نئی دہلی (رائٹرز، اے ایف پی) بھارتی اپوزیشن جماعتوں نے کانگریس رہنما راہول گاندھی کی قیادت میں سپریم کورٹ کی جانب مارچ کیا اور چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار سے استعفے کا مطالبہ کیا ہے۔ احتجاج میں کاکروچ جنتا پارٹی اور دیگر سیاسی و طلبہ تنظیموں کے کارکن بھی شریک ہوئے۔
اپوزیشن جماعتوں نے چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار پر الزام عائد کیا ہے کہ انتخابی فہرستوں میں تبدیلی کے ذریعے حکمران جماعت بھارتیہ جنتا پارٹی کو فائدہ پہنچایا جا رہا ہے اور 13 کروڑ سے زائد ووٹروں کے نام فہرستوں سے خارج کیے گئے ہیں۔ تاہم الیکشن کمیشن نے انتخابی عمل میں جانبداری اور بے ضابطگیوں کے الزامات مسترد کردیے ہیں۔
راہول گاندھی اور اپوزیشن رہنماؤں نے چیف جسٹس سوریا کانت سے ملاقات کرکے اپنے تحفظات پیش کرنے کی درخواست کی تھی، تاہم چیف جسٹس نے ملاقات سے انکار کرتے ہوئے کہا کہ متعلقہ معاملات پہلے ہی عدالت کے سامنے ہیں۔ انہوں نے اپوزیشن کو درخواست دائر کرنے کا راستہ اختیار کرنے کی ہدایت کی۔
دوسری جانب بھارتی دارالحکومت نئی دہلی میں احتجاج کے پیش نظر سیکیورٹی سخت کردی گئی۔ حکام نے چھ میٹرو اسٹیشنوں پر آمد و رفت بند کردی جبکہ متعدد سڑکوں پر ٹریفک محدود کردی گئی۔ پولیس اور سیکیورٹی اہلکاروں کی بڑی تعداد تعینات کی گئی۔
رائٹرز کے مطابق دہلی پولیس نے تاریخی احتجاجی مقام جنتر منتر کو بھی مظاہروں کیلئےمختص مقامات کی فہرست سے خارج کردیا ہے اور احتجاج کے لیے تین نئے مقامات مقرر کیے ہیں۔

