لاہور (خبر ایجنسیاں) لاہور کے علاقے ڈیفنس سی میں آذربائیجان سے تعلق رکھنے والی 20 سالہ غیر ملکی خاتون سے مبینہ اجتماعی زیادتی کے واقعے میں پولیس کی کارروائیاں جاری ہیں، جبکہ مرکزی ملزم کی تلاش میں سی سی ڈی اور تفتیشی پولیس کی ٹیمیں سیالکوٹ پہنچ گئی ہیں۔
غیر ملکی خاتون نے 3 نامعلوم افراد پر مبینہ اجتماعی زیادتی اور موبائل فون چھیننے کا الزام عائد کرتے ہوئے پولیس کو درخواست دی تھی۔خاتون نے پولیس کو بتایا کہ وہ گزشتہ 15 سے 20 روز سے کاروباری سلسلے میں پاکستان میں مقیم ہے۔ اس کے مطابق 25 ستمبر کی رات 2 نامعلوم لڑکیاں اسے کھانے کیلئے ایک کیفے میں لے گئیں، جہاں 3 نامعلوم مرد موجود تھے۔
خاتون نے الزام عائد کیا کہ مذکورہ افراد اسے گاڑی پر سیر کروانے کے بہانے ایک فلیٹ پر لے گئے، جہاں اسے مبینہ طور پر نشہ آور چیز پلا کر بے ہوش کیا گیا اور تینوں افراد نے باری باری اس سے مبینہ زیادتی کی۔
خاتون کے مطابق اسے اسی مقام پر محبوس رکھا گیا اور 26 ستمبر کو دوپہر تقریباً 2 بجے غازی انٹرچینج، نیٹ سول بلڈنگ کے قریب فروٹ چوک کے نزدیک چھوڑ کر ملزمان فرار ہوگئے۔
خاتون نے مزید الزام عائد کیا کہ ملزمان اس کا آئی فون 13 اور ریڈمی موبائل فون بھی ساتھ لے گئے۔ بعدازاں خاتون نے ایک راہگیر سے موبائل فون لے کر پولیس کی ہنگامی مدد کی لائن 15 پر اطلاع دی۔
جیو نیوز کے مطابق پولیس نے 3 افراد کو سہولت کاری کے شبے میں حراست میں لے رکھا ہے، جبکہ پولیس کی جانب سے مبینہ زیادتی کے ملزمان کے طور پر احمد تنویر، علی اور محسن کے نام بھی بتائے گئے ہیں۔ زیرحراست افراد سے مزید تفتیش جاری ہے۔
پولیس کے مطابق متاثرہ خاتون کی سفری تاریخ بھی سامنے آئی ہے۔ خاتون 4 مارچ کو تاشقند سے لاہور آئی اور 20 مارچ کو آذربائیجان کے شہر باکو واپس گئی۔ وہ 22 مئی کو دوسری مرتبہ باکو سے پاکستان آئی جبکہ تقریباً 15 روز قبل تیسری مرتبہ لاہور پہنچی۔
پولیس کا کہنا ہے کہ خاتون کپڑوں کے کاروبار کے سلسلے میں لاہور اور فیصل آباد آتی جاتی رہی ہے، جبکہ وہ اردو زبان سمجھنے اور بولنے کی صلاحیت بھی رکھتی ہے۔پولیس کے مطابق خاتون کی حالت تاحال بہتر نہیں، ہوش میں آنے کے بعد اس کا بیان ریکارڈ کیا جائے گا۔
پولیس ذرائع کے مطابق مرکزی ملزم کی گرفتاری کیلئے سی سی ڈی اور تفتیشی پولیس کی کارروائیاں جاری ہیں۔ اہم اطلاع ملنے پر دونوں ٹیمیں سیالکوٹ پہنچ گئی ہیں، جہاں مرکزی ملزم کی آخری معلوم ہونے والی جگہ سامنے آئی تھی۔
پولیس ذرائع کا کہنا ہے کہ مرکزی ملزم کی گرفتاری کیلئے مختلف مقامات پر چھاپے بھی مارے جا رہے ہیں، جبکہ سہولت کاری کے شبے میں حراست میں لیے گئے 3 افراد سے مزید تفتیش کی جارہی ہے۔
بعدازاں زیادتی کی شکار غیر ملکی خاتون کو لاہور کی کینٹ کچہری میں ڈیوٹی مجسٹریٹ ارم یوسف کے روبرو پیش کیا گیا۔پولیس نے دوران سماعت ضابطہ فوجداری کی دفعہ 164 کے تحت خاتون کا بیان قلمبند کرنے کی استدعا کی۔
عدالت نے کہا کہ عام تعطیل کے باعث سوائے ریمانڈ کے کسی فائل پر سماعت نہیں ہوسکتی، متاثرہ خاتون کو اگلے روز متعلقہ علاقے کے مجسٹریٹ کے سامنے پیش کیا جائے۔پولیس حکام کے مطابق تھانہ ڈیفنس سی میں غیر ملکی خاتون سے مبینہ زیادتی کا مقدمہ درج ہے اور واقعے کی مزید قانونی کارروائی جاری ہے۔

