کینیڈا میں بارشوں سے گندم اور دالوں کی فصلیں متاثر، کسانوں کے اخراجات بڑھ گئے

ونپیگ (رائٹرز) کینیڈا کے مغربی زرعی علاقوں میں ستمبر کے دوران غیر معمولی بارشوں کے باعث گندم، جئی اور دالوں کی فصلوں کو نقصان پہنچا ہے، جبکہ فصلوں کی کٹائی میں تاخیر اور معیار متاثر ہونے سے کسانوں کی آمدن میں کمی کا خدشہ پیدا ہو گیا ہے۔ زرعی ماہرین کے مطابق اس صورتِ حال کے اثرات کینیڈا کی زرعی برآمدات اور عالمی منڈی میں گندم کی رسد پر بھی پڑ سکتے ہیں۔

رائٹرز کی رپورٹ کے مطابق صوبوں سسکیچیوان اور مینی ٹوبا سمیت مغربی پریری علاقوں میں بارشوں نے فصلوں کی کٹائی کا معمول کا نظام متاثر کیا۔ ستمبر عام طور پر ان علاقوں میں فصلیں سمیٹنے کیلئے نسبتاً خشک مہینہ ہوتا ہے، لیکن رواں سال مسلسل بارشوں کے باعث کھیتوں میں مشینری چلانا مشکل ہو گیا اور کئی علاقوں میں کسان معمول سے کئی ہفتے پیچھے رہ گئے۔

سسکیچیوان میں ۲۱ ستمبر تک صرف ۴۱ فیصد فصل کی کٹائی مکمل ہو سکی تھی، جبکہ گزشتہ پانچ برس کے دوران اس تاریخ تک اوسطاً ۸۲ فیصد فصل کاٹی جا چکی ہوتی تھی۔ بعد ازاں موسم بہتر ہونے پر کٹائی میں تیزی آئی، تاہم فصل کو پہنچنے والا نقصان برقرار رہا اور متعدد کسانوں کو اپنی پیداوار کے معیار میں کمی کا سامنا کرنا پڑا۔

رپورٹ کے مطابق زیادہ نمی کے باعث گندم کے دانوں میں کونپلیں نکلنے، دانوں کا رنگ اور معیار متاثر ہونے اور دالوں، خصوصاً مسور، کی ظاہری حالت خراب ہونے کے مسائل سامنے آئے ہیں۔ ان خرابیوں کی وجہ سے بعض فصلوں کو اعلیٰ درجے سے کم درجے میں شمار کیے جانے کا خدشہ ہے، جس سے کسانوں کو منڈی میں کم قیمت مل سکتی ہے۔

مینی ٹوبا کے کسان ایرک میک لین نے بتایا کہ اگست میں ان کی گندم اور جئی کی فصلیں اچھی دکھائی دے رہی تھیں، لیکن بعد میں بارشوں کے باعث کچھ کھیتوں کی پیداوار کو شدید نقصان پہنچا۔ دوسری جانب بعض کسانوں کو گیلی گندم کو ذخیرہ کرنے کے قابل بنانے کیلئےاضافی خشک کرنا پڑ رہا ہے، جس سے ایندھن اور دیگر اخراجات میں اضافہ ہو رہا ہے۔

کینیڈا دنیا میں سخت گندم، کینولا اور دالوں کے بڑے برآمد کنندگان میں شامل ہے۔ اسلئے فصلوں کے معیار میں کمی صرف کسانوں تک محدود نہیں رہے گی بلکہ عالمی منڈی میں معیاری گندم اور دالوں کی دستیابی کو بھی متاثر کر سکتی ہے۔ یوکرین اور مشرقِ وسطیٰ میں جاری جنگوں کے باعث پہلے ہی عالمی رسد پر دباؤ موجود ہے، ایسے میں کینیڈا کی فصلوں کو پہنچنے والا نقصان قیمتوں میں اضافے کے خدشات بڑھا سکتا ہے۔

حکام اور زرعی صنعت کی جانب سے فصلوں کو پہنچنے والے نقصان کے تفصیلی تخمینے نومبر کے وسط میں سامنے آنے کی توقع ہے۔ اس وقت تک یہ واضح نہیں ہو سکے گا کہ بارشوں کے باعث کتنی پیداوار ضائع ہوئی اور کتنی فصل کم معیار کے باعث کم قیمت پر فروخت کرنا پڑے گی۔