تاریخ کا مطالعہ کریں تو ملک فتح کرنے والوں کو ہیرو کے طور پیش کیا جاتا ہے۔ سکندر اعظم ہو یا تیمور لنگ جیسے بڑے فاتح، ہلاکو خان ہو یا چنگیز خان جیسے لاکھوں کے سر کاٹنے اور شہر جلانے والے قاتل فاتح۔ آج بھی ان کے نام تاریخ میں ”زندہ“ ہیں، لیکن گزشتہ اور موجودہ صدی میں جنگوں کی بجائے کھیلوں کے میدانوں میں نام پیدا کرنے والے ہیرو کہلاتے ہیں۔ پاکستان میں بھی کرکٹ، سکواش، ہاکی، پہلوانی اور دیگر کھیلوں میں کھلاڑیوں نے اپنا اپنا نام پیدا کیا۔ کرکٹ اور ہاکی میں لیجنڈ کھلاڑیوں کی ایک لمبی فہرست ہے۔ گزشتہ دِنوں پاکستان کی کرکٹ ٹیم برطانیہ اور ویسٹ انڈیز پانچ ٹیسٹ کھیلنے گئی تو ٹیم کی سینئر مینجمنٹ کے ”ستون“ڈائریکٹر پاکستان کرکٹ اکیڈمی اور چیف سلیکٹر نہ ہوتے ہوئے اس کا ”کردار نبھانے والے“ عاقب جاوید نے فرمایا تھا کہ اگر ہم ایک ٹیسٹ جیت گئے تو یہ ہماری کامیابی ہو گی۔ جب آپ جنگ شروع ہونے سے پہلے ہی حوصلہ ہارے ہوئے ہوں تو آپ نے جنگ کیا جیتنی ہے اور پھر وہی ہوا ہم برطانیہ میں تینوں کے تینوں ٹیسٹ بدترین انداز میں ہارے، لیکن آخری ٹیسٹ کیلئے پاکستان سے ”بھجوائی گئی کمک“ میں سب سے کامیاب فاسٹ باؤلر رضا اللہ ٹھہرے۔ 21 سالہ رضا اللہ کا تعلق مردان خیبرپختونخوا سے ہے۔ ان کی واحد ”خوبی 150 کی سپیڈ“ سے گیند کروانا ہے۔ اپنی اسی خوبی کی بدولت انہیں نیشنل کرکٹ اکیڈمی میں بلایا گیا تھا۔ توقع تو یہی تھی کہ اُنہیں ایشین گیمز میں ڈیبیو کرایا جائے گا لیکن پھر اُنہیں برطانیہ بھجوا دیا گیا۔
ٹیسٹ کرکٹ کے میدان میں اترنے سے پہلے رضا اللہ نے صرف 10 فرسٹ کلاس میچ کھیلے تھے، جس میں انہوں نے 36 وکٹیں اور 452 رنز سکور کیے تھے۔ ان 452 رنز میں ان کی ایک سنچری اور دو نصف سنچریاں بھی شامل تھیں۔ رضا اللہ کی خوبی ان کی مسلسل 145 کلومیٹر سے زیادہ رفتار سے گیند کرنے کی صلاحیت ہے۔انہوں نے برطانیہ میں ٹیسٹ ڈیبیو پر اپنی پہلے اوور میں 92 میل یعنی 148 کلومیٹر کی رفتار سے گیند کی، لیکن اصل کھیل اس وقت شروع ہوا جب نویں نمبر پر بیٹنگ کے لئے آنے والے رضا اللہ نے دسویں نمبر پر آنے والے ساتھی فاسٹ باؤلر محمد عباس کے ساتھ مل کر وہ کر دکھایا جو ہمارے نامور بیٹسمین نہ کر سکے تھے۔ رضا اللہ نے اپنے ڈیبیو پر پاکستان کی طرف سے تیز ترین نصف سنچری کا اعزاز حاصل کیا۔ انہوں نے یہ نصف سنچری 43 گیندیں کھیل کر بنائی۔ ان کے63 گیندوں پر بنائے 81 رنز بھی نویں نمبر پر ڈیبیو کرنے والے پاکستانی کھلاڑی کا نیا ریکارڈ ہے۔ رضا اللہ نے وکٹیں تو چار حاصل کیں لیکن اس میں جو روٹ جیسے بڑے انگلش کھلاڑی کی وکٹ بھی شامل تھی۔ رضا اللہ نے اپنی طوفانی بیٹنگ میں آٹھ چھکے مارنے کا عالمی ریکارڈ بھی برابر کیا اس سے پہلے ٹم ساؤتھی اس ریکارڈ کے مالک تھے، جنہوں نے اپنے ڈیبیو میچ میں آٹھ چھکے مارے تھے۔رضا اللہ نے تمام چھکے فاسٹ باؤلرز کو مارے۔ انہوں نے جوفرا آرچر کو تین، گس ایٹکنسن کو چار اور ایک چھکا جوش ٹنگ کو مارا۔
رضا اللہ اور محمد عباس کی 121 رنز کی شراکت داری کے دوران پاکستانی کرکٹ ٹیم کیلئے شرمندگی کا باعث بننے والے ”مایہ ناز بیٹسمین“ ڈریسنگ روم میں چہرے پہ خفت زدہ مسکراہٹ سجائے 9 ویں اور 10 ویں نمبر پر بیٹنگ کے لئے آنے والے ”باؤلرز“ کے ہاتھوں گورے فاسٹ باؤلرز جوفرا آرچر، اولی رابنسن، جوش ٹنگ اور ایٹکنسن کو ”مار پڑتے“ دیکھ رہے تھے۔ وہ باؤلر جس کو خیبرپختونخوا میں اس کے گھر سے فجر کی نماز کے وقت ”کال کر کے“ بلایا گیا۔ وہ جو اِس سے پہلے کبھی کرکٹ کی ”جنم بھومی“ کیا دنیا میں کہیں کسی اتنے بڑے انٹرنیشنل سٹیڈیم میں نہیں کھیلا تھا۔ اس نے اپنے پہلے ہی میچ میں گورے فاسٹ باؤلرز کے پھینکے باؤنسرز کو اُٹھا اُٹھا کر باؤنڈری کے باہر پھینکا۔ جن گورے باؤلرز اولی رابنسن، ایٹکنسن،جوش اور آرچر کو کھیلتے ہوئے ہمارے اوپنر صائم ایوب اور عبداللہ شفیق کی ٹانگیں کانپ رہی تھیں اور وہ ایسے آؤٹ ہوئے جیسے کھیلنا ہی نہیں آتا۔ صائم تو دونوں اننگز میں کھاتہ بھی نہ کھول سکے۔انہی فاسٹ باؤلرز کو عباس اور رضا اللہ کے ہاتھوں مار کھاتے، چوکے چھکے کھاتے دیکھنا پاکستانی بلے بازوں کو آئینہ دکھانے جیسا تھا۔
پاکستانی ٹیم کے سابق کپتان شان مسعود نروس نائنٹیز کا شکار ہوئے اور کپتان بابر اعظم جو 76 رنز بنانے کے بعد بھی سنبھل کے کھیلنا نہ سیکھ سکے اور جہاں میچ بچانے کے لئے سنبھل کر کھیلنا ضروری تھا غیر ذمہ داری سے کھیلتے ہوئے وکٹ گنوا بیٹھے۔ ان حالات میں ”اعلیٰ بلے باز“ کہلوانے والوں کو رضا اللہ اور محمد عباس نے 121 رنز بنا کر ”کھیلنا سکھایا“۔ 140 کی رفتار پر گیند کرنے والے گورے باؤلرز کو ٹاپ بیٹسمین تو بڑی شاٹ نہیں مار سکے لیکن عباس اور رضا اللہ کی جوڑی نے ایسا کر دکھایا۔ نئی گیند لینے کے باوجود گورے فاسٹ باؤلرز رضا اللہ اور عباس کے قدم نہ اکھیڑ سکے۔ آرچر، رابنسن، جوش، ایٹکنسن کو اتنی مار پڑی کہ برطانوی کپتان کو مجبورا آف سپنر ڈین لارنس کو گیند دینا پڑی۔ رضا اللہ کی طوفانی اننگ کا خاتمہ 81 رنز پر ہوا جب وہ ایک اور چھکا مارنے کی کوشش میں وکٹ کیپر کے ہاتھوں سٹمپ آوٹ ہو گئے۔ انہی کی بدولت پاکستان 449 رنز بنا سکا اور 129 رنز کی لیڈ حاصل کر سکا۔انہی کی بدولت میچ چوتھے دن میں گیا ورنہ ایک اور شکست تیسرے ہی دن مقدر میں لکھی جا چکی تھی۔
رضا اللہ پاکستان کے لئے پہلے طوفانی باؤلر نہیں ہیں۔ پاکستان کے سب سے طوفانی باؤلر کا اعزاز شعیب اختر کو حاصل ہے،جن کی گیندوں کو کھیلتے ہوئے بڑے بڑے بیٹسمینوں کی ٹانگیں کانپتی تھیں۔ شعیب اختر کی تیز رفتار گیندوں کی ”ضرب کی تاب نہ لاتے“ ہوئے بڑے بڑے بلے بازوں کے بیٹ ٹوٹے اور کئی بلے باز ”زمین بوس“ ہوئے۔ وسیم اکرم، وقار یونس، عمران خان، فضل محمود سب تیز باؤلر تھے۔ ایک طوفانی فاسٹ باؤلر محمد زاہد کا کیریئر بدقسمتی سے بہت مختصر رہا۔ ان سے بھی تیز رفتار طوفانی باؤلر 80ء کی دہائی کے عتیق الرحمن تھے جن کو ایک ”خود ساختہ کوچ“ نے ہم سے چھین لیا۔ آسٹریلیا کے دورے کے سائیڈ میچ میں انہوں نے اوپنرز کو اپنی تیز گیندوں سے ڈرا کر آؤٹ کر دیا۔ اس میچ کے کپتان محسن حسن خان کے مطابق ایلن بارڈر جب کھیلنے آئے تو انہوں نے کہا کہ اس کو باؤلنگ سے ہٹا دو یہ زخمی کر دے گا۔اس طوفانی باؤلر عتیق الرحمن کو کوچ خان محمد نے ”ایکشن تبدیل کروانے کے چکر“میں ایسے برباد کیا کہ ان کے بازوؤں کے مسلز ہی تباہ ہو گئے۔ اب یہ نیا طوفانی باؤلر رضا اللہ کسی کوچ کے ایکشن بدلوانے کے چکر میں تباہ ہوگا یا اس کو ہم نیا شعیب اختر بنائیں گے یہ وقت بتائے گا۔

