خیبر پختونخوا واحد آئینی اسمبلی تھی، مگر ان کو بھاتی نہیں تھی:محمود اچکزئی

اسلام آباد (خبر ایجنسیاں) قائدِ حزبِ اختلاف محمود خان اچکزئی نے کہا ہے کہ خیبر پختونخوا واحد اسمبلی تھی جو آئینی تھی، مگر انہیں بھاتی نہیں تھی۔اپوزیشن رہنماؤں کے ہمراہ پارلیمنٹ ہاؤس کے باہر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے محمود اچکزئی نے کہا کہ بینظیر بھٹو اور نواز شریف جیسے سیاسی رہنماؤں نے جمہوریت کیلئے کوششیں کیں۔

58 ٹو بی، جو پانچ اسمبلیاں نگل چکی تھی، ایک دن میں ختم ہوگئی۔ سیاسی رہنماؤں کی کوششوں سے لندن میں میثاقِ جمہوریت طے پایا۔محمود خان اچکزئی کا کہنا تھا کہ 2024ء کے انتخابات جس طرح ہوئے، وہ سب کے سامنے ہے۔ خیبر پختونخوا واحد اسمبلی تھی جو آئینی تھی، مگر انہیں بھاتی نہیں تھی۔انہوں نے کہا کہ مولانا فضل الرحمان نے بھی بتایا کہ کئی معاملات طے پا گئے تھے۔ ہم نے پارلیمان کو مضبوط کرنے کی بات کی۔

قائدِ حزبِ اختلاف نے بتایا کہ انتخابات کے انچارج رات ڈھائی بجے اپنی ٹیم کے ہمراہ ان کے گھر آئے تھے۔ وہ قالین کا تحفہ بھی لائے تھے، جس کے جواب میں انہوں نے قلم کا تحفہ دیا۔ محمود خان اچکزئی کے مطابق وہ پشین اور چمن سے قومی اسمبلی کا انتخاب لڑ رہے تھے اور چار صوبائی حلقوں سے بھی امیدوار تھے۔ وہ پشین کی ایک نشست پر مولانا فضل الرحمان کے امیدوار کے حق میں دستبردار ہوگئے تھے۔

محمود خان اچکزئی نے دعویٰ کیا کہ مولانا فضل الرحمان کے امیدوار کو ان کے 30 ہزار ووٹ ملے، جبکہ ان کی اپنی چار نشستیں چھین لی گئیں۔اس موقع پر سینیٹ میں قائدِ حزبِ اختلاف علامہ راجہ ناصر عباس نے کہا کہ گورنر راج ہو یا ایمرجنسی، اسے مارشل لا ہی سمجھیں۔ انہوں نے کہا کہ 12 اکتوبر کو دو تہائی اکثریت رکھنے والی جماعت کو گھر بھیجا گیا۔ 11 اکتوبر کو بھی وہی لوگ یہ سب کر رہے تھے جو 12 اکتوبر کو رو رہے تھے۔