھولی میں گرتا ہے؟

پاکستان میں گندم اور چینی کی پیداوار، ذخیرہ اندوزی، برآمدات اور درآمدات کا معاملہ محض زرعی پالیسی کی ناکامی نہیں بلکہ حکومتی ترجیحات، ناقص منصوبہ بندی اور مفادات کے ممکنہ تصادم کا ایک ایسا مسئلہ ہے جس کا خمیازہ بالآخر کسان اور عام صارف بھگتتے ہیں، جب پیداوار زیادہ ہوتی ہے تو برآمدات کی اجازت دینے کا فیصلہ کیا جاتا ہے، لیکن اگر یہی برآمدات ملکی ضروریات کا درست اندازہ لگائے بغیر کی جائیں تو کچھ عرصے بعد قلت پیدا ہونے اور مہنگی درآمدات کی ضرورت پیش آنے کا خطرہ بڑھ جاتا ہے، یوں ملک سے باہر جانے والی پیداوار واپس لانے کیلئے قومی خزانے سے زیادہ قیمت ادا کرنا پڑ سکتی ہے۔گندم اور چینی کے معاملے میں بار بار سامنے آنے والی اس صورت حال کا سنجیدہ جائزہ لینے کی ضرورت ہے، ایسے فیصلے کیوں کیے جاتے ہیں جن سے کسان کو اپنی فصل کی مناسب قیمت نہیں ملتی، صارف مہنگی اشیائے خورونوش خریدنے پر مجبور ہوتا ہے اور درمیان میں موجود طاقتور کاروباری حلقے غیر معمولی منافع حاصل کرنے کی پوزیشن میں آ جاتے ہیں؟

پاکستانی کسان کی زندگی پہلے ہی مشکلات سے عبارت ہے، بیج، کھاد، ڈیزل، بجلی، زرعی ادویات، مزدوری اور ٹرانسپورٹ کے اخراجات مسلسل اس کی کمر توڑ رہے ہیں، دوسری طرف موسمیاتی تبدیلی، بے وقت بارشیں، سیلاب، پانی کی قلت اور فصلوں کی بیماریوں جیسے مسائل بھی اس کیلئے مستقل خطرہ بن چکے ہیں،ان حالات میں کسان کو اپنی پیداوار کی مناسب قیمت کی یقین دہانی نہ ہو تو اس کی محنت ایک ایسے جوئے میں تبدیل ہو جاتی ہے جس میں سرمایہ بھی اس کا، خطرہ بھی اس کا، مگر منافع کی ضمانت کسی اور کے پاس ہوتی ہے۔

گندم کی فصل کی مثال ہی لے لیجیے، کسان کئی ماہ تک زمین تیار کرتا، بیج بوتا، کھاد ڈالتا، پانی لگاتا اور فصل کی حفاظت کرتا ہے،اسے پہلے ہی معلوم نہیں ہوتا کہ کٹائی کے وقت حکومت خریداری کرے گی یا نہیں، سرکاری نرخ پر عمل درآمد ہوگا یا نہیں اور اسے اپنی پیداوار فروخت کرنے کیلئے کتنی دشواریوں کا سامنا کرنا پڑے گا، جب فصل تیار ہوتی ہے تو اگر سرکاری خریداری کا واضح نظام موجود نہ ہو تو کسان اپنی ضرورت پوری کرنے کیلئے آڑھتی یا نجی خریدار کے سامنے کم قیمت قبول کرنے پر مجبور ہو سکتا ہے،اس کے برعکس گندم کی قیمت بڑھنے کے بعد آٹا مہنگا ہو تو اس کا بوجھ عام شہری برداشت کرتا ہے، یوں کسان بھی پریشان، صارف بھی پریشان، لیکن قیمتوں کے اس پورے نظام میں اصل فائدہ کس کو ہوتا ہے؟ حکومت کو چاہیے کہ وہ محض بیانات دینے کے بجائے اعداد و شمار کی روشنی میں اس سوال کا جواب دے اور گندم کی خریداری، ذخیرہ اندوزی، ملوں کی لاگت اور منافع کی شفاف نگرانی یقینی بنائے۔

اسی طرح چینی کا معاملہ بھی گندم سے مختلف نہیں، جب ملک میں چینی کی پیداوار ملکی ضروریات سے زیادہ ہونے کا اندازہ لگایا جاتا ہے تو شوگر ملوں کی جانب سے برآمدات کی اجازت کا مطالبہ سامنے آتا ہے، حکومت برآمدات کی اجازت دیتے وقت ملکی ضروریات، موجودہ ذخائر، مستقبل کی کھپت اور اگلے پیداواری دور کے درمیان توازن قائم کرنے کی پابند ہے، اگر یہ توازن برقرار نہ رکھا جائے تو بعد میں قلت پیدا ہونے پر درآمدات کی ضرورت پیش آ جاتی ہے،اس سارے عمل میں ایک بنیادی سوال یہ بھی ہے کہ گنے کے کاشت کار کو اس کی پیداوار کی مناسب قیمت کتنی ملتی ہے اور چینی کی فروخت سے حاصل ہونے والے منافع میں اس کا حصہ کیا ہے؟ اگر چینی کی قیمتیں بڑھیں تو اس کا براہ راست اثر عام آدمی کے بجٹ پر پڑتا ہے، اسلئے ضروری ہے کہ شوگر ملوں کے مالی معاملات، گنے کی خریداری، چینی کے ذخائر اور برآمدات کے فیصلوں کو شفاف بنایا جائے۔یہ کہنا درست نہیں ہوگا کہ ہر برآمد یا درآمد لازماً کسی مافیا کو فائدہ پہنچانے کیلئےکی جاتی ہے، تاہم اگر پالیسیوں کے نتیجے میں بار بار مخصوص کاروباری حلقوں کو غیر معمولی فائدہ پہنچنے اور کسان و صارف کے نقصان کا تاثر پیدا ہو تو حکومت کی ذمہ داری ہے کہ وہ اس کی آزادانہ تحقیقات کرائے۔

کسان کیا چاہتا ہے؟ اس کا بنیادی مطالبہ ہے کہ گندم کی قیمت کا تعین محض سرکاری خواہش کے مطابق نہ کیا جائے بلکہ پیداواری لاگت، زرعی مداخل کی موجودہ قیمتوں اور کسان کے جائز منافع کو سامنے رکھا جائے،کیونکہ ڈیزل کی بلند قیمتوں نے ہل چلانے، زمین کی تیاری، تھریشنگ اور ٹرانسپورٹیشن کے اخراجات میں اضافہ کیا ہے، کھاد بھی کسان کی قوت خرید سے باہر ہوتی جا رہی ہے، ڈی اے پی کی ایک بوری کی قیمت 17500 روپے تک پہنچنے کا دعویٰ کیا جا رہا ہے، جبکہ گندم کی بوائی ابھی شروع نہیں ہوئی، بجلی کے بڑھتے نرخ بھی ٹیوب ویل اور دیگر زرعی ضروریات کو مہنگا کر رہے ہیں،ایسے حالات میں کسانوں کی جانب سے گندم کی قیمت پانچ ہزار روپے فی من مقرر کرنے کا مطالبہ سامنے آیا ہے، حکومت کو چاہیے کہ اس مطالبے کا سنجیدگی سے جائزہ لے اور پیداواری لاگت کا باقاعدہ حساب عوام کے سامنے رکھے، اگر پانچ ہزار روپے فی من کسان کی لاگت، مناسب منافع اور ملکی غذائی ضروریات کے درمیان قابل عمل توازن پیدا کرتا ہے تو اس پر عمل درآمد کا واضح طریقہ وضع کیا جائے، اگر حکومت کی رائے مختلف ہے تو اسے بھی ٹھوس اعداد و شمار کے ساتھ اپنا مؤقف پیش کرنا چاہیے۔

کسانوں کا دوسرا اہم مطالبہ کماد کی قیمت سات سو روپے فی من مقرر کرنے کا ہے۔ حکومت کو گنے کی پیداواری لاگت، کھاد، پانی، مزدوری اور ٹرانسپورٹ کے اخراجات کو سامنے رکھتے ہوئے اس مطالبے پر فیصلہ کرنا چاہیے۔ گنے کے کاشت کار کو مناسب قیمت نہ ملے تو وہ اگلے سیزن میں اس فصل سے گریز کر سکتا ہے، جس سے شوگر ملوں کی پیداوار اور دیہی معیشت بھی متاثر ہو سکتی ہے۔

خدارا،زرعی شعبے کو محض پیداوار حاصل کرنے کا ذریعہ سمجھنے کے بجائے اسے ملکی معیشت کی بنیاد تسلیم کریں ، کسان کی آمدن بڑھے گی تو وہ کھاد، بیج، زرعی مشینری، تعمیرات اور دیگر ضروریات پر خرچ کرے گا، اس سے دیہی منڈیوں میں کاروبار بڑھے گا، روزگار کے مواقع پیدا ہوں گے اور ملکی معیشت میں پیسے کی گردش بہتر ہوگی، اس کے برعکس کسان کی آمدن مسلسل کم ہوتی رہی تو اس کے اثرات پورے معاشرے پر مرتب ہوں گے۔