سیئول (خبر ایجنسیاں) امریکا کی سابق نائب صدر کاملہ ہیرس نے اعتراف کیا ہے کہ غزہ میں اسرائیلی فوجی کارروائیاں رکوانے کیلئےان کی اور سابق صدر جو بائیڈن کی انتظامیہ کو فوری اور زیادہ مؤثر اقدامات کرنے چاہیے تھے۔
کاملہ ہیرس نے جنوبی کوریا میں ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ امریکا بعض اوقات انسانی حقوق اور بین الاقوامی قانون کے حوالے سے اپنی اخلاقی ذمہ داریاں پوری کرنے میں ناکام رہا ہے۔ ان کے مطابق غزہ میں اسرائیل کی فوجی کارروائیاں اس کی ایک نمایاں مثال ہیں۔
انہوں نے اسرائیلی وزیرِاعظم بنیامین نیتن یاہو کو کارروائیوں کے حوالے سے کھلی چھوٹ دینے پر صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ کو بھی تنقید کا نشانہ بنایا اور کہا کہ موجودہ امریکی انتظامیہ بھی غزہ کی صورتِ حال پر زیادہ مؤثر اقدامات کرنے میں ناکام رہی۔
کاملہ ہیرس کے بیان میں سابق امریکی انتظامیہ کے طرزِعمل پر بھی سوال اٹھایا گیا، جس کے دور میں جو بائیڈن صدر اور وہ نائب صدر تھیں۔ ان کے مطابق غزہ میں اسرائیلی فوجی کارروائیوں کے معاملے پر زیادہ تیزی اور مؤثر انداز میں اقدامات کیے جانے چاہیے تھے۔
نوٹ: فراہم کردہ متن میں خطاب کی تاریخ، تقریب کا نام اور کاملہ ہیرس کے اصل بیان کا مکمل حوالہ شامل نہیں۔ اس لیے خبر میں بیان کو فراہم کردہ معلومات کی حد تک پیش کیا گیا ہے۔

