بیلی وِل(ایسوسی ایٹڈ پریس) کینیڈا کے صوبے اونٹاریو کے شہر بیلی وِل میں یوم کپور کے موقع پر یہودی عبادت گاہ کے باہر پولیس اہلکار پر فائرنگ کے بعد پولیس اور مسلح شخص کے درمیان فائرنگ کے تبادلے میں 30 تک گولیاں چلیں، واقعے میں حملہ آور اور پولیس اہلکار زخمی ہوگئے۔
اونٹاریو کی پولیس نگران تنظیم کے مطابق 29 سالہ شخص شاٹ گن لے کر اتوار کی شام تقریباً 7 بجے سنز آف جیکب یہودی عبادت گاہ کے باہر پہنچا اور وہاں تعینات پولیس اہلکار پر فائرنگ کردی، جس پر اہلکار نے جوابی فائرنگ کی، بعد ازاں ایک دوسرے پولیس اہلکار نے موقع پر پہنچ کر فائرنگ کی۔
بیلی وِل پولیس کی نائب سربراہ شیری میکس نے مبینہ حملہ آور کی شناخت قریبی شہر کوئنٹ ویسٹ کے رہائشی شان وارڈ جبکہ زخمی پولیس اہلکار کی شناخت کانسٹیبل جیف اسمتھ کے نام سے کی ہے، جو پولیس فورس میں 13 سال سے خدمات انجام دے رہے ہیں۔
پولیس نگران تنظیم کی ترجمان کرسٹی ڈینیٹ کے مطابق فائرنگ کے نتیجے میں قریبی گاڑیوں اور گھروں میں گولیوں کے سوراخ ہوگئے، تاہم پیر تک یہ فرانزک طور پر تصدیق نہیں ہوسکی تھی کہ عبادت گاہ کو بھی گولی لگی یا نہیں۔
کرسٹی ڈینیٹ نے بتایا کہ فائرنگ کا علاقہ عبادت گاہ سے تقریباً نصف بلاک تک پھیلا ہوا تھا۔
فائرنگ کے وقت عبادت گاہ کے اندر تقریباً 24 افراد موجود تھے۔ عبادت گاہ میں موجود ڈگلس لوبل نے بتایا کہ فائرنگ 2 سے 3 منٹ تک جاری رہی جو انہیں ایک طویل عرصے جیسی محسوس ہوئی۔
ڈگلس لوبل کے مطابق ایک پولیس اہلکار بعد میں عبادت گاہ کے اندر آیا اور دریافت کیا کہ آیا کوئی زخمی ہوا ہے، تاہم اندر موجود کسی شخص کو نقصان نہیں پہنچا۔زخمی حملہ آور کو جان لیوا حالت میں اسپتال منتقل کیا گیا جبکہ کانسٹیبل جیف اسمتھ شدید زخمی ہوئے اور انتہائی نگہداشت کے وارڈ میں زیر علاج ہیں، جہاں ان کی حالت مستحکم بتائی گئی ہے۔
پولیس نے تاحال فائرنگ کے محرکات کا تعین نہیں کیا اور نہ ہی یہ بتایا ہے کہ عبادت گاہ یا یہودی برادری کو خاص طور پر نشانہ بنایا گیا تھا۔اونٹاریو کی پولیس نگران تنظیم پولیس اہلکاروں کی کارروائی کی تحقیقات کر رہی ہے جبکہ بیلی وِل پولیس کی الگ مجرمانہ تحقیقات میں حملہ آور کے اقدامات اور ممکنہ محرکات کا جائزہ لیا جارہا ہے۔
یوم کپور کے موقع پر یہودی عبادت گاہ کے باہر فائرنگ کے واقعے نے بیلی وِل کی یہودی برادری کو متاثر کیا ہے، نفرت انگیزی، یہود دشمنی اور تشدد کیلئے معاشرے میں کوئی جگہ نہیں، ہر شخص کو عبادت گاہ میں خود کو محفوظ محسوس کرنے کا حق حاصل ہے۔
فائرنگ کے بعد سنز آف جیکب عبادت گاہ نے یوم کپور کی باقی مذہبی تقریبات منسوخ کردیں جبکہ پولیس نے مذہبی مقامات کے اطراف گشت اور نفری بڑھا دی۔
پولیس کا کہنا ہے کہ عوام کے لیے کسی مسلسل خطرے کی اطلاع نہیں ہے۔بیلی وِل کے میئر نیل ایلس نے کہا کہ ابھی یہ کہنا قبل از وقت ہے کہ فائرنگ نفرت پر مبنی جرم تھی تاہم واقعے کا مقام اور وقت ایسے عوامل ہیں جو اس امکان کی جانب اشارہ کرتے ہیں۔
کینیڈین وزیراعظم مارک کارنی نے فائرنگ کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ یہودیوں کو محفوظ ماحول میں عبادت کرنے اور آزادانہ، کھلے اور باوقار انداز میں اپنی زندگی گزارنے کا حق حاصل ہے۔ انہوں نے کہا کہ وفاقی حکومت قانون نافذ کرنے والے اداروں کو ذمہ دار شخص کو قانون کے کٹہرے میں لانے کے لیے تعاون فراہم کرے گی۔
یہ واقعہ ایسے وقت پیش آیا ہے جب کینیڈا میں یہود دشمنی کے واقعات میں اضافے پر وزیراعظم مارک کارنی پہلے ہی تشویش کا اظہار کرچکے ہیں۔ انہوں نے یہودی اسکولوں پر فائرنگ، یہودی عبادت گاہوں پر آتش گیر حملوں اور کمیونٹی مراکز و یہودی ملکیتی کاروباروں پر حملوں کا حوالہ بھی دیا تھا۔

