میر رضا علی کیس: دوبارہ پوسٹ مارٹم کرانے کا فیصلہ، انصاف چاہتے ہیں: والدین

کراچی( خبر ایجنسیاں)کراچی کے علاقے گلستانِ جوہر سے مردہ حالت میں ملنے والے نوجوان میر رضا علی کے والدین نے انصاف کے حصول کیلئے بیٹے کا دوبارہ پوسٹ مارٹم کرانے کا فیصلہ کر لیا ہے۔

پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے میر رضا علی کی والدہ نے کہا کہ گزشتہ آٹھ سے دس دن ان کے خاندان کیلئے انتہائی کٹھن رہے۔ انہوں نے کہا کہ وہ انصاف کی تلاش میں ہیں اور ان کا بیٹا خودکشی نہیں کر سکتا تھا۔انہوں نے کہا، ’’دل پر پتھر رکھ کر فیصلہ کیا ہے کہ دوبارہ پوسٹ مارٹم کروائیں گے۔ جو میڈیکل بورڈ تشکیل دیا گیا ہے، اسے اپنا کام کرنے دیا جائے۔‘‘

میر رضا علی کے والد نے کہا کہ ڈاکٹر سمعیہ کی سربراہی میں قائم ٹیم کو ہی تحقیقات اور پوسٹ مارٹم کا عمل مکمل کرنے دیا جائے۔ انہوں نے کہا کہ وہ کسی دوسری ٹیم کو یہ ذمہ داری نہیں دیں گے اور اگر ڈاکٹر سمعیہ کی ٹیم کو ہٹایا گیا تو اس سے یہ تاثر پیدا ہوگا کہ میر رضا کے قاتلوں کو بچانے کی کوشش کی جا رہی ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ ان کا بیٹا تعلیم یافتہ تھا اور وہ خودکشی کا تصور بھی نہیں کر سکتا تھا۔

میر رضا علی خان 28 جولائی کو پاکستان ایمپلائز ہاؤسنگ سوسائٹی (پی ای سی ایچ ایس) سے لاپتا ہوئے تھے، جبکہ دو روز بعد ان کی لاش گلستانِ جوہر سے برآمد ہوئی۔ پولیس کے مطابق میر رضا علی صبح 4 بج کر 9 منٹ پر آن لائن ٹیکسی کے ذریعے گھر سے روانہ ہوئے تھے۔

پولیس حکام کا کہنا ہے کہ مقتول کی لاش انتہائی خراب حالت میں ملی اور ان کے سینے میں گولی لگی ہوئی تھی۔ پولیس کے مطابق لاش ملنے سے ایک روز قبل مقتول کے تمام سوشل میڈیا اکاؤنٹس بھی بند کر دیے گئے تھے۔

تفتیش کے سلسلے میں پولیس نے ٹیلی کام کمپنی سے مقتول کا فون ریکارڈ اور رابطوں کی تفصیلات طلب کر لی ہیں، جبکہ جس آن لائن ٹیکسی میں میر رضا علی نے سفر کیا تھا، اس کے ڈرائیور کو بھی شاملِ تفتیش کر لیا گیا ہے۔ ڈرائیور نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ اس نے میر رضا علی کو گلستانِ جوہر میں ان کے کچن پر اتارا تھا۔

میر رضا علی کے والد کے مطابق ان کے بیٹے کا 30 اگست کو گلشنِ اقبال کی بیت المکرم مسجد میں نکاح طے تھا اور وہ اپنی نئی زندگی کے آغاز پر بے حد خوش تھے۔