اسلام آباد (نمائندہ خصوصی) سینیٹ نے بھی قومی اسمبلی کے بعد خیبر پختونخوا میں ایمرجنسی کے نفاذ کی قرارداد کثرتِ رائے سے منظور کرلی، پاکستان تحریک انصاف کے ارکان نے قرارداد کی مخالفت کرتے ہوئے ایوان سے واک آؤٹ کیا اور اس کے خلاف نعرے لگائے۔ اس طرح پارلیمنٹ کے دونوں ایوانوں نے صوبے میں ایمرجنسی کے نفاذ کی توثیق کردی۔
سینیٹ کا اجلاس چیئرمین یوسف رضا گیلانی کی زیر صدارت ہوا، جس میں خیبر پختونخوا میں ایمرجنسی کے نفاذ کے معاملے پر بحث کی گئی۔ وفاقی وزیر برائے پارلیمانی امور طارق فضل چوہدری نے ایمرجنسی کے نفاذ کی منظوری سے متعلق قرارداد پیش کی، اپوزیشن نے احتجاج کیا اور اس کی مخالفت کرتے ہوئے ایوان سے واک آؤٹ کیا۔

اجلاس کے دوران وفاقی وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ نے کہا کہ اگر اپوزیشن چاہتی ہے کہ بحث کے بغیر قرارداد پر ووٹنگ کروا دی جائے تو ایسا کیا جاسکتا ہے، تاہم اس معاملے پر سینیٹ میں گزشتہ روز بھی بات ہوئی تھی۔
انہوں نے کہا کہ ایمرجنسی کے معاملے پر بحث جاری رکھی جائے گی کیونکہ یہ آئینی تقاضا ہے۔ ایمرجنسی کے نفاذ سے متعلق قرارداد کی نقل ارکان کی نشستوں پر رکھ دی گئی ہے، جبکہ اپوزیشن ارکان کی جانب سے ایمرجنسی مسترد کرنے کی قراردادیں بھی سامنے آئی ہیں۔
اعظم نذیر تارڑ کا کہنا تھا کہ اپوزیشن کی قرارداد ایوان میں پیش نہیں ہوسکتی اور اپوزیشن حکومتی قرارداد کو مسترد کرسکتی ہے۔چیئرمین سینیٹ یوسف رضا گیلانی نے کہا کہ وہ اس معاملے پر ایوان کے دیگر ارکان کو بھی سننا چاہتے ہیں۔ بعدازاں سینیٹ کا اجلاس جمعہ کی صبح ساڑھے دس بجے تک ملتوی کردیا گیا۔
اس سے قبل قومی اسمبلی نے بھی خیبر پختونخوا میں ایمرجنسی کے نفاذ کی قرارداد کثرتِ رائے سے منظور کرلی تھی۔ قرارداد وفاقی وزیر برائے پارلیمانی امور طارق فضل چوہدری نے پیش کی، جس پر حکومت اور اپوزیشن کے ارکان نے چار گھنٹے سے زائد بحث کی۔
قومی اسمبلی میں قرارداد کی منظوری کے موقع پر اپوزیشن نے احتجاج کیا اور نعرے لگائے، جبکہ سینیٹ میں پاکستان تحریک انصاف کے ارکان نے بھی فیصلے کے خلاف احتجاج کرتے ہوئے واک آؤٹ کیا۔

