پاکستان پیپلزپارٹی مسلم لیگ کے بعد میرا پہلا سیاسی پیار تھی جس کی وجہ دوسرے نوجوانوں کی طرح میرے لئے بھی ذوالفقار علی بھٹو کی شخضیت کا سحر تھا، بھٹو جب کابینہ میں پہلی بار وفاقی وزیر کی حیثیت سے شامل ہوئے تو ان کے فیشن نے نوجوانوں کو متوجہ کر لیا تھااور ان کو دیکھ کر ہی ٹیڈی پتلون کا فیشن اختیار کیا تھا۔ شخصیت کی یہ پسندیدگی تھی کہ جب وہ ایوب کابینہ سے وزیرخارجہ کی حیثیت سے مستعفی ہو کر ٹرین کے لئے ذریعے راولپنڈی سے کراچی جاتے ہوئے لاہور میں آئے تو میں بھی رپورٹنگ کے لئے بڑے شوق سے ریلوے سٹیشن پہنچا تھا اور بھٹو کشش کا ایک رپورٹر کی حیثیت سے بھی مشاہدہ کیا اور خبر کی فائلنگ میں اپنا حصہ ڈالا کہ وہاں استاد محترم سید اکمل علیمی بھی موجود تھے۔ اس موقع پر جمع ہونے والے عوام کی کثرت ہی نے پیپلزپارٹی کے قیام کی راہ ہموار کی تھی اور پھر 1967ء میں قائم ہونے والی یہ جماعت مقبول ترین ثابت ہوئی۔ پہلا تاثر یقینی طور پر شخصیت کی کرشمہ سازی تھی تاہم پارٹی کے قیام اور اعلان کے بعد منشور نے توجہ کھینچ لی تھی اور میں بھی بے شمار دوسرے دوستوں کی طرح اقتصادی اور معاشی پروگرام سے متاثر ہوا جس کا بڑا نعرہ ”سوشلزم ہماری معیشت ہے“ تھا اور اسی نے مزید متاثر بھی کیا تھا، (اگرچہ یہ خواب ہی رہا) یوں میں بھی دوسرے نوجوانوں اور ٹریڈ یونینسٹ حضرات کی طرح سوشلسٹ انقلاب کا داعی ہو گیا اگرچہ یہ سلوگن پہلے اسلامی سوشلزم اور پھر مساوات محمدی ہوا۔ مولانا کوثر نیازی اور محمد حنیف رامے داعی تھے۔ بہرحال یہ تاثر طویل عرصہ تک اس جماعت کے متاثرین میں شامل دوستوں کے ساتھ تصور اتی دنیا بسائے رکھی اور پھر رپورٹنگ میں یہ بیٹ بھی میرے حصے میں رہی اور تعلقات بھی استوار رہے (یہ عرض کردوں کہ اس تمام تر محبت اور ہمدردی کے باوجود صحافیانہ کام میں ڈنڈی نہیں ماری کہ اساتذہ کا سبق یہی تھا کہ نظریات کام پر اثر انداز نہیں ہونا چاہئیں۔)
یہ عرض کرنے کا مقصد یہ ہے کہ نہ صرف رپورٹر بلکہ ایک ہمدرد کی حیثیت سے بھی پارٹی کے عروج و زوال کا سارا زمانہ دیکھا اور پھر پارٹی کے اقتدار ہی کے دور سے آہستہ آہستہ دوری شروع ہوئی اور اس نے محترم آصف علی زرداری کے دور اور محترمہ کی شہادت سے مایوسی تک پہنچا دیا۔ پہلی بات تو یہ کہ خود ذوالفقار علی بھٹو کے دور میں جھٹکے لگے کہ بتدریج جماعت کی ترقی پسند پالیسی پر عمل نہ ہوا، بلکہ اس دور (1974ء) میں ہم نے ملازمت سے برخاستگی اور پھر تحریک کے دوران جیل یاترا بھی کرلی۔ میں کبھی بھی اس جماعت کا کارکن نہیں تھا اور نہ بننے کی خواہش کی تاہم منشور پر عملدرآمد کی خواہش ضرور تھی جو پوری نہ ہوئی۔ واقعات بہت ہیں جن کے لئے پوری کتاب کی ضرورت ہے تاہم محترمہ بے نظیر بھٹو کی شہادت کے بعد ”پاکستان کھپے“ نے کام دکھا دیا۔ محترمہ بے نظیر بھٹو کی شہادت کے صلے میں ملے اقتدار نے تو ساری پرتیں کھول دیں۔ بہرحال دوستی اور پیار کا جو دائرہ بنا وہ اب تک بھی قائم ہے اگرچہ میل ملاقات میں تعطل آ گیا کہ رپورٹنگ چھوڑے بھی کئی سال ہو گئے۔ بہرحال ملکی بہبود کے حوالے سے جماعتوں کے پروگرام اور کارکردگی ہمیشہ سے سامنے رہی اور اس حوالے سے مایوسی کا شکار ہوں۔ میرے بہت سے دوست جواب سینئر کہلاتے ہیں مجھ سے متفق ہیں تاہم ان کے نزدیک کچھ بھی ہو پیپلزپارٹی ان کی محبت ہے۔
قارئین! آپ سوچ رہے ہوں گے کہ آج ذہنی رو بھٹک گئی ہے، ایسی کوئی بات نہیں یہ سب تجربے کے باعث ہے کہ پیپلزپارٹی نے بھی دوسری جماعتوں کی طرح مایوس کیا ہے اور اس کا دور محترمہ کے بعد پارٹی کو ملنے والے اقتدار سے شروع ہوتا ہے، کوئی مانے یا نہ مانے پیپلزپارٹی کا تشخص ایک ترقی پسند، اینٹی اسٹیبلشمنٹ جماعت کا ہے جسے محترمہ نے برقرار رکھا تھا اگرچہ وہ اسٹیبلشمنٹ دشمن نہیں تھیں لیکن تعلقات کو ایک وقار کے ساتھ جاری رکھنے کی خواہش مند تھیں، اسی لئے ان کو ایسا کوئی رکن یا رہنمابُرا نہیں لگا جس کے تعلقات اسٹیبلشمنٹ کے کسی اہم رکن یا شخصیت سے ہوں،(اس کی شہادت چوہدری منور انجم دے سکتے ہیں جو طویل عرصہ بی بی کے کوآڈینیٹر رہے)، ضروری صرف یہ تھا کہ پارٹی لیڈر کی حیثیت سے ان کو یہ معلوم ہونا چاہئے، البتہ ان کی اسی خودداری نے جماعت کو کئی روز ”بد“ بھی دکھائے۔
محترمہ بڑی زبردست شخصیت کی مالک اور خود دار رہنما تھیں، محاذ آرائی پسند نہیں کرتی تھیں لیکن ان کو گھسیٹ لیا جاتا تھا، وہ تو اس حد تک بھی مان جاتی تھیں کہ نوابزادہ نصراللہ خان کے ایماء پر وہ نہ صرف ادارہ منہاج القرآن گئیں بلکہ جب نوابزادہ کے ایماء پر ڈاکٹر طاہر القادری کی جماعت اتحاد میں شامل ہو گئی اور ڈاکٹر طاہر القادری کو اس سیاسی اتحاد کا سربراہ بنایا گیا تو وہ بہت حیران ہوئیں کہ یہ ان کیلئے دھچکا تھا،تاہم وہ برداشت کر گئیں اگرچہ یہ الگ بات ہے کہ ڈاکٹرطاہر القادری تین ماہ بھی ساتھ نہ چل سکے اور صدارت چھوڑ کر ”پگ“ نوابزادہ نصراللہ کے سر پر رکھ دی، اس لئے میرے تجربے میں یہی ہے کہ محترمہ نظریاتی طور پر سخت گیر ہونے کے باوجود سیاسی لچک ضرور رکھتی تھیں، تاہم صدر آصف علی زرداری خود کو ایسی کسی پابندی پر مجبور نہیں پاتے بلکہ وہ دوسروں سے بڑھ کر تعلقات رکھنے میں خود کو ماہر تصور کرتے ہیں اور ان کی ایسی ہی پالیسی کے باعث جماعت میں تضاد بھی پایا جاتا ہے اور پیپلزپارٹی کی پوزیشن بھی بری طرح متاثر ہوئی ہے جس کا نتیجہ سابقہ انتخابات میں سامنے آیا کہ پارٹی سندھ تک محدود ہو کر رہ گئی، نظریاتی حضرات نے بلاول بھٹو سے جو توقعات باندھیں وہ بھی پوری نہ ہو سکیں اور خود بلاول سمیت بچیاں بھی مجبور ہیں۔
اس جماعت اور اس کے مستقبل اور حال کے حوالے سے بہت کچھ کہا جا سکتا ہے لیکن یہ وقت نہیں ہے البتہ یہ عرض کر سکتا ہوں کہ جس 28ویں ترمیم کا شور ہے اور یہ کہا جا رہا ہے کہ پیپلزپارٹی کے تحفظات ہیں تو صاحبو!جان لو کہ یہ تحفظات بھی 27ویں ترمیم جیسے ہیں اور نہ ماننے کی جرائت اب کہاں، پارٹی کوسندھ ہی کی وجہ ے نئے صوبوں کے قیام اور این ایف سی ایوارڈ کے حصوں سے متعلق تحفظات ہیں اور انہی دو شعبوں پر موقف بھی سخت ہوگا کہ اگر یہ بھی مان لیا گیا تو مطلب سندھ سے بھی صفایا ہوگا اس لئے تحفظات ہوتے ہوئے بھی 28ویں ترمیم پر اتفاق رائے ہو ہی جائے گا۔ اس لئے کوئی زیادہ فکر کی ضرورت نہیں۔

