نیویارک (بھارتی میڈیا)امریکی شہر نیویارک کے علاقے کوئنز میں 5 سالہ بچی فابیانا کابیو کی موت کے بعد اس کی والدہ فرانسس کابیو کو گرفتار کرکے قتل کا الزام عائد کردیا گیا، جبکہ بچی کے والد کلدیپ سنگھ نے آخری رسومات کے اخراجات پورے کرنے کے لیے چندہ جمع کرنے کی مہم شروع کردی ہے۔
بھارتی میڈیا رپورٹس کے مطابق 14 اکتوبر کی شام پولیس کو ایک خاتون کی جانب سے ہنگامی کال موصول ہوئی، جس میں مبینہ طور پر اس نے اپنی بیٹی کو قتل کرنے کا اعتراف کیا تھا۔ 32 سالہ فرانسس کابیو نے پولیس کو بتایا کہ بچی اوپر والے کمرے میں بے ہوش پڑی ہے اور سانس نہیں لے رہی۔
رپورٹ کے مطابق پولیس اہلکار شام 6 بج کر 55 منٹ پر گھر پہنچے تو بچی بے ہوشی کی حالت میں پڑی تھی اور اس کی ناک سے خون بہہ رہا تھا۔ اسے فوری طور پر جمیکا اسپتال کے طبی مرکز منتقل کیا گیا، جہاں ڈاکٹروں نے اس کی موت کی تصدیق کردی۔ بعدازاں بچی کی والدہ کو گرفتار کرلیا گیا۔
رپورٹ میں پوسٹ مارٹم کے نتائج کا حوالہ دیتے ہوئے بتایا گیا کہ بچی کے چہرے پر خراشیں موجود تھیں، جبکہ آنکھوں، دل اور پھیپھڑوں میں خون رسنے کے چھوٹے نشانات بھی پائے گئے۔ یہ علامات دم گھٹنے سے متعلق ہوسکتی ہیں، تاہم واقعے کے وقت گھر میں پیش آنے والے حالات کی مکمل تفصیلات تاحال واضح نہیں ہوسکیں۔
دوسری جانب بچی کے والد کلدیپ سنگھ نے اپنی بیٹی کی آخری رسومات کے اخراجات پورے کرنے کے لیے چندہ جمع کرنے کی مہم شروع کی ہے۔ انہوں نے چندہ جمع کرنے کی ویب سائٹ گو فنڈ می پر 18 ہزار امریکی ڈالر جمع کرنے کا ہدف مقرر کیا ہے۔
اپنی اپیل میں کلدیپ سنگھ نے لکھا کہ وہ اپنی بیٹی سے بے حد محبت کرتے تھے اور اسے کھونے کا احساس ایسا ہے جیسے انہوں نے اپنی پوری دنیا کھو دی ہو۔
ان کے مطابق وہ آخری رسومات کے اخراجات تنہا برداشت کرنے کی استطاعت نہیں رکھتے۔ وہ کرائے کی گاڑی چلا کر اوبر ڈرائیور کے طور پر کام جاری رکھنے کی کوشش کررہے ہیں، لیکن شدید غم اور مالی مشکلات کے باعث حالات سنبھالنا ان کے لیے دشوار ہوگیا ہے۔
کلدیپ سنگھ نے کہا کہ چندہ جمع کرنے کا مقصد اپنی بیٹی کی آخری رسومات مناسب طریقے سے ادا کرنا اور زندگی کے اس انتہائی مشکل وقت میں مالی مدد حاصل کرنا ہے۔

