پبلک ٹرانسپورٹ، ماحول دوست الیکٹرک بسوں کا تحفہ، مگر؟

موضوع تو اچھا تھا کہ پٹرولیم کی قلت اور شوگر مافیا کے روائتی مطالبے اور منظور نہ ہونے کی مایوسی پر لکھا جائے لیکن کئی روز سے سوچ اور چھوڑ کر آگے بڑھ جانے کی عادت ترک کرنے پر مجبور ہوں،ورنہ ایران، امریکہ جنگ او راس کے نتیجے میں سعودی عرب اور قطر کی امریکہ سے اربوں ڈالر کے اسلحہ کی خرید کا بھی یہی تقاضا ہے لیکن ہمارے اپنے بھی تو مسائل ہیں ان کی طرف برسراقتدار قوتوں کی توجہ دلانا بھی ضروری ہے۔

گزشتہ ہفتے کے دوران وزیراعظم محمد شہبازشریف نے توانائی بچت مہم کے دوران عوامی تعاون کی بہت تعریف کی ہے۔ اس تعاون میں اپنی گاڑیوں پر پبلک ٹرانسپورٹ کو ترجیح دینا بھی شامل تھا اور عوام (جو ہیں) نے یقینا مفت سفر کا لطف اٹھایا اور جوپبلک ٹرانسپورٹ میسر تھی اس میں ضرورت سے زیادہ مسافروں نے سفر کیا، اس کے باوجود نچلے اور نچلے متوسط طبقے کو ویگنوں کامحتاج ہونا پڑا اور کبڑا ہو کر بھی سفر کیا جس کی وجہ صرف اور صرف یہ ہے کہ آبادی کے تناسب سے ٹرانسپورٹ کی بہت قلت ہے۔ وزیراعلیٰ پنجاب اس حوالے سے سرتوڑ کوشش کررہی ہیں کہ نہ صرف عوام کو سستی ٹرانسپورٹ ملے بلکہ ماحولیات کی بہتری کے لئے یہ الیکٹرک بھی ہو، چنانچہ انہوں نے اعلان کیا ہے کہ پانچ سال کے دوران پنجاب میں پانچ ہزار الیکٹرک بس چلیں گی اور یہ سہولت ہر ضلع اور تحصیل تک پہنچائی جائے گی۔ لاہور میں یہ سہولت بہم پہنچانے کے بعد اب تک پانچ چھ مزید اضلاع میں بھی یہ بسیں رواں ہیں اور ہر شہر میں کرایہ مساوی یعنی 20روپے مسافر ہے۔ ماشاء اللہ سفر کرنے والے عوام خوش ہیں کہ ان کو سستی اور ٹھنڈی ٹرانسپورٹ میسر آ گئی ہے تاہم لاہور سمیت ان تمام شہروں کے شہریوں کی اکثریت اپنی محرومی کی بات کرتی ہے اور اس اکثریت کو اس اقلیت سے حسد محسوس ہونے لگا ہے جو اس جدید سہولت سے مستفید ہو رہی ہے جس کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ ان شہروں میں ضرورت سے بہت کم بسیں مہیا کی گئی ہیں، اس سلسلے میں اگر لاہور ہی کی مثال دی جائے تو یہ حقیقت سامنے آجاتی ہے کہ اس شہر سے ابتدا کی گئی اور اس کو دو روٹوں پر سولہ سولہ بسیں عنایت کی گئیں۔ اب یہ بسیں گرین ٹاؤن سے لاہور ریلوے سٹیشن اور ٹھوکر نیاز بیگ سے جلو تک سہولت بہم پہنچا رہی ہیں۔ پبلک آورز کے دوران یہ بھی ناکافی ہو جاتی ہیں۔

اب اگر ذرا غور کیا جائے تو مردم شماری کے مطابق لاہور کی آبادی ایک کروڑ سے متجاوز ہے اگرچہ حقیقی طور پر یہ قریباً دو کروڑ ہے کہ ہر روز لاکھوں لوگ دوسرے شہروں سے آتے اور واپس بھی جاتے ہیں۔ لاہور شہرکو اپنے اپنے ادوار میں پبلک ٹرانسپورٹ کی سہولت کا اعزاز حاصل رہا ہے۔ ایک دور میں یہاں اومنی بس سروس چلتی تھی اور بین الاضلاعی روٹوں پر گورنمنٹ ٹرانسپورٹ کمپنی کے نام سے آرام دہ سفر کی سہولت موجود تھی، پھر اسے ہماری خود غرضی، بددیانتی اور غفلت کھا گئی، ٹرانسپورٹ نہ صرف بند ہوئی بلکہ بسیں کوڑیوں کے مول بک گئیں یا کوڑا بنیں اور پرزے چوری ہوئے۔ طویل عرصہ تک شہری محروم رہے اور پھر آج کے وزیراعظم شہبازشریف کے دور میں لاہور میں ایک بڑا فلیٹ چلایاگیا اس میں دو سو سے زائد بسیں تھیں جبکہ دائیو کمپنی کو بھی لوکل روٹ چلانے کی اجازت دی گئی۔ یوں شہری مقامی طور پر بہتر سفری سہولتوں سے مستفید ہوئے۔ اس کے ساتھ چین کے تعاون سے ٹرین کا بھی آغاز ہو گیا اور میٹروبس کے ساتھ سپیڈو بسوں نے دائیو کی جگہ لے لی تاہم لاہور کی قسمت میں شاید مستقل سہولت نہیں۔ لاہور ٹرانسپورٹ کے نام سے دو سو سے زیادہ جو بسیں چل رہی تھیں ان کو نظر لگ گئی، اچانک ان میں کمی شروع ہو گئی اور ایک روز کسی اعلان یا اطلاع کے بغیر یہ بھی بند ہو کر ڈپو میں کھڑی ہو گئیں اور پھر وہی ہوا جو اومنی بس سروس کے ساتھ ہوا تھا پرزے چوری ہوئے اور بسیں ڈھانچہ بن گئیں، یہ ٹرانسپورٹ قرضے سے چلی تھی اب معلوم نہیں کہ وہ قرض بھی ادا ہو ا ہے کہ نہیں۔ ایک دور میں اراکین اسمبلی ایسے مسائل کی تلاش میں رہتے اور ایوان میں سوال اٹھاتے تھے لیکن آج کے دور میں یہ بھی ممکن نہیں رہا کہ منتخب نمائندوں کو اور کئی فکریں لاحق رہتی ہیں۔

یہ درست کہ لاہور کو ٹرین سروس کے علاوہ میٹروبس اور سپیڈو بھی دستیاب ہیں لیکن صورت حال یہ ہے کہ ٹرین اور میٹرو سے جو شہری مستفید ہوتے ہیں، ان کا تعلق پورے شہر سے نہیں، جہاں تک سپیڈو کا تعلق ہے تو یہ سولہ سال پرانی بسیں ہیں جو دائیو کنٹریکٹر کی وجہ سے گھسٹ گھسٹ کر چل رہی ہیں، ان کے اے سی آدھی سے بھی کم ہوا دیتے ہیں اور بس میں پسینہ بھی لازم ہے جبکہ کھٹ کھٹ اور کھڑکھڑ عجیب سماں بناتی ہے۔

ان حالات میں الیکٹرک بسیں یقینا ایک تحفہ ہیں اور مسافر / شہری وزیراعلی کو دعا دیتے اور تعریف بھی کرتے ہیں لیکن شہریوں کی بھاری ترین اکثریت تو مایوسی کا اظہارکرتی ہے کہ پرانی سپیڈو کی تبدیلی اور نئی الیکٹرک بسیں صرف دو روٹوں پر مہیا کرنے کے ساتھ شہر کے دیگر روٹوں پر بھی چلائی جاتیں تو یہ شہری سکھ کا سانس لیتے۔ ایک سنجیدہ، دانشور شہری کے مطابق دنیا کے دوسرے ممالک کی طرح پاکستان کے شہروں میں بھی لوگوں کو پبلک ٹرانسپورٹ استعمال کرنے کی عادت بنانا ہے تو اس کیلئے بسوں کی تعداد بڑھانا لازم ہے۔ بہترعمل یہ ہے کہ ضلع ضلع بیس سے تیس تک نئی الیکٹرک مہیا کرنے کی بجائے، ایک ایک شہر کی کم از کم 75فیصد ضرورت پوری کرکے پھر دوسرے شہر میں بھی ایسا ہی کیا جاتا، وزیراعلیٰ کو پھر سے غور فرمانا ہوگا اور ضروری ہے کہ اس مفید منصوبے میں ضروری ترمیم کرلی جائے اور پوری سہولت مہیا کی جائے۔تاکہ عوام کو درست سہولت میسر آ سکے،اس وقت ایران امریکہ کے درمیان جو انا پرستی جاری ہے اس کے اثرات بھی مرتب ہونا ہیں اور بچت مہم پھر سے شروع ہو گی تو سوال پبلک ٹرانسپورٹ کا آئے گا تب قلت کا شدید احساس ہوگا۔