ابلاغ کا شعبہ زمانہ قدیم ہی سے مشکل رہا ہے کہ اس کے ذریعے آگاہی ہوتی ہے اگر کسی ادارے، ریاست یا جماعت کا یہ شعبہ مضبوط اور اصولوں کی بنیاد پر ہو تو اس کے نتائج بھی بہتر ہوتے ہیں۔ کہا جاتا ہے کہ جھوٹ کے پاؤں نہیں ہوتے اور سچ ہمیشہ کامران ہوتا ہے اور ابلاغی عملے اور شعبہ کی یہی کامیابی ہے کہ وہ مصلحت کا شکار ہوئے بغیر جھوٹ کو سچ سے شکست دے اور یہ عمل ازل سے ہے اور ابد تک رہے گا، فرق یہ ہوگا کہ اس شعبہ میں شامل حضرات کا ویژن کیا ہے۔
آج کا دور الیکٹرونک سے بڑھ کر اے آئی (مصنوعی ذہانت) تک پھیل گیا جبکہ سوشل میڈیا ایک بالکل ہی شتر بے مہار ہے اور جھوٹ کا پلڑا بھاری دکھائی دینے لگا ہے،اس سب کے باوجود میں اب بھی یہی سمجھتا ہوں کہ سچ سچ ہی ہوتا ہے اور جھوٹ کو اس سے مات دی جا سکتی ہے، اسی بنیاد پر آج کے معاشروں میں شعبہ ابلاغ کی بڑی اہمیت ہے اور ریاستوں اور ممالک کو بھی اس کی مہارت کی ضرورت ہوتی ہے بلکہ شدت سے ہوتی ہے۔ میرا تجربہ یہ ہے کہ پروپیگنڈے کے محاذ سے ماوراء سچ کا ابلاغ آج بھی بہت موثر ہے اس سلسلے میں ذاتی طور پر آج کے شعبہ انٹرسروسز پبلک ریلیشنز کا قائل ہوں جو بڑے محتاط اور مدلل طریقے سے جھوٹ کا پردہ سچ سے چاک کررہا ہے لیکن دکھ یہ ہے کہ آج کے اس جدید دور میں بھی جب سیٹلائٹ سے ممالک کی جاسوسی ہوتی اور حالات کا جائزہ لیا جاتا ہے خبرو ں کو دبانے یا ان کا رخ تبدیل کرنے کا کوئی زیادہ فائدہ نہیں ہوتا بلکہ سچ برسرزمین ہی نہیں بلکہ پروپیگنڈہ کے سامنے بھی موثر ہتھیار ہوتا ہے۔
ان دنوں ملک کے حالات جو ہیں چند روز پہلے جیسے تھے ان کے حوالے سے ہمارے مہربان تجزیہ نگار بہت کچھ کہہ چکے اور کہتے چلے جا رہے ہیں اور ایسی ہی کیفیت مہربان رکھنے والوں کی بھی ہے ابھی تھوڑا عرصہ قبل تحریر کے لئے گوگل کا سہارا لیا جاتا تھا لیکن اب تو بات اے آئی تک بڑھ چکی، ہر دو کا غلط استعمال ہو رہا ہے اور یہی ممالک کی انتظامیہ کا سردرد اور مسئلہ ہے کیونکہ مختلف حوالوں سے جھوٹ اور سچ کا اتنا پھیلاؤ ہوگیا ہے کہ سچ کی تلاش بہت مشکل کام ہو گیا ہے اس کے باوجود سچ تو سچ ہے جو اپنا آپ منوا لیتا ہے۔ اس گزارش کا مقصد صرف یہ ہے کہ ملک کے موجودہ حالات میں بہت ضروری ہے کہ سچ کو پورے جدید نظام کے حوالے سے اس طرح سامنے لایا جائے کہ جھوٹ والوں کو مات ہو جائے۔
ان دنوں بڑا مسئلہ خیبرپختونخوا میں گورنر راج اور ایمرجنسی کا نفاذ ہے اور اس حوالے سے ہر قسم کے میڈیا میں بہت کچھ آ رہا ہے۔ دکھ ہے کہ سوشل میڈیا کا بدنیتی سے استعمال کرنے والے ان دنوں چھائے نظر آتے ہیں اور سچ دبا دبا محسوس ہوتا ہے، اس سلسلے میں عرض ہے کہ سرکاری سطح کے ہر محاذ پر ان افواہوں اور جھوٹ کا مقابلہ سچ سے ہونا چاہیے۔ خیبرپختونخوا میں ایمرجنسی اور گورنر راج کے نفاذ جیسے عمل کے لئے حکومت کی طرف سے بڑے مضبوط جواز اور ثبوت دیئے جا رہے ہیں، منگل کے روز سینٹ میں وفاقی وزیر داخلہ نے کئی انکشاف کئے اور ایمرجنسی سے قبل ہونے والے مذاکرات کی تفصیل بھی بتا دی اور یہ دعویٰ بھی کیا کہ وہ بعض اراکین اور دہشت گردوں کے درمیان تعلقات کے ثبوت بھی پیش کردیں گے۔
ان حالات میں سوشل میڈیا پر جو اودھم برپا ہے اس کا موثر توڑ نہیں ہو رہا اور نہ جواب دیا جا رہا ہے، صرف بیان کے ذریعے وضاحت کی کوشش کافی نہیں بلکہ عملی طور پر ابلاغ سچ پر مبنی اور موثر ہونا چاہیے، اس کیلئےضروری ہے کہ حقیقی خبر سرکاری ذرائع سے سامنے آئے۔ ایمرجنسی اور گورنر راج کے نفاذ کا جو جواز پیش کیا جا رہا اور حالات بتائے جا رہے تھے اور ہیں، ان سے صاف ظاہر تھاکہ جب بھی یہ کارروائی یا ایکشن ہوگا تو جوابی طور پر ردعمل ہوگا، اب یہ الگ بات ہے کہ ردعمل کتنا ہونا تھا، اگر تو پی ٹی آئی کے بیانات کو دیکھیں تو خیبرپختونخوا میں پورے صوبے کو سڑکوں پر نکل آنا چاہیے تھا، نہ تو یہ ہوا اور نہ ہی ممکن ہے کہ احتجاج زیادہ وسیع پیمانے پر ہو، تاہم یہ بھی ممکن نہیں تھا کہ بالکل ہی خاموشی چھا جاتی اور مٹھائیاں تقسیم کرنے والا عمل پورے صوبے میں ہوتا اس مقام پر نئے انتظام کی طرف سے ابلاغ کے شعبہ کا امتحان تھا، میں سمجھتا ہوں کہ اگر نئے انتظام والوں کی طرف سے مختلف مقامات پر احتجاجی مظاہروں اور ان کے جواب میں انتظامی کارروائی کی خبر مناسب طریقے سے عوام تک پہنچائی جاتی تو یہ زیادہ موثر ہوتا اور حقائق و سچ خود بولنے لگ جاتے، لیکن دکھ ہوا کہ اس میدان میں سوشل میڈیا کا جھوٹ پھیلا ہوا ہے۔ مصنوعی ذہانت اور پرانے اجتماعات کی ویڈیوز ایڈٹ کرکے چلائی جا رہی ہیں، ان کے مقابلے میں عملی میدان سے خبریں سامنے نہیں آ رہیں یا پھر دب رہی ہیں۔ بہتر ہوتا کہ اس سلسلے میں نئی انتظامیہ کے شعبہ ابلاغ اور آئی ایس پی آر کے درمیان تعاون ہوتا اور حقائق پر مبنی حالات سے عوا م کو آگاہ رکھا جاتا، جیسا کہ آئی ایس پی آر کی طرف سے دہشت گردوں سے مقابلے کی خبر نشر کی جاتی اور خوارج کی ہلاکت کے ساتھ مقابلے میں اگر کوئی اہلکار شہید ہوتو اس کی خبر بھی ساتھ دی جاتی ہے خبر کا متن احتیاط سے مرتب ہوتا ہے اس سلسلے میں ایک مثال ضلع خیبر کی معروف مارکیٹ(علاقے) باڑہ کی دے سکتا ہوں۔ سوشل میڈیا پر اس احتجاج کے حوالے سے بہت زیادہ پروپیگنڈہ کیا گیا۔ اس کے جواب میں انسپکٹر جنرل پولیس نے دو روز بعد ایک بیان میں خبر دی کہ باڑہ میں امن و امان خراب کرنے پر قابو پا لیا گیا ہے۔ پچاس کے قریب شرپسند گرفتار بھی کئے گئے ہیں، شاید یہ تاثر احتیاط کی بناء پر ہو لیکن مخالف سوشل میڈیا تو اس سے پہلے طوفان اٹھا چکا تھا اس لئے گزارش ہے کہ بیانات اپنی جگہ، ان کی اہمیت دوسرے حوالے سے مسلم ہے لیکن واقعہ کی خبر کو روکنا یا اس میں زیادہ تاخیر کرنا مناسب نہیں، بہتر عمل یہ ہے کہ حقائق پر مبنی خبر خود مہیا کی جائے، احتیاط سے منع نہیں کرتا۔

