مصنوعی ذہانت، سانحۂ لائبہ اور ہمارا تعلیمی نظام

شام کی اداس گھڑی میں جب ایک روشن مستقبل کے خواب سجائے پرامید طالبہ کی ناگہانی موت کی خبر ملی، تو دل دہل گیا اور روح کانپ اٹھی۔ لائبہ—جو اپنی محنت اور ذہانت کے بل بوتے پر ایک نئے جہاں میں قدم رکھنے کی تیاری کر رہی تھی—زندگی کی اس جنگ میں یوں ہار گئی کہ اس کی بے بسی پر کائنات بھی خون کے آنسو رو پڑی۔ لائبہ کی یہ دل دوز داستان محض ایک فرد کی موت نہیں، بلکہ ہمارے پورے اجتماعی ضمیر، گلے سڑے تعلیمی نظام اور بے حس ریاست کا ایک درد ناک مرثیہ ہے۔

آج تجزیہ نگاروں کے لبوں پر کئی تلخ اور اہم سوالات ہیں۔ اصل سوال اب یہ نہیں کہ لائبہ کے ساتھ لاکھوں روپے کا مبینہ فراڈ کیسے ہوا، بلکہ یہ ہے کہ کیا اس تباہ حال خاندان کو کبھی انصاف مل سکے گا؟ اکثریت کا متفقہ ماننا ہے کہ یہ سانحہ دراصل ریاست اور ہمارے ناکام نظامِ انصاف کی شرمناک ہار ہے۔ اگر اس ہونہار اور لائق بچی کو ذرا سا بھی یہ یقین ہوتا کہ قانون کا دروازہ کھٹکھٹانے سے اسے انصاف مل جائیگااور اس کے والدین کی خون پسینے کی کمائی واپس لوٹ آئے گی، تو شاید وہ موت کی آغوش میں پناہ لینے کے بجائے عزم و ہمت کے ساتھ جیتی رہتی۔

“ذہانت کا زعم اور ڈیجیٹل دور کا المیہ”
مگر اس اندوہناک واقعے کا سب سے خوفناک اور حیرت انگیز پہلو یہ ہے کہ لائبہ کوئی کم علم یا ناواقف لڑکی نہیں تھی۔ وہ ہمارے تعلیمی نظام کی ایک درخشندہ پیداوار—ایک گولڈ میڈلسٹ طالبہ تھی! وہ مصنوعی ذہانت (AI) کے جدید ترین شاہکار ’چیٹ جی پی ٹی‘ (ChatGPT) کا استعمال خوب جانتی تھی۔ اس نے اسی ٹیکنالوجی کی مدد سے امریکہ کی ان یونیورسٹیوں کا سراغ لگایا جہاں اس کے مطلب کے تعلیمی پروگرام موجود تھے اور ان کے معیارِ داخلہ کا پتہ چلایا۔ وہ مہینوں تک اس مکار ایجنٹ سے انگریزی میں خط و کتابت بھی کرتی رہی۔

مگر افسوس! گولڈ میڈل حاصل کرنے والی یہ ذہین لڑکی چیٹ جی پی ٹی سے صرف یہ ایک بنیادی سوال پوچھنا بھول گئی کہ جو ‘آفر لیٹرز’ (Offer Letters) اسے بھیجے جا رہے ہیں، آیا وہ اصلی ہیں یا جعلی؟ اس کے والدین تو سادہ لوح اور ناخواندہ تھے، لیکن لائبہ تو انگریزی پڑھ اور لکھ سکتی تھی—پھر اس سے اتنی بڑی چوک کیسے ہو گئی؟

“رٹا سسٹم: عقل و شعور کا قاتل”
اس کا جواب ہمارے اس تعلیمی نظام میں چھپا ہے جو بچوں کو صرف طوطے کی طرح ’رٹا‘ لگانا سکھاتا ہے، ’شعور‘ اور ’فہم‘ نہیں دیتا۔ ہمارے اسکولوں اور کالجوں کا المیہ یہ ہے کہ اگر کوئی بچہ کسی سوال کو اپنی عقل سے سمجھ کر اپنے الفاظ میں جواب دینے کی کوشش کرے، تو اساتذہ اس کے تخلیقی جوہر کو کچل دیتے ہیں اور نمبر کاٹ لیتے ہیں۔ ان کی شرط صرف یہ ہوتی ہے کہ “جو نوٹس کلاس میں لکھوائے گئے تھے، وہ من و عن کیوں نہیں لکھے گئے؟”

ہمارے تعلیمی اداروں کے پوزیشن ہولڈر طلبہ دراصل حفظ کرنے کے ماہر بنا دیے جاتے ہیں۔ وہ اساتذہ کے دیے گئے نوٹس کو لفظ بہ لفظ یاد کر کے کاغذ پر انڈیل دیتے ہیں اور تمغے سمیٹ لیتے ہیں، مگر انہیں نہ تو کلاس میں کھل کر بولنا سکھایا جاتا ہے اور نہ ہی تنقیدی زاویے سے سوچنا (Critical Thinking)۔

اس کی ایک سادہ مثال ملاحظہ کیجیے: میرے ایک دوست کے رشتہ دار بچے نے، جو پاکستان کی ایک نامور یونیورسٹی کا پوزیشن ہولڈر تھا، امریکہ کی یونیورسٹی میں داخلے کیلئے ایجنٹوں سے بات چیت شروع کی۔ وہ بہت پرامید تھا مگر رہنمائی کا طالب تھا۔ میں نے اسے مشورہ دیا کہ “تم جب بھی ایجنٹ کو کوئی ای میل لکھو، تو مجھے Cc کر دیا کرو۔” وہ پوزیشن ہولڈر نوجوان حیرت سے سر کھجانے لگا اور معصومیت سے پوچھنے لگا: “سر! یہ Cc کیسے کرتے ہیں؟”

لائبہ کا المیہ بھی بالکل یہی تھا۔ اس نے نصاب کو رٹ کر ڈگریاں اور گولڈ میڈل تو حاصل کر لیے، مگر چونکہ اس کی تربیت میں تنقیدی سوچ کا عنصر شامل نہیں تھا، اس لیے وہ انگریزی زبان کی باریکیوں کو عملاً سمجھنے اور ایجنٹ کی ای میلز کی جعل سازی کو پکڑنے میں ناکام رہی۔ وہ چیٹ جی پی ٹی سے ایسے سوالات پوچھ ہی نہ سکی جو ان جعلی کاغذات کی حقیقت کھول کر رکھ دیتے۔

“مصنوعی ذہانت کا درست استعمال: ٹیکنالوجی بمقابلہ انسانی فکر”
آج کے دور میں مصنوعی ذہانت ہماری زندگیوں پر حاوی ہوتی جا رہی ہے۔ لیکن ہمیں یہ بات اچھی طرح سمجھنی ہوگی کہ چیٹ جی پی ٹی یا اس جیسی کوئی بھی ایپ ایک ‘قلم’ سے زیادہ حیثیت نہیں رکھتی۔ اصل اہمیت ان تخلیقی خیالات اور عقل کی ہے جو انسان کے اپنے ذہن میں پیدا ہوتی ہے۔

ہمیں اپنے بچوں کو یہ سکھانا ہوگا کہ وہ AI کو اپنے خیالات کو بہتر بنانے اور مسائل کا حل تلاش کرنے کیلئے ایک مددگار کے طور پر استعمال کریں، نہ کہ سوچنے اور فیصلہ کرنے کا بنیادی کام ہی چیٹ جی پی ٹی کے حوالے کر دیں۔

“بیداری کا وقت: اپنے حق کے لیے بولنا سیکھیے”
میری تمام والدین سے عاجزانہ درخواست ہے کہ خدارا! اپنے بچوں کو محض نمبروں اور رٹے کی اس اندھی دوڑ سے باہر نکالیے۔ اپنے بچوں کی فکری تربیت کی ذمہ داری صرف اسکول یا استاد پر نہ چھوڑیں، بلکہ یہ ذمہ داری سب سے پہلے آپ کی ہے۔ ہمارا نظامِ تعلیم کتنا ہی کرپٹ کیوں نہ ہو، ہمیں خود اپنے بچوں کو بیدار کرنا ہوگا۔

اس سانحے سے جو سب سے بڑا اور تلخ سبق ہمیں ملتا ہے، وہ یہ ہے کہ اپنے بچوں کو “لڑنا” سکھائیے۔ لڑنے سے مراد ہرگز فلمی انداز میں مار دھاڑ یا تشدد نہیں، بلکہ اس کا مطلب یہ ہے کہ وہ اپنے حق کے لیے آواز اٹھانا سیکھیں۔ وہ کسی بھی ناانصافی کے سامنے ڈھیر ہونے کے بجائے سچائی کی خاطر ڈٹ جائیں، اپنے اندر کی قوت کو پہچانیں اور حالات کا مردانہ وار مقابلہ کریں۔

لائبہ تو حالات کے جبر کے آگے ہمت ہار گئی اور ہم سے ہمیشہ کیلئےجدا ہو گئی، مگر اب وقت آ گیا ہے کہ ہم اپنے بچوں کو اتنی فکری اور اخلاقی جرات دیں کہ وہ مشکل وقت میں صحیح سوال پوچھ سکیں—تاکہ پھر کبھی کسی اور ’لائبہ‘ کو یوں ناامید ہو کر اپنی زندگی کا چراغ خود نہ بجھانا پڑے۔