اس حقیقت کو جھٹلانا یا اس کو ”لاف زنی“ قرار دینا حقیقت کا منہ چڑانے کے مترادف ہے کہ چار ستمبر کی صبح ہونے والی موسلادھار بارش نے عروس البلاد لاہور کو جوہڑوں کی بستی میں تبدیل کر کے رکھ دیا، اس کی تعمیر و ترقی اور انفراسٹرکچر کی بحالی کے دعوے جھوٹ ثابت ہوئے۔ امر واقعہ یہ ہے کہ اب لاہور صرف اپنے اردگرد سلطنت مغلیہ کے دور تعمیر کردہ فصیل کے اندر ہی نہیں اس سے میلوں باہر نکل چکا ہے اگرچہ اسی لاہور کی صدیوں سے جانی پہچانی پرانی اضافی بستیاں اس شہر کو چاروں طرف سے اپنے گھیرے میں لئے ہوئے اور سبھی علاقے جن میں ایک طرف مصری شاہ، فاروق گنج،تاج پورہ،وسن پورہ، چاہ میراں، گڑھی شاہو، مغلپورہ، شالامار باغ، باغبانپورہ کے علاقے شامل تھے جو ان کے مقابل شہر کے دوسری طرف قدیم بستیوں میں نسبت روڈ، کرشن نگر (اسلام پورہ) راج گڑھ، آؤٹ فال روڈ، شام نگر اور شہر کے قریب قلعہ گجر سنگھ کے تقریباً جڑواں علاقے قصور پورہ اور اس کے مقابل بڈھے راوی کے پل کی قریبی آبادیوں نے بھی سر اُٹھا لیا تھا۔ تبھی تو زندہ دلانِ لاہور کی آبادی کی قومی ضرورتوں کے اندازوں سے نابلد اربابِ اختیارکی محدود سوچ و فکر کے باعث عصر جدید کی روشنی میں شہر کا ناک نقشہ سدھر نہ سکا۔ لطف کی بات یہ ہے کہ اربابِ اختیار کی طرف سے مکھی پر مکھی مارنے کا عمل بدستور جاری ہے جن اضافی بستیوں میں معمول کی بارش وہاں کے مکینوں کیلئے عذابِ جان بن جاتی ہے جن بستیوں کا اوپر تذکرہ کیا گیا انکی کوئی چھوٹی بڑی شاہراہ ایسی نہیں جہاں بارشی پانی کے نکاس کا مکمل اہتمام ہو۔بارش ہو جائے تو یوں لگے جیسے گلی گلی، محلے محلے جوہڑوں کا منظر پیش کر رہے ہیں۔ ایسے میں سادہ دِل لوگ سوال کرنے میں حق بجانب ہیں کہ لاہور صرف اربابِ اختیارات اور ذی وقار بستیوں یا ان بستیوں کے ان مکینوں کے آنے جانے کے راستوں کی سڑکوں ہی کا نام نہیں،بلکہ جن بے نوا کروڑوں عوام کے خون پسینے کی کمائی کے ٹیکسوں سے زندگی کی تمام تر آسائشیں حاصل ہوتی ہیں ان کا بھی حق مقدم ہے۔ اس کا تذکرہ لاہوریوں کے دِلوں کو تڑپا کر رکھ دے گا جس کے نتیجے میں کس کی نظر لگ گئی کہ لاہور کا بانکپن چھن گیا۔ اب تو نوبت بہ اینجاں رسید کہ بڑے دھڑلے سے یہ خبریں صفحہ قرطاس پر دیکھنے کو ملتی ہیں۔ شہری علاقوں میں چھ سے نو گھنٹے اور دیہات میں دس سے تیرہ گھنٹے بجلی کی لوڈشیڈنگ جاری ہے۔ چند ہزار اشرافیہ سے تعلق رکھنے والے لوگوں کے نمائندہ وزیر پٹرولیم علی پرویز ملک نے یکم ستمبر کو قومی خبر رساں ادارے آئی این پی اسلام آباد کے حوالے سے بڑی بات کی کہ پٹرول اور ڈیزل کی بڑھتی ہوئی قیمتوں سے پریشان نہ ہوں اچھی خبر ملے گی۔اس خبر کے عین مقابل جلی سرخی میں پٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں اضافے کا اعلان تھا۔ بہرحال رہی بات بجلی کی لوڈشیڈنگ کی تو درحقیقت صاحبانِ اقتدار کی طرف سے اس طرح کا تحکمانہ اعلان صرف ان غریب و بے نوا، غیر مراعات یافتہ کروڑوں خاندانوں کیلئے ہے ایسا فیصلہ صادر کرنے والے جو چند خاندانوں کے چشم و چراغ اقتصادی اور معاشی تفکرات سے آزاد برقی رو کی مجموعی طور پر چھ سے تیرہ گھنٹے لوڈشیڈنگ سے کسی کو کوئی غرض نہیں۔ حقیقت حال یوں ہے کہ جہاں بھی لوڈشیڈنگ کی ”نوید“ دی جاتی ہے وہی علاقے اصل میں پاکستان ہیں وہاں پاکستان کی 25کروڑ سے لگ بھگ آبادی بستی ہے ان میں عورتیں، مرد، بچے، بوڑھے، تندرست و توانا، نحیف و نزا، مریض و لاغر،نومولود دودھ پیتے بچے بچیاں شاہراہ جبلت پر زندگی کی آسائشوں کے حصول کیلئے سسکتے بلکتے اور تڑپتے ہوئے مریضوں کی لاکھوں کی تعداد! انہیں لوڈشیڈنگ کے نتیجے میں زندگی بخش ضرورتوں سے محض اشرافیہ کی خوشنودی کے لئے محروم کرنا کہاں کی درد مندی ہے یہ انسانی ہمدردی اور انسانی دوستی کے کس کھاتے میں لکھا جا سکے گا۔ اربابِ اختیار کے لئے یہ بات لمحہ فکریہ ہے۔

