کیلگری(نمائندہ خصوصی) اونٹاریو کے وزیرِاعلیٰ ڈگ فورڈ نے البرٹا کی وزیرِاعلیٰ ڈینیئل اسمتھ کی موجودگی میں خطاب کرتے ہوئے البرٹا کے عوام پر زور دیا ہے کہ وہ کینیڈا کے وفاق کا حصہ برقرار رکھنے کے حق میں ووٹ دیں۔
صنعتی کانفرنس میں معیشت اور توانائی کی پالیسی پر گفتگو کے دوران ڈگ فورڈ سے البرٹا کی علیحدگی کے معاملے کے ممکنہ نتائج کے بارے میں سوال کیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ ملک کو متحد رہنے کی ضرورت ہے اور البرٹا کے عوام کے ساتھ ہمیشہ کھڑے رہیں گے۔
البرٹا کی وزیرِاعلیٰ ڈینیئل اسمتھ نے کہا کہ وفاقی پالیسیوں کے باعث البرٹا میں وفاقی حکومت کے خلاف ناراضی اور دوری کا احساس ایک دہائی سے زائد عرصے میں بڑھا ہے۔ تاہم ان کا کہنا تھا کہ وزیرِاعظم مارک کارنی کی حکومت نے البرٹا کی معیشت اور وسائل کی ترقی میں مدد کے لیے زیادہ لچک کا مظاہرہ کیا ہے۔
ڈینیئل اسمتھ کے مطابق وفاقی حکومت کے بارے میں موجود ناراضی اور حالیہ مہینوں میں البرٹا کے عوام کی جانب سے کینیڈا کے ساتھ اتحاد اور علیحدگی، دونوں کے حق میں بڑی تعداد میں دستخطی مہمات کے باعث انہیں ریفرنڈم کرانے کا فیصلہ کرنا پڑا۔ انہوں نے کہا کہ وہ خود 19 اکتوبر کو کینیڈا کے ساتھ رہنے کے حق میں ووٹ دیں گی اور امید ہے کہ معاملہ اسی روز حل ہوجائے گا۔
البرٹا میں 19 اکتوبر کو ریفرنڈم ہوگا جس میں ووٹرز سے پوچھا جائے گا کہ آیا صوبے کو کینیڈا کا حصہ برقرار رہنا چاہیے یا وفاق سے علیحدگی کے لیے دوسرے، لازمی ریفرنڈم کے انعقاد کی طرف بڑھنا چاہیے۔
حزبِ اختلاف کی نیو ڈیموکریٹک پارٹی سمیت ڈینیئل اسمتھ کے ناقدین کا کہنا ہے کہ ریفرنڈم کا مقصد صرف قومی اتحاد کا فیصلہ نہیں بلکہ ان کی جماعت یونائیٹڈ کنزرویٹو پارٹی کے علیحدگی پسند دھڑے کو ساتھ رکھنے کی کوشش بھی ہے۔ دوسری جانب علیحدگی پسند رہنماؤں کا مؤقف ہے کہ موجودہ سوال علیحدگی کا حتمی فیصلہ نہیں بلکہ ایک اور ووٹ کرانے کے بارے میں ہے اور وہ نتیجے سے قطع نظر اپنی مہم جاری رکھیں گے۔
رپورٹ کے مطابق البرٹا میں علیحدگی کا معاملہ عوامی سطح پر بھی نمایاں ہوچکا ہے، جہاں کینیڈا کے ساتھ اتحاد کی حمایت کرنے والے سرخ و سفید انتخابی نشانات علیحدگی کی حمایت کرنے والے نیلے نشانات کے مقابلے میں زیادہ دکھائی دے رہے ہیں۔ حالیہ عوامی جائزوں میں بھی البرٹا کے عوام کی اکثریت کی جانب سے کینیڈا کے ساتھ رہنے کی حمایت سامنے آئی ہے۔
اسی دوران کیلگری میں ایک اور کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے برطانیہ کے سابق وزیرِاعظم ڈیوڈ کیمرون نے البرٹا کی ممکنہ علیحدگی کے معاملے کا 2016ء کے بریگزٹ مباحثے سے موازنہ کرنے سے گریز کیا۔ انہوں نے کہا کہ بریگزٹ برطانیہ کے یورپی تجارتی اتحاد اور سیاسی شراکت میں رہنے یا نہ رہنے سے متعلق تھا، جبکہ البرٹا کا معاملہ ایک ملک کے مستقبل سے متعلق ہے۔
ڈیوڈ کیمرون نے 2014ء میں اسکاٹ لینڈ کے برطانیہ سے آزادی کے ریفرنڈم کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ اس وقت وہ برطانیہ کے تقسیم ہونے کے امکان پر انتہائی فکرمند تھے۔ اسکاٹ لینڈ کے عوام نے معمولی فرق سے برطانیہ کے ساتھ رہنے کے حق میں ووٹ دیا تھا۔
کیمرون نے کہا کہ اسکاٹ لینڈ کے ریفرنڈم کے باوجود آزادی کے حامیوں کی خواہش ختم نہیں ہوئی۔ انہوں نے اپنے اس فیصلے کا بھی دفاع کیا کہ عوام کو آزادی کے سوال پر ووٹ دینے کا موقع دیا جائے، کیونکہ ان کے خیال میں متبادل راستہ عوامی ناراضی میں اضافے کا باعث بن سکتا تھا۔
انہوں نے بتایا کہ اسکاٹ لینڈ کے ریفرنڈم کے سوال کو سادہ اور غیر پیچیدہ رکھنے پر اصرار کیا تھا، جبکہ البرٹا میں اس بار ووٹرز 10 مختلف سوالات پر اپنی رائے دیں گے۔ البرٹا حکومت کو علیحدگی سے متعلق سوال سمیت ریفرنڈم کے سوالات کی پیچیدہ اور طویل زبان پر تنقید کا سامنا ہے۔

