اوٹاوا (نمائندہ خصوصی) کینیڈا نے بعض اہل پاکستانی ڈاکٹروں اور طبی ماہرین کیلئےورک پرمٹ کی درخواستوں پر 14 روز میں کارروائی کی سہولت متعارف کرا دی ہے، تاہم یہ مستقل رہائش (پی آر) کا نیا راستہ نہیں بلکہ ورک پرمٹ کی تیز رفتار پراسیسنگ ہے۔
کینیڈین حکومت کے مطابق یہ سہولت صرف ان امیدواروں کیلئے دستیاب ہوگی جو آن لائن درخواست دیں، انہیں کل وقتی اور غیر موسمی ملازمت کی پیشکش حاصل ہو، اور وہ درج ذیل تین قومی پیشہ ورانہ درجہ بندی (این او سی) میں شامل ہوں: کلینیکل لیبارٹری میڈیسن کے ماہرین (31100)، سرجری کے ماہرین (31101)، یا جنرل پریکٹشنرز اور فیملی فزیشنز (31102)۔
اس سہولت سے فائدہ اٹھانے کیلئے امیدوار کے پاس کسی کینیڈین صوبے یا علاقے کی جانب سے صوبائی نامزدگی پروگرام (پی این پی) کے تحت جاری کردہ سپورٹ لیٹر ہونا بھی لازمی ہے۔ اس مرحلے پر مستقل رہائش کی درخواست جمع کرانا ضروری نہیں۔
حکام کے مطابق درخواست کے ساتھ ملازمت کا معاہدہ یا ملازمت کا ثبوت، آفر آف ایمپلائمنٹ نمبر، لیبر مارکیٹ امپیکٹ اسیسمنٹ سے استثنیٰ کا کوڈ ٹی-13، آجر کی جانب سے ایمپلائر کمپلائنس فیس کی ادائیگی کا ثبوت اور پیشگی طبی معائنے (اپ فرنٹ میڈیکل ایگزام) کی رپورٹ بھی جمع کرانا ہوگی، جبکہ بعض ممالک کے درخواست گزاروں کیلئے پولیس کلیئرنس سرٹیفکیٹ اور دیگر مخصوص دستاویزات بھی درکار ہو سکتی ہیں۔
دریں اثنا سوشل میڈیا پر یہ دعویٰ گردش کر رہا ہے کہ “کینیڈا نے اہل پاکستانیوں کیلئے14 روزہ ریزیڈنسی (مستقل رہائش) کا راستہ متعارف کرا دیا ہے۔” تاہم کینیڈین حکومت کے اعلان کے مطابق یہ دعویٰ درست نہیں۔ حکومت نے کسی نئی 14 روزہ مستقل رہائش اسکیم کا اعلان نہیں کیا بلکہ صرف مخصوص طبی شعبوں سے تعلق رکھنے والے اہل ڈاکٹروں اور ماہرینِ صحت کے ورک پرمٹ کی درخواستوں کی 14 روز میں پراسیسنگ کی سہولت متعارف کرائی ہے۔

