صدر پاکستان آصف علی زرداری کے بارے میں ہمیشہ سے مثبت خبریں کم اور منفی زیادہ آتی ہیں۔ صدر زرداری کا سب سیاستدانوں سے الگ، اپنے خلاف خبروں پر ردعمل انتہائی مختلف اور عجیب و غریب ہوتا ہے، عمومی طور پر جس بھی سیاستدان کیخلاف کوئی منفی خبر، پروپیگنڈا یا اسکینڈل شائع ہو جائے تو وہ اس وقت تک نچلا نہیں بیٹھتا جب تک اسکی وضاحت نہ کر دے مگر آصف زرداری کہتےہیں کہ جھوٹی خبریں، پروپیگنڈا اور منفی گفتگو دراصل ’’بہتان‘‘ ہیں اور بقول صدر زرداری کے جھوٹے الزامات سے انکے گناہ جھڑ جاتے ہیں۔ کئی مباحث میں انہیں قائل کرنے کی کوشش کی گئی کہ منفی خبروں کی وضاحت نہ کی جائے تو وہ ثابت شدہ الزام کی شکل میں شخصیت کیساتھ ہمیشہ کیلئے چسپاں ہوکر ساکھ پر سوال بنی رہتی ہیں صدر زرداری پتہ نہیں کس مٹی کے بنے ہیں، ان پر اس بحث و تمحیص کا کوئی اثر نہیں ہوتا ۔ابھی چند دنوں سے انہیں صدارت سے ہٹانے، بیماری کی وجہ سے کام نہ کر سکنے اور طرح طرح کی افواہوں اور سازشوں کا سامنا ہے حد تو یہ ہے کہ انکی جگہ نئے صدر کیلئے نام بھی دیدیے گئے مگر ایوان صدارت کے کان پر جوں تک نہ رینگی۔
اگر عملی طور پر دیکھا جائے تو صدر زرداری آج کے دن آؤٹ ہیں کیونکہ وہ 5روزہ دورے پر چین چلے گئے ہیں لیکن افواہیں انکے بیرونی دورے کے متعلق نہیں بلکہ انکے سیاسی کردار کے اِن، آؤٹ اور سائیڈ لائن ہونے کی ہیں۔ مگر آصف زرداری کے معمولات سے بالکل ایسا نہیں لگتا، گزشتہ روز لاہور میں انہوں نے ایک دوست کی بیٹی کی شادی میں شرکت کی ،رات بلاول ہاؤس بحریہ ٹاؤن میں رہے اور پھر سہ پہر کو چین چلے گئے نہ کسی سیاسی سرگرمی کی، نہ صدارت بچانے کے حوالے سے انکی کسی ملاقات کی خبر آئی۔ وہ معمول کے مطابق آئے اور معمول کے مطابق چلے گئے صدارت سے ہٹنے یا سائیڈ لائن ہونے کا غیر معمولی واقعہ ہوتا تو انکی سرگرمیاں بھی غیر معمولی ہوتیں۔ جہاز پر انکے سوار ہونیکی ویڈیو وائرل ہے وہ بغیر کسی سہارے ایئر فورس کے جہاز کی سیڑھیاں چڑھے جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ انکی خراب صحت کے بارے میں پھیلائی گئیں خبریں غلط ہیں وہ بیمار ضرور ہیں مگر اتنے بیمار نہیں کہ بستر پر لیٹ جائیں وہ روزانہ سوئمنگ اور ایکسرسائز کرتے ہیں ڈاکٹر مسلسل انکی نگرانی کرتے ہیں وہ کھاتے پیتے ہنستے مسکراتے اور سیاست و کاروبار کرتے اچھی خاصی زندگی گزار رہے ہیں۔
امریکہ ایران مذاکرات کے حوالے سے کہا جاتا ہے کہ ان میں نہ صدر زرداری نظر آئے اور نہ کہیں بلاول بھٹو زرداری- در اصل پاکستان ان مذاکرات میں ثالث تھا جو امریکی یا ایرانی وفود آئے وہ صرف جھگڑا نمٹانے آئے تھے یہ انکے اسٹیٹ وزٹ نہیں تھے نہ انکی کسی بھی ریاستی اہلکار سے ملاقاتیں طے تھیں یہ سب کچھ ایمرجنسی جیسی صورتحال میں ہوا۔ اسلئے ملک کے سب سے بڑے آئینی عہدے پر متمکن صدر کا اس میں کوئی کردار مناسب بھی نہیں تھا۔ پیپلزپارٹی کے حلقے بتاتے ہیں کہ پچھلے ماہ صدر مملکت کی سربراہی میں ایک بڑے اجلاس میں اس موضوع پر تفصیلی صلاح مشورہ ہو گیا تھا، وزیراعظم گاہے گاہے صدر مملکت کو تازہ ترین پیشرفت سے آگاہ کرتے رہتے ہیں۔
میری رائے میں صدر زرداری کا اپنے عہدے پر برقرار رہنا انکے ہٹائے جانے کی نسبت موجودہ ہائبرڈ نظام کیلئے زیادہ فائدہ مند ہے اس لئے منطق و دلیل کے اعتبار سے پھیلی یا پھیلائی ہوئی افواہوں میں کوئی سچائی نہیں جس دن پیپلز پارٹی اور نظام کے درمیان کوئی خرابی در آئیگی تو پیپلز پارٹی سے بے اختیار نمائشی عہدہ لینے کی بجائے سندھ کی موثر اور بااختیار حکومت واپس لینے کی کوشش ہوگی جب تک سندھ حکومت مضبوطی سے موجود ہے صدر زرداری کی صدارت کو کوئی خطرہ نہیں۔
صدر زرداری کیخلاف جو پروپیگنڈا مہم چل رہی ہے اس میں بغیر کسی ثبوت کے یہ چارج شیٹ لگائی جاتی ہے کہ انہوں نے سندھ میں حکومت سے بالا بالا ایک متوازی نظام بنا رکھا ہے جسے ’’سسٹم‘‘ کا کوڈ نیم دیا جاتا ہے اور یہ کہ صدر زرداری سے امریکہ ناراض ہے کیونکہ وہ چین کی طرف واضح جھکاؤرکھتے ہیں، یہ بھی کہ صدر زرداری متحدہ عرب امارات کے زیادہ قریب ہیں اور انکی سعودی عرب سے اس قدر قربت نہیں۔ موجودہ حالات میں یو اے ای کی طرف سے قرض کی واپسی کا تقاضا دراصل صدر زرداری کی سفارتکاری پر ایک ضرب ہے۔ مزید یہ الزام ہے کہ وہ دریائے سندھ میں نہروں، سندھ میں نیا صوبہ بنانے اور این ایف سی میں ترمیم کے مخالف ہیں۔ اس چارج شیٹ میں بیشترصرف الزامات ہیں سسٹم کی کہانی پرانی ہے اس الزام پر جنرل باجوہ اور جنرل راحیل شریف کے دور میں تحقیقات ہو چکی ہیں، چین سے دوستی کے حوالے سے انکے نظریات واضح ہیں مگر وہ امریکہ سے بھی عزت و احترام کے رشتے کے قائل ہیں اگر امریکی سفارتکار انہیں نہیں بھی ملتے تو وہ ان پر بھی ناراض نہیں، متحدہ عرب امارات سے صدر زرداری کا تعلق بھی ہے اور وہاں انکا قیام اور رہائشگاہ بھی ہے لیکن انکی وفاداری کا محور و مرکز صرف اور صرف پاکستان ہے۔ سندھ میں صوبہ بنانے یا نہروں کے نکالنے پر انکی رائے یہ ہے کہ اس سے صوبہ سندھ اور وفاق کے تعلقات میں ایک خلیج آئیگی اور اس سے پاکستان کے مخالفوں اور جئے سندھ کے حامیوں کو مدد ملے گی ، این ایف سی کے معاملے پر بلاول بھٹو واضح طور پر کہہ چکے ہیں کہ صوبے، وفاق کا مالی بوجھ بانٹنے کو تیار ہیں۔ سوائے سندھ کی تقسیم کے کوئی بھی ایسا معاملہ نہیں ہے جس پر صدر زرداری اور طاقت کے مراکز میں بریک ڈاؤن ہوسکے۔
آصف زرداری اسلئے صدر پاکستان رہیں گے کہ موجودہ ہائبرڈ نظام کے کامیابی سے چلنے کی وجہ تاریخ سے سبق سیکھنا ہے، ماضی کا ہر ہائبرڈ یا سیاسی نظام اسلئے کمزور ہوتا یا گرتا رہا کہ چھوٹے اختلافات کو دور کرنے کی بجائے لڑائیاں بڑھائی جاتیں اور بالآخر نیم جمہوری نظام یا مخلوط نظام ٹوٹ پھوٹ جاتا۔ ماضی کی ان غلطیوں سے مقتدرہ نے یہ سبق سیکھا ہے کہ وہ موجودہ کمزور سیاسی نظام سے تحفظات، اختلافات اور اعتراضات کے باوجود اسے ختم کرنیکی کسی سازش کی حوصلہ افزائی نہیں کررہی بلکہ کوئی ایسی کوشش کرے تو اسکا برا منایا جاتا ہے عملی طور پر کئی بار مقتدرہ کی طرف سےوزیراعظم اور صدر کو واضح طور پر سسٹم کی مسلسل حمایت کا یقین دلایا گیاہے۔ دوسری طرف ن لیگ نے بھی یہ سمجھ لیا ہے کہ جس دن پیپلز پارٹی سے انکا اتحاد ٹوٹا انکے زوال کی ابتدا ہو جائیگی اسلئے نواز شریف، شہباز شریف اور رانا ثناء اللہ واضح طور پر ہر صورت میں مقتدرہ اور پیپلز پارٹی کیساتھ اپنا اشتراک جاری رکھنا چاہتے ہیں ، پیپلز پارٹی کو پنجاب میں حکمران ن لیگ سے کئی شکایات تھیں لیکن حالیہ مہینوں میں چیف سیکرٹری اور مریم اورنگزیب کے مثبت تعاون سے ان میں کمی آئی ہے گویا نون اور پیپل میں دور رس اور دیرپا تعاون کی بات دونوں فریقوں کو سمجھ آ رہی ہے کیونکہ اس تعاون کے بغیر وہ تحریک انصاف کا مقابلہ نہیں کرسکیں گے۔
صدر زرداری چین جا چکے ہیں پچھلے دور صدارت میں انہوں نے چین کے کئی صوبوں کے دورے کر کے وہاں کی ترقی کو قریب سے دیکھا،اس وقت سے صدر زرداری کو مکمل یقین ہے کہ پاکستان کا مستقبل مغرب نہیں بلکہ چین کیساتھ جڑا ہے، حالیہ دورے میں بھی وہ دارالحکومت بیجنگ کے سرکاری پروٹوکول کے مزے لینے کی بجائے صوبائی مراکز اور صنعتی و تجارتی علاقوں کا دورہ کر رہے ہیں۔ یقین رکھیں کہ دورہ چین کے بعد زرداری ہی پاکستان کے صدر رہیں گے کیونکہ کسی نے انہیں ہٹایا تو نقصان زیادہ ہوگا اور اگر وہ قائم رہے تو کو ئی نقصان نہیں، فائدہ ہی فائدہ ہے۔

