پاکستان میں ڈیجیٹل معیشت، ٹیکس کا نظام اور ناہمواری: ایک تجزیاتی جائزہ

جدید دنیا میں ڈیجیٹل پلیٹ فارمز اور آن لائن لین دین نے تجارت اور معاشی سرگرمیوں کو بالکل نیا روپ دے دیا ہے۔ تاہم، اس تکنیکی انقلاب نے روایتی ٹیکس نظام کیلئے سنگین چیلنجز بھی پیدا کیے ہیں۔ دنیا بھر کی حکومتیں موجودہ بین الاقوامی ٹیکس قوانین کی ناکامی کے باعث اربوں ڈالر کے محصولاتی نقصان کا سامنا کر رہی ہیں کیونکہ پرانے قوانین ڈیجیٹل معیشت کی پیچیدگیوں سے نمٹنے کیلئے ناکافی ثابت ہو رہے ہیں۔

اس معاشی المیے کے حل کیلئےاقوام متحدہ کے تعاون سے ایک نئے عالمی ٹیکس فریم ورک پر کام کر رہی ہے تاکہ ڈیجیٹل کاروبار جس ملک میں بھی فعال ہوں، وہاں اپنی آمدنی کے مطابق مناسب ٹیکس ادا کریں۔ اس کے علاوہ “ریجنل اسمبلی آف دی ٹیکس اینڈ فسل جسٹس – ایشیا” جیسے پلیٹ فارمز ایشیائی ممالک کو باہمی تعاون کے ساتھ علاقائی حل تلاش کرنے اور ڈیجیٹل معیشت کے ثمرات سے منصفانہ طور پر مستفید ہونے کا موقع فراہم کرتے ہیں۔ کچھ ممالک اس کام میں کافی آگے اور باقی اپنی اپنی ترجیحات اور ضرورت کے مطابق اس پر عمدرآمد کر رہے ہیں۔

پاکستان کا معاشی منظرنامہ اور ٹیکس کلچر
پاکستان جیسے ترقی پذیر ملک کیلئےڈیجیٹل معیشت جہاں نئے مواقع پیش کرتی ہے، وہاں ٹیکس چوری کو روکنا اور شفافیت قائم کرنا ایک بڑا امتحان بھی ہے۔ معاشی بحران، سیاسی عدم استحکام اور بدعنوانی کی طویل تاریخ نے پاکستان کے ٹیکس کے دائرہ کار کو انتہائی محدود کر رکھا ہے۔

تاریک حقیقت اور ٹیکس دہندگان کی تعداد
بائیس کروڑ سے زائد آبادی والے ملک مین فائلرز. ٹیکس پیئرز کی تعداد محض 25 لاکھ کے قریب ہے۔ اس انتہائی قلیل تعداد میں بھی سب سے بڑا حصہ ملازم پیشہ طبقے کا ہے، جن کی آمدنی سے ٹیکس ( سورس پر ہی کاٹ لیا جاتا ہے۔ اس کے برعکس، کثیر منافع کمانے والے بڑے کاروباری حضرات اور بااثر طبقے ٹیکس کے نظام کی کمزوریوں کا فائدہ اٹھا کر آسانی سے بچ نکلتے ہیں۔

غیر بلاواسطہ ٹیکسوں کا بے جا بوجھ
حکومت اپنی ناکامیوں کو چھپانے اور ریونیو پورا کرنے کیلئے عام شہریوں پر بلاواسطہ ٹیکسز-انڈائریکٹ ٹیکسز- کا شدید بوجھ ڈال دیتی ہے۔ مثال کے طور پر، روزمرہ کی خریداریاں جیسے سگریٹ، کولڈ ڈرنکس، موبائل ریچارج، اور پیٹرول بلکہ ہر چیز پر ہی بھاری فیصدی ٹیکس اور لیوی شامل ہوتی ہے۔ حتیٰ کہ بجلی کے بلوں میں ٹی وی اور ریڈیو فیس جیسے ٹیکسز ان لوگوں پر بھی عائد ہیں جن کے پاس یہ سہولیات میسر ہی نہیں ہیں۔

بدلے میں کیا ملتا ہے؟
عام شہری کے اتنے بھاری ٹیکس ادا کرنے کے باوجود اسے بدلے میں ٹوٹی پھوٹی سڑکیں، مہنگی بجلی، آئی پی پیزکو بیجا کیپسٹی پیمنٹس کے باوجود لوڈ شیڈنگ اور ناکارہ پبلک ٹرانسپورٹ ملتی ہے۔ حکومتوں نے نجی بجلی گھروں سے جو اکثریتی طور پر انہی لوگوں کے ہیں ان سے پیداواری صلاحیت کے حساب سے اربوں روپے کے معاہدے کر رکھے ہیں، چاہے بجلی خریدی جائے یا نہ جائے، جس کا تمام تر بوجھ عوام کو اٹھانا پڑتا ہے۔

معاشی بدحالی اور عدم مساوات کی بنیادی وجوہات
کیش پر مبنی لین دین اور غیر رجسٹرڈ کاروبار بلیک مارکیٹ یعنی غیر رسمی معیشت کو فروغ دیتے ہیں،جس سے معیشت کو منظم کرنا مشکل ہو جاتا ہے۔

اشرافیہ کی مراعات اور مالیاتی ناہمواری
آئی ایم ایف ، عالمی بنک اور دیگر عالمی مالیاتی ادارے بھی معیشت کی بہتری کے بجائے اپنے سیاسی مقاصد میں دلچسپی رکھتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ کبھی بھی حکومت پر بااثر طبقات- مثلاً بیوروکریسی، عدلیہ، اور دیگر حکومتی ارکان- کو ملنے والی مفت پیٹرول، مفت بجلی، گاڑیوں اور مراعات کو ختم کرنے کیلئے دباؤ نہیں ڈالا جاتا۔ لیکن معاملہ چند ٹکوں کی زمیندار کو یا غریب عوام کو سبسڈی دینے کا ہو تو آئی ایم ایف لٹھ لیکر میدان مین کود آتا ہے یا کم از کم حکومت یہی بہانہ استعمال کرتی ہے۔

سیاسی ارادے کا فقدان
ملک میں معاشی اصلاحات کو نافذ کرنے کے بجائے حکمران طبقہ اپنے ذاتی اور کاروباری مفادات کے تحفظ میں مشغول رہتا ہے، جس کی وجہ سے پیدا ہونے والا مالیاتی خسارہ مسلسل بڑھتا چلا جا رہا ہے۔

حل اور آئندہ کا لائحہ عمل
پاکستان کو اس معاشی دلدل سے نکلنے کیلئےایک جامع اور منصفانہ اصلاحاتی ایجنڈے کے ساتھ ساتھ سیاسی ارادے کی ضرورت ہے.

شفاف ڈیجیٹل ٹیکسیشن
آن لائن پلیٹ فارمز اور ڈیجیٹل لین دین پر واضح اور مناسب ٹیکس پالیسی وضع کی جائے تاکہ تمام زمروں سے ریونیو حاصل ہو سکے۔

کریک ڈاؤن اور بلا تفریق احتساب
ٹیکس چوری کا خاتمہ کیا جائے اور صرف غریب یا ملازم پیشہ طبقے کو نچوڑنے کے بجائے طاقتور اور اشرافیہ کو ٹیکس نیٹ میں لایا جائے۔

غیر ضروری سرکاری اخراجات کا خاتمہ
وزراء، پارلیمنٹرینز، اعلیٰ حکام و دیگر کو دی جانے والی تمام مفت سہولیات اور مراعات کا فوری خاتمہ کیا جائے تاکہ مالیاتی خسارے کو کم کیا جا سکے۔

پاکستان کی معاشی بقا کا راز شفافیت، مالیاتی انصاف اور دورِ حاضر کے تقاضوں کے مطابق ڈیجیٹل ٹیکس پالیسیوں کو اپنانے میں مضمر ہے۔ اگر ریاست واقعی ملک کو پائیدار ترقی کی راہ پر گامزن کرنا چاہتی ہے تو اسے کھوکھلے دعووں سے نکل کر حقیقی اور اثر انگیز اصلاحات نافذ کرنا ہوں گی۔