طاقت، امن اور سرحدیں: انور سادات کے قتل سے آج کے پاکستان تک

جب امن کی کوشش بھی خطرہ بن جائے اور عالمی کشیدگی تجارت، سیاحت اور انسانی رشتوں کو یرغمال بنا لے

6 اکتوبر 1981 کو مصر کے دارالحکومت قاہرہ میں ایک فوجی پریڈ جاری تھی۔ صدر انور سادات اپنے فوجی افسران اور غیر ملکی مہمانوں کے ساتھ بیٹھے تھے۔ یہ تقریب 1973 کی عرب اسرائیل جنگ میں مصر کی افواج کے نہر سویز عبور کرنے کی آٹھویں سالگرہ کی یاد میں منعقد کی گئی تھی۔ فضا میں جنگی طیارے پرواز کر رہے تھے، فوجی دستے سلامی دے رہے تھے اور قومی وقار کا مظاہرہ اپنے عروج پر تھا۔

پھر چند لمحوں میں منظر بدل گیا۔

ایک فوجی گاڑی رکی، مسلح افراد باہر نکلے اور صدارتی اسٹیج پر حملہ کر دیا۔ صدر انور سادات گولیوں کا نشانہ بنے اور کچھ ہی دیر بعد ان کی موت کی خبر دنیا بھر میں پھیل گئی۔یہ محض ایک صدر کا قتل نہیں تھا۔ یہ مشرق وسطیٰ کی تاریخ کا ایسا لمحہ تھا جس نے ایک بار پھر ثابت کیا کہ جنگ جیتنا، امن قائم کرنا اور امن کو معاشرے میں قابل قبول بنانا تین مختلف چیلنج ہیں۔

انور سادات وہ عرب رہنما تھے جنہوں نے اسرائیل کے ساتھ مذاکرات کا راستہ اختیار کیا، 1978 کے کیمپ ڈیوڈ معاہدوں میں حصہ لیا اور 1979 میں مصر اسرائیل امن معاہدے پر دستخط کیے۔ ان کے فیصلے کو بعض حلقوں نے غیر معمولی سفارتی جرات قرار دیا، جبکہ فلسطینی حقوق کے حامیوں اور کئی عرب ممالک نے اسے ایک علیحدہ امن سمجھوتہ سمجھا جس میں فلسطینی مسئلے کا منصفانہ حل موجود نہیں تھا۔

سادات کے دور میں سیاسی مخالفین کی گرفتاریوں اور اختلاف رائے کو دبانے کے اقدامات نے بھی شدید ناراضی پیدا کی۔ ان کے قاتلوں کا تعلق شدت پسند اسلام پسند حلقوں سے تھا، لیکن ان کی کارروائی کو محض خارجہ پالیسی کے اختلاف کا نتیجہ سمجھنا تاریخ کو ضرورت سے زیادہ سادہ بنا دینا ہوگا۔اس واقعے کے پینتالیس برس بعد، اکتوبر 2026 میں، میرے ذہن میں ایک سوال بار بار ابھرتا ہے۔کیا دنیا نے تاریخ سے کچھ سیکھا، یا ہم آج بھی اختلاف کو دشمنی، مذاکرات کو کمزوری اور طاقت کو مسائل کا واحد حل سمجھتے ہیں؟

میں نے 1998 میں پاکستان چھوڑ کر کینیڈا کو اپنا دوسرا گھر بنایا۔ گزشتہ تقریباً تین دہائیوں میں شمالی امریکا، یورپ، برطانیہ اور خلیجی ممالک میں سفر، ثقافتی سرگرمیوں، کمیونٹی تنظیموں، میڈیا اور بین الاقوامی تقریبات کے ذریعے مختلف معاشروں کو قریب سے دیکھنے کا موقع ملا۔اس عرصے میں ایک حقیقت میرے سامنے بار بار آئی ہے۔ عام انسان دنیا کے کسی بھی حصے میں رہتا ہو، اس کی بنیادی خواہشات تقریباً ایک جیسی ہیں۔ وہ اپنے بچوں کا محفوظ مستقبل چاہتا ہے، روزگار چاہتا ہے، عزت کے ساتھ زندگی گزارنا چاہتا ہے اور ایسے معاشرے کا حصہ بننا چاہتا ہے جہاں اختلاف رائے اس کی زندگی کے لیے خطرہ نہ بنے۔

مگر بدقسمتی سے عالمی سیاست کے بڑے فیصلوں میں عام انسان کی ان خواہشات کو اکثر ثانوی حیثیت حاصل ہوتی ہے۔

پاکستان کی موجودہ صورتحال اور بیرون ملک پاکستانیوں کی تشویش

آج جب ہم پاکستان کے حالات دیکھتے ہیں تو یہ سوال مزید اہم ہو جاتا ہے کہ کسی ملک کا سیاسی استحکام صرف حکومت کی ضرورت ہے یا اس کے کروڑوں شہریوں کا بنیادی حق بھی؟اکتوبر 2026 کے ابتدائی دنوں میں پاکستان ایک مرتبہ پھر سیاسی کشیدگی، احتجاجی مارچ، راستوں کی بندش اور حکومت اور حزب اختلاف کے درمیان بڑھتے ہوئے عدم اعتماد کا سامنا کر رہا ہے۔سابق وزیراعظم عمران خان کی رہائی کے مطالبے پر تحریک انصاف کے کارکنوں کا اسلام آباد کی جانب مارچ، حکومتی پابندیاں اور سیاسی مذاکرات میں تعطل بین الاقوامی ذرائع ابلاغ کی توجہ کا مرکز بنے ہوئے ہیں۔

اس کشیدگی کا اثر صرف سیاست تک محدود نہیں۔

اکتوبر کے آغاز میں خبر رساں ادارے روئٹرز نے رپورٹ کیا کہ سڑکیں بند کرنے کے لیے مال بردار کنٹینرز کے استعمال سے سامان کی ترسیل متاثر ہوئی، کراچی کی بندرگاہ پر مشکلات بڑھیں اور ٹرانسپورٹ کے شعبے کو مالی نقصان پہنچا۔

یہاں ایک بنیادی سوال پیدا ہوتا ہے۔

اگر ایک کاروباری شخص اپنے سامان کی بروقت ترسیل کا یقین نہیں کر سکتا، اگر ایک غیر ملکی وفد کو ہوائی اڈے سے ہوٹل یا کاروباری ملاقات تک پہنچنے میں غیر یقینی صورتحال کا سامنا ہو، تو ہم اس سے پاکستان میں سرمایہ کاری کی توقع کیسے رکھ سکتے ہیں؟

احتجاج شہریوں کا جمہوری حق ہے۔ امن و امان قائم رکھنا ریاست کی ذمہ داری ہے۔ لیکن دونوں کے درمیان ایسا توازن ضروری ہے جس میں شہری آزادیوں کا احترام بھی ہو اور کاروبار، روزگار اور معمولات زندگی بھی غیر ضروری طور پر مفلوج نہ ہوں۔

ہمیں یہ تسلیم کرنا ہوگا کہ سیاسی جماعتیں آتی جاتی رہتی ہیں، حکومتیں تبدیل ہوتی ہیں، لیکن ایک ملک کی معاشی ساکھ اور بین الاقوامی اعتماد کی تعمیر میں کئی دہائیاں لگ جاتی ہیں۔

پاکستان کے لیے ہر سیاسی بحران محض ایک داخلی معاملہ نہیں رہتا۔ اس کے اثرات ان لاکھوں پاکستانیوں تک پہنچتے ہیں جو دنیا کے مختلف ممالک میں اپنے وطن کے لیے سرمایہ کاری، تجارت، سیاحت اور ثقافتی روابط بڑھانے کی کوشش کرتے ہیں۔

کینیڈا میں بیٹھ کر پاکستان کیلئےکام کرنا

کینیڈا میں پاکستانی کمیونٹی نے کئی دہائیوں کی محنت سے اپنی شناخت بنائی ہے۔

ہم میں سے بہت سے لوگ یہاں محض روزگار یا بہتر زندگی کی تلاش میں نہیں آئے تھے۔ ہم اپنے ساتھ اپنی زبان، ثقافت، خاندانی روایات، موسیقی، کھانے، تاریخ اور پاکستان سے ایک جذباتی تعلق بھی لے کر آئے تھے۔

میں نے خود کینیڈا میں پاکستانی ثقافت کو متعارف کروانے کے لیے مختلف تنظیموں اور رضاکاروں کے ساتھ کام کیا۔ کیلگری سٹی ہال میں پاکستانی پرچم کشائی جیسے اقدامات ہوں، ثقافتی تقریبات ہوں یا بین الاقوامی فیشن اور کاروباری سرگرمیاں، ان سب کے پیچھے ایک ہی سوچ رہی کہ پاکستان کو صرف سیاسی تنازعات اور منفی خبروں کے ذریعے نہیں پہچانا جانا چاہیے۔

آج بھی جب ہم کینیڈا میں بین الاقوامی تجارتی نمائشوں، سرمایہ کاری کے فورمز اور پاکستان سمیت مختلف ممالک کے کاروباری وفود کو ایک دوسرے کے قریب لانے کی کوشش کرتے ہیں تو اکثر ہمیں ایک ہی قسم کے سوالات سننے پڑتے ہیں۔

پاکستان میں کاروباری ماحول کتنا مستحکم ہے؟ غیر ملکی سرمایہ کار کو کیا تحفظ حاصل ہے؟ تجارتی پالیسیوں میں تسلسل ہے؟ ویزا اور سفری انتظامات کتنے قابل اعتماد ہیں؟ اور کیا آج کیا گیا معاہدہ آنے والے برسوں میں بھی اسی اعتماد کے ساتھ برقرار رہ سکے گا؟

یہ سوالات پاکستان دشمنی کی علامت نہیں۔ یہ کسی بھی سنجیدہ سرمایہ کار کی جائز تشویش ہیں۔

پاکستان میں معاشی امکانات اپنی جگہ موجود ہیں۔ سات اکتوبر کو بین الاقوامی مالیاتی فنڈ اور پاکستان کے درمیان عملے کی سطح پر ایک معاہدے کی خبر بھی سامنے آئی، جس کے تحت ایگزیکٹو بورڈ کی منظوری کے بعد تقریباً 1.2 ارب ڈالر کی مالی معاونت جاری ہونے کی راہ ہموار ہو سکتی ہے۔

لیکن مالی معاونت اور حقیقی معاشی اعتماد دو الگ چیزیں ہیں۔

قرض یا بین الاقوامی امداد وقتی سہارا دے سکتی ہے، مگر پائیدار سرمایہ کاری کے لیے قانون کی بالادستی، سیاسی تسلسل، شفافیت اور کاروبار کرنے میں آسانی ناگزیر ہیں۔

مذہبی سیاحت: پاکستان کا ایک ایسا سرمایہ جسے ہم پوری طرح استعمال نہیں کر سکے

پاکستان کی سیاحتی صلاحیت صرف شمالی علاقوں کے پہاڑوں، وادیوں اور تاریخی عمارتوں تک محدود نہیں۔

یہ خطہ دنیا کی بڑی مذہبی اور تہذیبی روایات کا امین ہے۔

ننکانہ صاحب اور کرتارپور دنیا بھر کی سکھ برادری کے لیے غیر معمولی مذہبی اہمیت رکھتے ہیں۔ ٹیکسلا اور تخت بھائی بدھ مت کی تاریخی میراث کا حصہ ہیں۔ کٹاس راج اور دیگر تاریخی مقامات ہندو مذہبی اور ثقافتی ورثے سے وابستہ ہیں۔ اسی طرح صوفی بزرگوں کے مزارات اور تاریخی مساجد دنیا بھر کے زائرین اور ثقافتی سیاحوں کو متوجہ کر سکتے ہیں۔

کینیڈا میں رہتے ہوئے ہمیں مختلف مذاہب اور ثقافتوں کے لوگوں سے ملنے کا موقع ملتا ہے۔ یہاں ایک سکھ خاندان اپنے بزرگوں کی سرزمین دیکھنے کی خواہش رکھتا ہے۔ کوئی بدھ مت کا پیروکار گندھارا تہذیب سے واقف ہونا چاہتا ہے۔ کوئی غیر ملکی محقق پاکستان کی قدیم تاریخ میں دلچسپی رکھتا ہے۔

ان لوگوں کے لیے پاکستان کا سفر صرف سیاحت نہیں، اپنی روحانی اور تاریخی شناخت سے ملاقات بھی ہو سکتا ہے۔

لیکن جب سفری انتباہات جاری ہوتے ہیں، سیاسی احتجاج کے باعث نقل و حرکت متاثر ہوتی ہے یا علاقائی سلامتی سے متعلق خدشات بڑھتے ہیں تو ایسے سفر کی منصوبہ بندی مشکل ہو جاتی ہے۔

برطانوی حکومت نے ستمبر 2026 میں پاکستان کے لیے اپنے سفری مشوروں میں متوقع احتجاج اور ممکنہ رکاوٹوں کی نشاندہی کی تھی، جبکہ بعض علاقوں کے لیے سخت سفری انتباہات برقرار رکھے۔

ایسے انتباہات کا اثر ٹریول ایجنسیوں، انشورنس کمپنیوں، تعلیمی اداروں، مذہبی تنظیموں اور سیاحتی گروپوں کے فیصلوں پر پڑ سکتا ہے۔

ہمیں یہ بھی سمجھنا چاہیے کہ مذہبی سیاحت کا فروغ صرف دعوت نامے جاری کرنے یا خوبصورت اشتہارات بنانے سے ممکن نہیں۔

اس کے لیے محفوظ سفری راستے، قابل اعتماد ٹرانسپورٹ، صاف ستھری رہائش، مذہبی مقامات کا احترام، شفاف ویزا سہولیات اور مقامی کمیونٹیز کی شمولیت ضروری ہے۔

پاکستان کے لیے یہ محض زرمبادلہ کمانے کا ذریعہ نہیں بلکہ دنیا کے مختلف مذاہب کے درمیان اعتماد پیدا کرنے کا ایک غیر معمولی موقع بھی ہے۔

مشرق وسطیٰ کی کشیدگی اور ہماری تجارتی کوششیں

انور سادات کے قتل کے پینتالیس سال بعد بھی مشرق وسطیٰ عالمی سیاست کے سب سے حساس خطوں میں شامل ہے۔

فلسطین کا مسئلہ آج بھی منصفانہ اور پائیدار حل کا منتظر ہے۔ اسرائیل اور ایران کے درمیان کشیدگی، یمن میں حوثیوں سے متعلق تنازعات، خلیجی سلامتی اور امریکا کی علاقائی پالیسیوں کے اثرات صرف متعلقہ ممالک تک محدود نہیں رہتے۔

اکتوبر کے آغاز میں پاکستان کی جانب سے سعودی عرب اور ترکی کے ساتھ حوثیوں سے متعلق سیاسی رابطوں پر بات چیت کی اطلاعات بھی سامنے آئیں۔ اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ علاقائی تنازعات میں عسکری اقدامات کے ساتھ سفارت کاری کی ضرورت بھی مسلسل موجود ہے۔

عالمی تجارت ایک دوسرے سے جڑے ہوئے راستوں پر چلتی ہے۔

خلیج میں کشیدگی بڑھتی ہے تو جہاز رانی، توانائی کی قیمتوں، فضائی سفر اور انشورنس کی لاگت پر دباؤ آ سکتا ہے۔ اس کے اثرات کینیڈا، پاکستان اور یورپ کے کاروباری منصوبوں تک پہنچ سکتے ہیں۔

جب ہم کینیڈا اور خلیجی ممالک کے درمیان تجارتی روابط بڑھانے، کاروباری وفود کو مدعو کرنے اور بین الاقوامی نمائشوں کا اہتمام کرنے کی کوشش کرتے ہیں تو ہمارے سامنے صرف ایک کامیاب تقریب کا ہدف نہیں ہوتا۔

ہمیں سفری اخراجات، ویزا منظوری، سرمایہ کاروں کے اعتماد، کاروباری ملاقاتوں، مصنوعات کی ترسیل اور بدلتی ہوئی عالمی صورتحال کو بھی مدنظر رکھنا پڑتا ہے۔

ایک تقریب کے لیے کئی مہینوں کی منصوبہ بندی ہوتی ہے۔ کاروباری ادارے اخراجات اٹھاتے ہیں، منتظمین وقت اور وسائل صرف کرتے ہیں، جبکہ چھوٹے کاروباری افراد اپنی محدود جمع پونجی کے ساتھ نئی منڈیوں تک پہنچنے کی امید رکھتے ہیں۔

پھر کسی خطے میں جنگ، سیاسی کشیدگی یا اچانک سفری پابندی پوری منصوبہ بندی کو متاثر کر سکتی ہے۔

اس لیے امن صرف ایک اخلاقی ضرورت نہیں، معاشی ترقی کی بنیادی شرط بھی ہے۔

پاکستان کو دنیا سے الگ نہیں، دنیا کے قریب لانا ہوگا

پاکستان کے پاس نوجوان آبادی، زرعی وسائل، ٹیکسٹائل، کھیلوں کے سامان، جراحی آلات، انفارمیشن ٹیکنالوجی، دستکاری اور سیاحت جیسے شعبوں میں وسیع امکانات موجود ہیں۔

لیکن عالمی منڈی میں صرف اچھی مصنوعات کافی نہیں ہوتیں۔

خریدار اعتماد بھی خریدتا ہے۔

سرمایہ کار قانونی تحفظ دیکھتا ہے۔

سیاح سلامتی اور سہولت چاہتا ہے۔

اور بین الاقوامی شراکت دار یہ جاننا چاہتا ہے کہ جس ملک کے ساتھ وہ آج تعلق قائم کر رہا ہے، وہاں کل بھی معاہدوں اور اداروں کا احترام برقرار رہے گا۔

بیرون ملک پاکستانی اس اعتماد کی تعمیر میں ایک اہم کردار ادا کر سکتے ہیں۔ وہ اپنے اپنے ممالک کے کاروباری اداروں، جامعات، بلدیاتی حکومتوں، ثقافتی تنظیموں اور تجارتی اداروں کے ساتھ رابطے قائم کر سکتے ہیں۔

لیکن یہ ذمہ داری صرف تارکین وطن پر نہیں ڈالی جا سکتی۔

پاکستان کے سرکاری اداروں، سفارت خانوں، تجارتی مشنز اور سیاحتی محکموں کو بھی سنجیدہ اور مستقل تعاون فراہم کرنا ہوگا۔

ایک کامیاب تجارتی نمائش صرف افتتاحی تقریب، تصاویر اور تقاریر کا نام نہیں۔ اس کی اصل کامیابی وہ کاروباری معاہدے، سرمایہ کاری، روزگار اور مستقل روابط ہیں جو تقریب ختم ہونے کے بعد بھی جاری رہیں۔

اسی طرح ثقافتی سفارت کاری صرف موسیقی اور لباس کی نمائش نہیں۔ یہ قوموں کے درمیان غلط فہمیاں دور کرنے اور انسانی رشتے مضبوط بنانے کا ذریعہ ہے۔

تاریخ ہمیں کیا بتاتی ہے؟

انور سادات کے قتل کی تاریخ ہمیں یہ نہیں سکھاتی کہ ہر امن معاہدہ درست ہوتا ہے یا ہر حکمران کا فیصلہ عوامی مفاد میں ہوتا ہے۔

تاریخ کا سبق اس سے زیادہ پیچیدہ ہے۔

امن کے نام پر کیے گئے فیصلوں پر تنقید کی جا سکتی ہے۔ کسی حکمران کی خارجہ پالیسی سے اختلاف کیا جا سکتا ہے۔ فلسطینی عوام کے حقوق اور انصاف کا مطالبہ بھی کیا جا سکتا ہے۔

لیکن سیاسی اختلاف کسی انسان کو قتل کرنے کا جواز نہیں بن سکتا۔

اسی طرح قومی سلامتی کے نام پر اختلاف رائے کو مکمل طور پر دبانا بھی پائیدار استحکام کا راستہ نہیں۔

کسی بھی معاشرے کی اصل طاقت اس کی یہ صلاحیت ہے کہ وہ شدید اختلافات کے باوجود بات چیت، قانون اور آئینی اصولوں کے ذریعے آگے بڑھ سکے۔

پاکستان کے لیے بھی یہی اصول اہم ہے۔

ہمیں ایسی سیاست کی ضرورت ہے جس میں حکومت اور حزب اختلاف ایک دوسرے کو مستقل دشمن سمجھنے کے بجائے قومی مستقبل کے مشترکہ ذمہ دار تسلیم کریں۔

ہمیں ایسے ادارے چاہییں جو افراد سے زیادہ مضبوط ہوں، اور ایسی خارجہ پالیسی چاہیے جو وقتی سیاسی مفادات کے بجائے طویل مدتی قومی ضروریات پر استوار ہو۔

ایک بیرون ملک پاکستانی کی امید

تقریباً تین دہائیاں کینیڈا میں گزارنے کے باوجود پاکستان کی کوئی بڑی خبر میرے لیے محض ایک غیر ملکی خبر نہیں ہوتی۔

پاکستان میں سیاسی کشیدگی ہو، معاشی مشکلات بڑھیں یا کسی شہر میں بدامنی کی اطلاع آئے، تو اس کا اثر یہاں رہنے والے ان لوگوں پر بھی پڑتا ہے جن کے خاندان، یادیں، کاروباری تعلقات اور جذبات آج بھی پاکستان سے جڑے ہیں۔

ہم پاکستان کے لیے صرف بہتر خبریں نہیں چاہتے۔ ہم چاہتے ہیں کہ بہتر حالات پیدا ہوں تاکہ اچھی خبریں خود سامنے آئیں۔

ہم چاہتے ہیں کہ ایک کینیڈین سرمایہ کار پاکستان جانے کا فیصلہ کرتے ہوئے غیر ضروری خوف محسوس نہ کرے۔ ایک سکھ خاندان اپنے مقدس مقامات کی زیارت اطمینان سے کر سکے۔ ایک نوجوان پاکستانی کاروباری شخص دنیا کے سامنے اپنی مصنوعات پیش کر سکے۔ اور ایک غیر ملکی سیاح پاکستان سے واپس جا کر اس کی مہمان نوازی، تاریخ اور خوبصورتی کا ذکر کرے۔

یہ خواہشات کسی سیاسی جماعت کے حق یا مخالفت میں نہیں۔

یہ پاکستان کے حق میں ہیں۔

آج دنیا پہلے ہی جنگوں، معاشی دباؤ، سیاسی تقسیم اور بڑھتے ہوئے عدم اعتماد سے گزر رہی ہے۔ ایسے میں پاکستان کو اپنے داخلی اختلافات کو مزید گہرا کرنے کے بجائے قومی مکالمے، معاشی تعاون اور بین الاقوامی روابط کی طرف بڑھنا چاہیے۔

6 اکتوبر 1981 کو قاہرہ کی ایک فوجی پریڈ میں گولیوں نے ایک صدر کی زندگی ختم کر دی تھی، لیکن مشرق وسطیٰ کے بنیادی تنازعات ختم نہیں ہوئے۔

پینتالیس سال بعد بھی سوال تقریباً وہی ہے۔

کیا ہم طاقت کے ذریعے خاموشی قائم کرنا چاہتے ہیں، یا انصاف، مکالمے اور اعتماد کے ذریعے حقیقی امن؟

میرے نزدیک پاکستان سمیت پوری دنیا کو آج جس چیز کی سب سے زیادہ ضرورت ہے، وہ صرف طاقتور حکمران، بڑے دفاعی معاہدے یا بلند معاشی اہداف نہیں۔

ہمیں ایسے معاشروں کی ضرورت ہے جہاں انسانی زندگی، اختلاف رائے، انصاف اور باہمی احترام کو بنیادی اہمیت حاصل ہو۔

کیونکہ جب سرحدوں کے دونوں طرف رہنے والے عام انسان خود کو محفوظ محسوس نہیں کرتے، تو تجارت کے راستے بھی غیر محفوظ ہو جاتے ہیں۔ اور جب قومیں ایک دوسرے پر اعتماد کھو دیتی ہیں، تو امن کی سب سے بڑی قیمت وہ لوگ ادا کرتے ہیں جن کا جنگ یا سیاسی طاقت کی کشمکش سے کوئی تعلق نہیں ہوتا۔

پاکستان کو دنیا کے سامنے متعارف کروانے کی ہماری کوششیں جاری رہنی چاہییں۔ مگر اس سے بھی ضروری ہے کہ ہم ایسا پاکستان تعمیر کریں جسے دنیا دیکھنا، سمجھنا، اس کے ساتھ کاروبار کرنا اور دوبارہ آنا چاہے۔

یہی ہماری مشترکہ ذمہ داری ہے، اور یہی آنے والی نسلوں کے لیے ایک بہتر ورثہ ہو سکتا ہے۔

مصنف کا تعارف
سادات چوہدری کینیڈا میں مقیم میڈیا پروفیشنل، ثقافتی سفارت کاری اور بین الاقوامی تجارتی روابط کے فروغ سے وابستہ ہیں۔ وہ Red Media Circle کے بانی و چیف ایگزیکٹو اور International Sister Cities Initiative کے بانی ہیں۔ گزشتہ تقریباً تین دہائیوں سے کینیڈا، پاکستان، یورپ اور خلیجی ممالک میں ثقافتی سرگرمیوں، میڈیا، کاروباری نمائشوں اور کمیونٹی روابط کے ذریعے بین الاقوامی تعاون کے فروغ کے لیے کام کر رہے ہیں۔

ادارتی نوٹ: یہ ایک رائے اور تجزیے پر مبنی کالم ہے۔ تاریخی اور حالیہ واقعات کی تصدیق کیلئےنوبیل پرائز آرکائیو، امریکی محکمہ خارجہ کے تاریخی ریکارڈ، روئٹرز، ایسوسی ایٹڈ پریس اور برطانوی سفری ہدایات سے رجوع کیا گیا ہے۔

اشاعتی تجویز: یہ تحریر Power, People & Borders کے مستقل سلسلے میں شائع کی جا سکتی ہے، جس میں تاریخ، پاکستان کی موجودہ صورتحال، عالمی سیاست اور بیرون ملک پاکستانیوں کے عملی تجربات کو ایک انسانی زاویے سے جوڑا جائے۔