ای او بی آئی کے معمر پنشنروں کی سُن لو!

ہمارے ملک میں مسائل کی کوئی کمی نہیں تو اس حوالے سے باخبر صحافیوں کی تعداد بھی شمار میں نہیں آتی اور اس پر مستزاد سوشل میڈیا ہے جو شتر بے مہار کی طرح کدھر سے کدھر چلا پھرتا ہے، حتیٰ کہ گزشتہ روز اسی میڈیا نے بد فال بھی منہ ے نکالی اور اس کے فیک ہونے کا اندازہ بھی ہو گیا کہ حوالے کے لئے ایک قومی ٹی وی کا لوگو بھی استعمال کیا گیا تھا، اس کے ذریعے پورے ملک میں فساد پھیلانے کی کوشش کی گئی تھی، مجھے معلوم نہیں کہ سائبرز کرائم ونگ والوں کی نظر ادھر پڑی یا نہیں، ابھی تک ایسی کوئی اطلاع نہیں کہ اس بدفال فیک خبر کا محاسبہ کیا گیا ہو یا شاید ان کو ہمارے کرکٹر رضوان ہی سے فرصت نہیں ملتی، یہ تو خبر ہے کہ رضوان ابھی تک آزاد ہے لیکن کیا معلوم کہ اسے بھی صحافی ”غوری“ کی طرح حوالات کی سیر کرا دی جائے۔ خیال تھا کہ اس حوالے سے کچھ لکھوں گا لیکن محترم انصار عباسی نے اس سلسلے میں ایک بہت مدلل کالم لکھ دیا ہے اسی طرح نئے صوبوں کے حوالے سے میرے اپنے خیالات اور نظریات ہیں کہ اس تجویز کی حمائت کہاں سے ہو رہی اور کون لوگ زیادہ پرجوش ہیں اور ان کے لئے اس تجویز پر عمل درآمد میں کیا فائدے پوشیدہ ہیں، اس حوالے سے آج برادرم سہیل وڑائچ نے بڑی تفصیل سے لکھ دیا ہے اور ان کو خبر کے لئے متعلقہ حلقوں سے رابطے کی بھی سہولت ہے۔ ان کی تحریر کے بہت سے حصے سے اتفاق کے باوجود بھی اختلاف کی گنجائش موجود ہے ان کا اشارہ جس طرف ہے میں کئی روز سے ان کے اور ان کی جماعت کے بارے میں لکھنا چاہتا تھا تاہم اب تاخیر لازم ہو گئی ہے کہ سندھ کے حوالے سے ایک بہت بڑے اہم پہلو کو نظر انداز کیا جا رہا ہے۔ انشاء اللہ موقع ملا تو عرض کر دوں گا۔

انہی حالات کی روشنی میں بزرگ حضرات کے اہم مسئلہ کے حوالے سے لکھنے کا مطالبہ کیا جا رہا تھا، اس لئے اسے ہی پورا کر دیتے ہیں اور یہ اہم ترین ایشو ای او بی آئی (EOBI)پنشنر حضرات کا ہے جو سوشل میڈیا پر بڑی پرجوش مہم چلائے ہوئے ہیں، اس مہم کے دوران ایک سے ایک بڑا انکشاف ہوتا ہے۔ پہلی بات تو یہ ہے کہ ای او بی آئی ایک بورڈ ہے جس کے اپنے قواعد ہیں اور اسے ٹرسٹ قرار دیا گیا ہے۔ اس محکمہ کے فیصلے اسی ٹرسٹی بورڈ نے کرنا ہوتے ہیں لیکن بڑے عرصہ سے اسے حقوق انسانیت کی وزارت سے منسلک کر دیا گیا ہے اس سے قبل یہ وزارت خزانہ کی مرہون منت تھی اس دور میں وزیر خزانہ اسحاق ڈار ہوتے تھے۔ وہ ای او بی آئی پنشنرز کے حوالے سے سوال ہی نہیں سنتے تھے دوبار تو میں نے اسلام آباد میں پریس کانفرنس کے بعد کوشش کی اور وہ سنی اَن سنی کرتے ہوئے چل دیئے۔

معمر پنشنر حضرات کا موقف ہے کہ ان کو آج کے اس مہنگائی کے زمانے میں ماہانہ پنشن گیارہ ہزار پانچ سو روپے (11500)دی جاتی ہے اور یہ ادائیگی کسی قومی خزانے یا محکمہ سے نہیں ہوتی یہ تو ان پنشنرحضرات کی زندگی بھر کی ماہانہ کٹوتی (دوران ملازمت) کی رقم سے دی جاتی ہے۔ یہ نظام 1976میں ذوالفقار علی بھٹو نے بنایا اور باقاعدہ قانون بنا کر ای او بی آئی ٹرسٹ بنایا، فارمولا یہ طے ہوا کہ جس ادارے (نجی+نیم سرکاری) میں ملازمین کی تعداد 25یا اس سے زیادہ ہو، ان کی ماہانہ تنخواہ میں سے تناسب سے ایک حصہ کاٹ لیا جائے اور آجر اپنے طے کردہ حصے کے مطابق اس کے ساتھ رقم ملا کر ادارے میں جمع کرائے، اس کے ساتھ ہی حکومت کو پابند کیا گیا کہ وہ بھی میچنگ گرانٹ دیا کرے یوں یہ تین حصہ جمع ہوتے رہیں اور جب رجسٹرڈ یا ڈونر ادارے کا ملازم ریٹائر ہو تو اسے اس فنڈ سے ماہانہ پنشن دی جایا کرے جسے بڑھاپے کی پنشن کہا گیا،یہ سلسلہ ایک ہزار روپے ماہوار سے شروع ہوا اور 1976ء سے اب ساڑھے گیارہ ہزار پر پہنچا ہے جو ان بوڑھے لوگوں کے لئے اونٹ کے منہ میں زیرہ ہے کہ مہنگائی بہت بڑھ چکی۔

اب ذرا غور فرمائیں کہ اس ادارے کی مجموعی مالی حالت اب سینکڑوں ارب روپے ہے، اثاثوں کی صور ت میں سات آٹھ سو ارب روپے سے زیادہ مالیت حاصل ہے جبکہ نقدی کی صورت میں چھ سو ارب روپے سے کہیں زیادہ رقم موجود ہے۔ پنشنروں کی مہم ہی کے دوران یہ بھی معلوم ہوا کہ اس ٹرسٹ کو چلانے کے لئے برسراقتدار حضرات نے درجنوں افسر بھرتی کر دیئے جن کو لاکھوں مشاہروں اور مراعات کی صورت میں دیئے جاتے ہیں جبکہ یہ حضرات ریٹائر ہوں تو ان کی پنشن 60،70ہزار روپے ماہانہ سے بھی زیادہ بنتی ہے اور یہ سب مزدور کی خون پسینے کی کمائی سے لی جاتی ہے، اربوں روپے کے فراڈ الگ ہیں، ایک سابق چیئرمین پانچ ارب روپے سے زیادہ رقم ڈکارنے کے باعث نیب کی حراست میں رہے اور پھر سیاسی اثر و رسوخ سے ضمانت کراکے ملک ہی چھوڑ گئے۔چند سال قبل یہ طے ہو گیا تھا کہ ای او بی آئی پنشن سرکار کی طرف سے مقررہ کردہ مزدور کی کم از کم اجرت کے مساوی ہوگی۔ وہ فیصلہ کہاں گیا کس کی نظر ہوا کچھ علم نہیں۔ اب یہ خبر گرم ہے کہ وفاقی وزیر موصوف کی تجویز ہے کہ مزدور کی کم از کم مقررہ ماہانہ تنخواہ کے چالیس فیصد کے تناسب سے پنشن دی جائے۔

محکمہ کے وفاقی وزیر گجرات والے چودھری شجاعت حسین کے صاحبزادے اور چودھری ظہور الٰہی (مرحوم) کے پوتے ہیں۔ ہر دو حضرات سے رپورٹر کی حیثیت سے طویل واسطہ رہا وہ دونوں ہمیشہ عام آدمی کی بات کرتے تھے تو محترم وزیر صاحب کو اپنے ان اجداد کے نقش قدم پر چلنا چاہیے اور پنشن مزدور کی سرکاری تنخواہ کے مساوی ہونا چاہیے۔

یاد رہے کہ زمانہ حال میں رجسٹرڈ اداروں کے حاضر ملازمین اور آجروں کی ماہانہ کٹوتی بدستور ہر ماہ جمع ہورہی ہے۔