واشنگٹن / ٹورینس (بین الاقوامی خبر ایجنسیاں)امریکی شہر واشنگٹن میں وائٹ ہاؤس کے قریب ہفتے کے روز پیش آنے والے فائرنگ کے واقعے کے بعد کول ایلن پر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو قتل کرنے کی کوشش کا باقاعدہ الزام عائد کر دیا گیا ہے۔
پولیس کے مطابق پیر کے روز ملزم پر فردِ جرم عائد کی گئی جبکہ اس پر اسلحہ سے متعلق مزید الزامات بھی شامل ہیں۔ عدالت نے اسے ریمانڈ پر حراست میں رکھنے کا حکم دیا ہے۔ادھر کیلیفورنیا کے شہر ٹورینس میں واقع ملزم کے محلے کے رہائشی اس واقعے پر شدید حیران ہیں کہ جس شخص پر اتنے سنگین الزامات ہیں وہ ان کے درمیان رہتا تھا۔
ایک پڑوسی کے مطابق ملزم زیادہ تر خاموش رہتا تھا اور کبھی کبھار معمولی بات چیت ہوتی تھی۔ اس نے بتایا کہ ایک بار تیز ہوا میں اس کے گھر کا خیمہ گر گیا تھا جسے درست کرنے میں مدد کی گئی تھی۔ ایک اور پڑوسی نے بتایا کہ انہوں نے ایف بی آئی کو ملزم کے گھر پر چھاپہ مارتے ہوئے دیکھا جس پر پورا علاقہ حیرت میں پڑ گیا۔مقامی افراد کے مطابق ٹورینس ہمیشہ پُرامن علاقہ سمجھا جاتا ہے اور اس واقعے نے سب کو ہلا کر رکھ دیا ہے۔
تحقیقات کے مطابق کول ایلن نے 2017 میں کیلیفورنیا انسٹی ٹیوٹ آف ٹیکنالوجی سے انجینئرنگ کی ڈگری حاصل کی اور بعد ازاں ڈومنگیز ہلز کیلیفورنیا اسٹیٹ یونیورسٹی سے ماسٹرز مکمل کیا۔ وہ ٹیوشن ٹیچر اور ویڈیو گیم بنانے والا آزاد ڈویلپر بھی رہا ہے۔
تحقیقاتی اداروں کے مطابق ملزم نے مبینہ طور پر ٹرین کے ذریعے شکاگو اور پھر واشنگٹن کا سفر کیا اور اس کے پاس اسلحہ موجود تھا جو اس نے کیلیفورنیا میں قانونی طور پر خریدا تھا۔
تفتیش میں یہ بھی سامنے آیا ہے کہ اس نے ایک تحریر تیار کی تھی جس میں وہ خود کو “دوستانہ وفاقی حملہ آور” کے طور پر بیان کرتا تھا اور اس میں سرکاری حکام کو ترجیحی بنیادوں پر نشانہ بنانے کا ذکر بھی موجود تھا۔ذرائع کے مطابق اس نے یہ تحریر اپنے اہلِ خانہ کے ساتھ بھی شیئر کی تھی، جس کے بعد اس کے بھائی نے تشویش ظاہر کرتے ہوئے پولیس کو اطلاع دی۔

