پشاور میں نجی اسکول کی چھت گرنے سے 35 افراد جاں بحق، مالک گرفتار

پشاور (خبر ایجنسیاں) پشاور کے علاقے دیر کالونی میں تین منزلہ نجی اسکول کی چھت گرنے سے 34 بچوں اور ایک خاتون استاد سمیت 35 افراد جاں بحق ہو گئے۔ جاں بحق بچوں میں 6 بچیاں بھی شامل ہیں۔اسپتال انتظامیہ کے مطابق لیڈی ریڈنگ اسپتال میں 33 جبکہ نصیر اللہ بابر میموریل اسپتال میں 2 لاشیں لائی گئیں۔

سی سی پی او میاں سعید نے بتایا کہ نجی اسکول کے مالک کو گرفتار کر لیا گیا ہے۔ امدادی حکام کے مطابق صبح 8 بج کر 48 منٹ پر اسکول کی چھت گرنے کی اطلاع ملی تھی۔امدادی حکام کا کہنا ہے کہ لیڈی ریڈنگ اسپتال میں 20 جبکہ نصیر اللہ بابر اسپتال میں 33 زخمیوں کو منتقل کیا گیا، جن میں بعض کی حالت تشویش ناک ہے۔ حکام کے مطابق ملبے تلے دبے تمام افراد کو نکال لیا گیا ہے۔

ڈپٹی کمشنر نے واقعے کی وجوہات معلوم کرنے کے لیے انکوائری کمیٹی قائم کر دی ہے۔ کمیٹی چھت گرنے کے اسباب کا تعین کرے گی۔سیکریٹری تعلیم عنایت اللہ وسیم نے بھی واقعے کا نوٹس لیتے ہوئے ایم ڈی پی ایس آر اے سے اگلے روز تک رپورٹ طلب کر لی ہے۔

ایس ایس پی آپریشنز کے مطابق اسکول کی چھت کمزور تھی اور اس میں ٹی آئرن اور چوکے استعمال کیے گئے تھے۔ ان کا کہنا ہے کہ چھت پر 110 سے 115 بچے موجود تھے، تاہم عمارت کی چھت وزن برداشت نہ کر سکی اور گر گئی، جس کے نتیجے میں بچے ملبے تلے دب گئے۔

پولیس کے تفتیشی افسر نے بتایا کہ اسکول کی عمارت میں ناقص تعمیراتی مواد استعمال کیا گیا تھا، جس کے باعث اسکول کے مالک کو گرفتار کیا گیا ہے۔

وزیرِ اعظم شہباز شریف نے پشاور میں اسکول کی چھت گرنے سے قیمتی جانوں کے ضیاع پر گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کیا ہے۔ زخمیوں کی جلد صحت یابی کیلئے دعا کرتے ہوئے انتظامیہ کو امدادی کارروائیاں تیز کرنے اور زخمیوں کو ہر ممکن طبی امداد فراہم کرنے کی ہدایت کی ہے۔

گورنر خیبر پختونخوا فیصل کریم کنڈی نے بھی واقعے پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے متعلقہ حکام سے رپورٹ طلب کر لی ہے۔ انہوں نے زخمی بچوں کو بہترین طبی سہولتیں فراہم کرنے کی ہدایت کی۔

مشیرِ اطلاعات خیبر پختونخوا ثمر ہارون بلور نے کہا کہ پشاور کے علاقے دیر کالونی میں نجی اسکول کی چھت گرنے کا افسوس ناک واقعہ پیش آیا ہے جس پر دلی دکھ ہے۔ انہوں نے انتظامیہ پر زور دیا کہ زخمی بچوں کو بروقت اور بہترین طبی سہولتوں کی فراہمی یقینی بنائی جائے۔