جماعت اسلامی کے امیر حافظ نعیم الرحمن نے اراکین شوریٰ سے مشاورت کے بعد پٹرولیم لیوی کے خلاف جاری لانگ مارچ موخر کر دیا ہے۔ امیر جماعت کے مطابق وزیراعظم محمد شہبازشریف نے نیویارک سے فون کیا اور لانگ مارچ روکنے کی اپیل کی۔ وزیراعظم نے یقین دلایا کہ اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اجلا س کی مصروفیات سے فارغ ہوکر وطن واپس آئیں گے تو عوام کیلئے اور رعائت کا اعلان کریں گے۔ حافظ نعیم الرحمن نے شوریٰ کی اجازت کا ذکر کیا اور باقاعدہ مشورے کے بعد اکتوبر کے پہلے ہفتے تک مارچ روک دیا۔ ان کے مطابق 36شہروں میں دھرنے جاری رہیں گے اور اگر مثبت اور قابل قبول حل نہ نکلا تو لانگ مارچ پھر سے شروع کر دیا جائے گاجو ملتان سے شروع ہو کر اسلام آباد کی طرف جائے گا، امیر جماعت کے مطابق جماعت اسلامی نے دھرنے اور لانگ مارچ کا فیصلہ کسی سیاسی مقصد کیلئے نہیں کیا۔ عوام کی بہتری کے لئے کیا ہے، حکومت کولیوی بھتہ ختم کرنا ہوگا۔
جماعت اسلامی کے اس فیصلے کا تاثر شدت پسند حضرات کو پسند نہیں آیا اور وہ روایت کے مطابق تنقید کررہے ہیں۔ صبح ایک صاحب نے فرمایا چھوڑیں جماعت تو خود مسلم لیگ ن کی اپنی جماعت ہے۔ یہ جواب میری اس بات کا تھا کہ محاذ آرائی اچھی بات نہیں کہ ایسے ماحول میں سرکاری مشینری مصروف ہوجاتی ہے اور ضرر رساں ذہن ایسے موقع سے فائدہ اٹھاتے ہیں اور من مانی کرنے لگتے ہیں۔ میں نے تو یہ بھی توقع کی کہ تحریک انصاف اور حکومت کے درمیان بھی کوئی باعزت راستہ نکل آئے گا،اگرچہ اب تک کی اطلاعات کے مطابق دونوں طرف سے تیر اندازی جاری ہے، حالانکہ سینٹ میں قائد حزب اختلاف علامہ ناصر عباس اور تحریک انصاف کے چیئرمین بیرسٹر گوہر خان کی طرف سے مذاکرات کی پیشکش کی گئی۔ علامہ ناصر عباس نے کہا کہ وزیراعظم اپنی ٹیم بنائیں اور اپوزیشن اپنی طرف سے وفد دے دونوں میں بات چیت سے مسائل حل کئے جائیں، حکومت کی طرف سے وفاقی وزیرپارلیمانی امور طارق فضل چودھری کی طرف سے اسے خوش آمدید بھی کہا گیا لیکن ابھی تک دونوں اطراف کے خوش کن بیان ہی سامنے ہیں لیکن عملی صورت نہیں نکلی جبکہ شدت پسند عناصر مسلسل مار دھاڑ میں لگے ہوئے ہیں۔ تحریک انصاف کی طرف سے لانگ مارچ کے علمبردار سہیل آفریدی اور ان کے ہمنوا زور دار بیان بازی کرتے چلے جا رہے ہیں اور دوسری طرف سے اراکین وفاقی کابینہ بھی دھمکی آمیز باتیں کررہے ہیں۔
جہاں تک ملک اور عوام کے مسائل کا ذکر ہے تو یہ قطعی خوش کن نہیں ہیں۔ آئے روز کی مہنگائی نے عوام کی کمر توڑ دی ہے۔ بجلی اور گیس کے علاوہ دوسری ضروریات زندگی کی قیمتوں نے ریکارڈ بنانا شروع کر رکھے ہیں اگرچہ حکمران مطمئن ہیں کہ وہ معیشت کو سنبھال کر بڑے بڑے ترقیاتی کام کررہے ہیں لیکن عوام کو روزمرہ پیش آنے والے مسائل نے ان کی کمرتوڑ دی ہے، بات یہیں تک نہیں بلکہ اس ملک میں جسے موقع ملے وہ اپنا کام دکھا دیتا ہے۔
حال ہی میں یہ واقع بھی پیش آیا کہ ڈپٹی کمشنر کی طرف سے عمران خان کی ایک ہمشیرہ علیمہ خان کی نظر بندی کے احکام جاری کئے گئے اور پولیس نے ان کو 3ایم پی او کے تحت حراست میں لے لیا، اس کے بعد غالباً یاد آیا یا یاد دلایا گیا تو پھر دوسری دو بہنوں کی نظر بندی کے احکام بھی جاری کئے گئے عملدرآمد کرنے والے اس سے بھی تیز نکلے اور ان کو خیال ہوا کہ شائد ”پورا ٹبر“ ہی بند کرنا ہے تو انہوں نے نورین نیازی کی صاحبزادی کو بھی شامل کر لیا، اس بچی کو شور کے بعد چھوڑ دیا گیا کہ انکے آرڈر نہیں تھے۔ میں نے یہ یوں عرض کیا کہ دہائیوں سے تحریکوں، مظاہروں اور جھڑپوں کی کوریج کرتے یہ تجربہ ہے کہ گیہوں کیساتھ گھن والی مثال ایسے معاملات میں ہی پیش آتی ہے کہ پولیس شاہ سے زیادہ شاہ کی وفاداری ثابت ہوتی ہے۔
تحریک انصاف کی طرف سے لانگ مارچ اور اس سے قبل سٹریٹ موومنٹ ایسے مسائل کے لئے نہیں جن کا تعلق عام آدمی سے ہو۔ یہ تحریک بانی جماعت عمران خان کی رہائی کے لئے شروع کی گئی اور اس میں ابھی سے شدت نظر آ رہی ہے جبکہ تحریکی رہنماؤں کی طرف سے امن کی بات کی جاتی ہے۔ تجربہ شاہد ہے کہ مظاہرہ یا جلوس کتنی ہی نیک نیتی کے اظہار سے شروع کیا جائے اور امن کی ضمانت دی جائے لیکن ایسا ہوتا نہیں کہ ایسے مظاہروں اور جلوسوں میں جوشیلے بھی بہت ہوتے ہیں اور پھر اس امکان کو بھی رد نہیں کیا جا سکتا کہ امن و امان کو خراب کرنے والے شرپسند اپنا مقصد حاصل کرنے کے لئے ایسے مظاہروں میں شامل ہو کر شرارت کریں۔
بہتر عمل تو اب بھی یہی ہے کہ وزیراعظم کی طرف سے بات چیت کی ایک سے زیادہ بار دعوت اور اب گوہر خان اور علامہ ناصر عباس نے جو پیش کش کی اس سے فائدہ اٹھایا جائے اور میز پر بیٹھ کر معاملات طے کئے جائیں دونوں اطراف سے شدت کا مظاہرہ نہ کیا جائے، لیکن کیا کریں کہ باخبر صحافیوں کے مطابق پس پردہ رابطے ہوئے اور بات چیت ہوئی لیکن بانی کی رہائی پر بات اٹک گئی۔ سرکاری موقف ہے کہ رہائی عدالتوں پر منحصر ہے جبکہ تحریک انصاف والے غیر مشروط رہائی کا مطالبہ کررہے تھے اب بات یہاں تک آ گئی ہے کہ عمران خان اور ان کی اہلیہ کو علاج کے لئے نجی ہسپتال میں داخل کرا دیا جائے، ہر دو طرف سے مشکل موقف کی وجہ سے بات نہیں بن رہی۔
صورت حال بڑی پیچیدہ سی ہے اگرچہ مجھے خوش فہمی ہے کہ جوش پر ہوش غالب آئیگا لیکن جو شدت نظر آ رہی ہے اس سے ملک کو ناقابلِ تلافی نقصان پہنچنے کا اندیشہ ہے، اسلئے عرض ہے کہ پاسبان عقل کوآواز دیں۔

