فرانس میں طلبہ کا احتجاج شدت اختیار کرگیا، 6 ہزار گرفتار، 1200 سے زائد اسکول متاثر

پیرس(رائٹرز، اے ایف پی، ایسوسی ایٹڈ پریس،بی بی سی) فرانس میں طلبہ کا احتجاج شدت اختیار کرگیا، اساتذہ اور عملے کی کمی، کلاس رومز میں طلبہ کی بڑھتی تعداد اور خستہ حال اسکولوں کے خلاف پیرس کے مضافاتی علاقوں سے شروع ہونے والے مظاہرے ملک بھر میں پھیل گئے، 1200 سے زائد اسکولوں میں احتجاج کے دوران 6 ہزار سے زیادہ افراد کو گرفتار کرلیا گیا۔

برطانوی خبر رساں ادارے کے مطابق فرانس میں ہائی اسکول طلبہ کا احتجاج ملک گیر تحریک کی شکل اختیار کرگیا ہے، مظاہروں کا آغاز پیرس کے غریب مضافاتی علاقوں سے ہوا جہاں طلبہ نے خستہ حال اسکولوں، کلاس رومز میں گنجائش سے زیادہ طلبہ اور اساتذہ، نرسوں سمیت عملے کی شدید کمی کے خلاف احتجاج کیا۔

بعد ازاں احتجاج پیرس کے علاوہ مارسی، اسٹراسبرگ، ٹورز اور لِل سمیت دیگر شہروں تک پھیل گیا، جبکہ ملک بھر میں تقریباً 30 مقامات پر مزید مظاہروں کی تیاری کی گئی ہے۔پیرس میں آج دوپہر 2 بجے ریپبلک اسکوائر سے مرکزی احتجاجی مظاہرہ ہوگا جس میں ہزاروں افراد کی شرکت متوقع ہے، احتجاج کے تیسرے مرحلے کے موقع پر دارالحکومت میں سکیورٹی مزید سخت کردی گئی ہے۔

پولیس نے بعض مقامات پر مظاہرین کو منتشر کرنے کیلئے آنسو گیس اور ربڑ کی گولیاں استعمال کیں، جبکہ متعدد افراد آنکھوں، سر اور دانتوں پر چوٹوں کا شکار ہوئے۔طلبہ کا کہنا ہے کہ غریب علاقوں کے اسکولوں کو دوسرے علاقوں کے مقابلے میں مناسب وسائل فراہم نہیں کیے جا رہے اور ان کے تعلیمی مواقع محض رہائشی علاقے کی وجہ سے متاثر ہو رہے ہیں۔

طلبہ کے احتجاج کو بڑی تعلیمی یونینوں کی حمایت بھی حاصل ہوگئی ہے، جبکہ ہائی اسکول کے بعد یونیورسٹی کے طلبہ بھی احتجاج میں شامل ہوگئے ہیں۔طلبہ اور اساتذہ کا کہنا ہے کہ موجودہ وسائل پہلے ہی ضروریات پوری کرنے کیلئےناکافی ہیں، اسلئےحکومت فوری طور پر اضافی وسائل فراہم کرے اور تعلیمی نظام میں اصلاحات لائے۔

فرانس کے 2027 کے تعلیمی بجٹ میں 1.7 فیصد اضافے کی تجویز ہے جو مہنگائی کی شرح سے کم ہے، جس پر طلبہ اور اساتذہ نے تحفظات کا اظہار کیا ہے۔وزیر تعلیم کے مطابق احتجاج کے باعث ایک روز میں 589 تعلیمی ادارے متاثر ہوئے، جبکہ حکومتی اعداد و شمار کے مطابق احتجاج کے دوران سینکڑوں طلبہ اور پولیس اہلکار زخمی ہوئے ہیں۔

لینز میں احتجاج کے دوران 15 سالہ طالب علم کا ہاتھ ضائع ہونے کے واقعے کی تحقیقات بھی جاری ہیں۔وزارت داخلہ کے مطابق فرانس بھر میں طلبہ احتجاج کے دوران 6 ہزار سے زائد گرفتاریاں ہوئی ہیں، جبکہ حکومت نے مظاہرین سے پرامن اور قانونی دائرے میں رہتے ہوئے احتجاج کرنے کی اپیل کی ہے۔طلبہ احتجاج کے باعث پیرس میں 6 میٹرو اسٹیشن صبح 10 بجے سے بند رکھنے کا اعلان بھی کیا گیا ہے۔