کراچی (نمائندہ خصوصی) کراچی کے علاقے نارتھ کراچی، سیکٹر الیون سی ون میں گھر سے کینیڈین شہریت کے حامل بزرگ میاں بیوی کی لاشیں ملنے کے واقعے کی تحقیقات جاری ہیں۔ پوسٹ مارٹم میں دونوں کے سروں پر چوٹوں کے نشانات سامنے آئے ہیں، جبکہ شبہ ظاہر کیا جا رہا ہے کہ کسی بھاری چیز سے وار کرکے قتل کیا گیا۔
مقتولین کی شناخت محمد یامین اور ان کی اہلیہ نفیس اختر کے نام سے ہوئی ہے۔ پولیس کے مطابق دونوں کی عمریں تقریباً 65 سے 70 سال کے درمیان تھیں اور وہ کچھ عرصہ قبل کینیڈا سے پاکستان منتقل ہوئے تھے۔ وہ کراچی میں اپنا مکان فروخت کرنے کے لیے واپس آئے تھے۔
مقتول محمد یامین کے بھائی محمد انور کی مدعیت میں نامعلوم ملزمان کے خلاف مقدمہ درج کر لیا گیا ہے۔ مقدمے کے متن کے مطابق مقتولین کے مکان میں پہلے ان کی بہن رہائش پذیر تھیں، تاہم گھر خالی کرانے کے بعد اس کی مرمت اور تزئین و آرائش کا کام شروع کر دیا گیا تھا۔
مدعی کے مطابق واقعے کے روز صبح مقتول کی اہلیہ کے بھائی رضوان نے فون کرکے بتایا کہ وہ یامین کے گھر کے باہر موجود ہیں، لیکن کوئی دروازہ نہیں کھول رہا۔ بعدازاں شام کو متبادل چابی کے ذریعے دروازہ کھول کر گھر میں داخل ہوئے تو ٹی وی لاؤنج کے فرش پر محمد یامین اور ان کی اہلیہ کی خون میں لت پت لاشیں پڑی تھیں۔
پولیس حکام کے مطابق ابتدائی طور پر دونوں کو زہریلی چیز کھلانے یا پلانے کا شبہ بھی ظاہر کیا گیا تھا، تاہم ناک سے زیادہ خون بہنے کے باعث تیز دھار آلے کے استعمال کا امکان زیرِ غور آیا۔ پوسٹ مارٹم میں سروں پر چوٹوں کے نشانات سامنے آنے کے بعد کسی بھاری چیز سے وار کیے جانے کا شبہ ظاہر کیا گیا ہے۔ موت کی اصل وجہ پوسٹ مارٹم رپورٹ اور مزید تحقیقات کے بعد واضح ہو سکے گی۔
پولیس کا کہنا ہے کہ گھر میں مرمت کے کام کے باعث مزدوروں کی آمدورفت جاری تھی۔ تفتیشی حکام مرمت کرنے والے مزدوروں اور اطراف میں کام کرنے والے دیگر افراد سے پوچھ گچھ کر رہے ہیں، جبکہ گھر کے مختلف حصے کرائے پر دیے جانے کے حوالے سے بھی معلومات حاصل کی جا رہی ہیں۔
پولیس حکام کے مطابق گھر سے ڈکیتی کے شواہد نہیں ملے۔ لاشیں بظاہر 10 سے 15 گھنٹے پرانی معلوم ہوتی تھیں۔ واقعے کے محرکات اور ملزمان کی شناخت کے لیے مختلف پہلوؤں سے تحقیقات جاری ہیں۔

