کتاب حکمت و عمل قرآن مجید میں اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں کہ دنیا میں جو کچھ بھی ہے اس سب کو فنا ہو جانا ہے اور صرف اللہ کی ذات برکات ہی باقی رہے گی۔ قرآن کریم کی روشنی ہی میں دینی علوم کے ماہرین نے تفسیریں لکھیں اور ہم سب کو کھل کر تفصیل سے مفہوم سمجھائے جن کے مطابق ہر انسان کو دنیا میں کئے گئے اپنے اعمال کا حساب بھی دینا ہے اور جب روزِ حساب ہو گا تو گناہ گار اگر چہرے سے پہچان لئے جائیں گے تو ان کے ہاتھ اور پاؤں بھی گواہی دیں گے کہ اللہ نے واضح کر دیا ہوا ہے کہ انسان جو بھی کرتا ہے وہ تحریر ہوتا رہتا ہے۔
اِس سب کے باوجود ہم جو مسلمان ہیں، صراط مستقیم پر چلنے سے گریزاں ہیں اور رسول اکرمؐ کے فرامین کو بھی نظر انداز کر دیتے ہیں آج کی دنیا میں گو حالات مزید ابتر ہیں کہ خود غرضی اور بددیانتی ہمارا شعار بن چکی ہے۔یہ مہینہ ذوالحج کا جو قریب الاختتام ہے اور پھر سال نو ہجری شروع ہونے والا ہے اسی ماہِ مبارک میں دنیا بھر سے 17لاکھ سے زیادہ مسلمانوں نے فریضہ حج بھی ادا کیا ہے،ان میں قریباً پونے دو لاکھ حجاج کرام کا تعلق پاکستان سے بھی تھا۔ فریضہ حج کے حوالے سے روایت ہے کہ یہ توبہ کا یوم ہے اور جب حاجی سچے دِل سے تائب ہو کر فریضہ ادا کرتا ہے تو اللہ اس کے سابقہ گناہ معاف فرما دیتے ہیں اور وہ پھر سے اس بچے کی طرح ہو جاتا ہے جو ماں کے پیٹ سے پاکیزہ نکلتا ہے، لیکن دُکھ اس بات پر ہے کہ یہ فرض ہر سال ادا ہوتا ہے اور تعداد میں اضافہ ہوتا رہتا ہے،فریضہ ادا کرنے والوں کا تعلق اس مادی دنیا کے ہر ملک سے ہوتا ہے۔بدقسمتی یہ ہے کہ اس سب کے باوجود دنیا بھر میں مسلمان خسارے میں ہیں،ان کے اندر اتحاد و اتفاق نہیں اور اغیار اپنی خصلت کے مطابق ان پر بھاری پڑ رہے ہیں۔
اِس وقت دنیا میں کثیر ممالک اور اربوں مسلمان ہونے کے باوجود ان میں وہ اتحاد و اتفاق نہیں ہے جس کی بدولت یہ کفار کے زیر دست ہیں آج کے مسلمان ممالک تیل کی دولت سے مالا مال ہیں اور یہ دولت نبوت کے بتائے راستے پر خرچ نہیں ہو رہی بلکہ اغیار کے کام آ رہی ہے، نااتفاقی ہی کے باعث آج نافرمان صہیونی برتری کا اظہار کر رہے ہیں۔امریکہ اور اسرائیل مل کر مسلمانوں کے لئے عزرائیل بنے ہوئے ہیں۔میں نے اپنے تجزیے کے مطابق عرض کیا تھا کہ ڈونلڈ ٹرمپ بڑی چالاکی سے اسرائیل کو موقع دے رہا ہے کہ وہ ناجائز ریاست کی حدود میں توسیع کرتا چلا جائے اور اس راہ میں رکاوٹ حماس، حزبِ المجاہدین اور دیگر گروہوں کو ملیا میٹ کرتا رہے۔
اقوام متحدہ کا چارٹر انسانی حقوق کی بات کرتا ہے اور ماضی قریب تک امریکہ بھی انسانی حقوق ہی کا علمبردار بنا ہوا تھا،وہ اب بھی دعویٰ کرتا ہے لیکن عمل یہ ہے کہ غزہ میں نہتے فلسطینیوں پر بارود کی برسات سے پورا غزہ ملبے کا ڈھیر بنا دیا گیا ہے۔لاکھوں شہری اللہ کو پیارے اور زخمی ہوئے۔ معصوم بچوں پر بھی کسی کو ترس نہ آیا، یہ سلسلہ اب بھی جاری ہے اور امریکہ کی طرف سے آنکھیں بند ہیں۔دنیا کے دیگر ممالک بھی گونگلوؤں سے مٹی جھاڑنے کا عمل جاری رکھے ہوئے ہیں۔ان میں کسی نے بھی عملی طور پر پر مظلوموں کا ساتھ نہیں دیا اور امریکہ تو دامے،درمے، سخنے صہیونی حکومت کے ساتھ مکمل تعاون کرتا چلا جا رہا ہے،اور اب ایران کے ساتھ جنگ بندی بھی توڑ کر حملے کر کے اور معاہدے میں تاخیر کا الزام ایران پر لگا کر حالات کو طوالت دے رہا ہے،مقصد اسرائیل کو سہولت پہنچانا ہے،اس حوالے سے اب تک مسلمان ممالک کے درمیان مکمل اتفاق رائے بھی نہیں، بحرین اور متحدہ امارات نے ”ابراہم اکارڈ“ پر دستخط کر رکھے ہیں۔ مصر اور اردن مفاہمت کے راستے پر ہیں جبکہ ترکیہ کے بھی سفارتی تعلقات ہیں۔
سعودی عرب اور پاکستان کے علاوہ دیگر مسلمان ممالک پر بھی دباؤ ہے کہ وہ اسرائیل کی ناجائز ریاست کو تسلیم کر لیں،جو مشرق وسطیٰ کے حالات اور غزہ و لبنان کی بربادی کے باعث ایسا کرنے سے گریز پا ہیں۔پاکستان کی طرف سے اپنے کئی اہداف میں تاخیر کر کے ایران، امریکہ مفاہمت کی بھرپور کوشش کی گئی جو جنگ بندی کی حد تک کامیاب بھی رہی لیکن چالاکی اور حکمت عملی کے تحت ”بھولا“ ڈونلڈ ٹرمپ فیلڈ مارشل اور وزیراعظم کی مسلسل تعریف کر رہا ہے لیکن کِلا وہیں ہے جہاں گاڑھا تھا، اب پھر سے ایران کے ساتھ تبادلہ حرب شروع کر دیا گیا ہے جبکہ صہیونی حکومت غزہ پر مسلسل مظالم ڈھا رہی ہے اور اب اس کی طرف سے لبنان پر حملے تیز کر دیئے گئے ہیں کیا یہ سب امریکی تعاون کے بغیر ممکن ہے؟
اِس وقت دنیا سائنسی طور پر ترقی کی راہ پر گامزن ہے، خلاء کی تسخیر کے خواب دیکھے جا رہے ہیں اسی خلاء میں پرواز کرتے مصنوعی جاسوسی سیارے ترقی پسند ممالک کو تمام معلومات مہیا کر رہے ہیں اور امریکہ اسی سہارے اپنے اہداف طے کرتا ہے اور اسرائیل کی بھی مدد کرتا ہے۔اس حوالے سے یہی کہا جاتا ہے کہ مسلمان ممالک کو اپنے اندر مکمل اتحاد پیدا کر کے مشترکہ کارروائیاں کرنا ہوں گی اور اگر جنگی طور پر نہیں تو معاشی طور پر ہی اسرائیل،امریکہ گٹھ جوڑ کا مقابلہ کرنا چاہئے، اس گٹھ جوڑ نے پوری دنیا کو ہلا رکھا ہے، اب تو یورپی ممالک بھی احتجاج کرتے ہیں، لیکن عملی قدم کوئی نہیں اٹھاتا،بلکہ نشانہ پھر سے ایران ہوتا ہے۔ تازہ ترین صورتحال یہ ہے کہ ڈونلڈ ٹرمپ بھولے بابا کے طور پر معاہدہ معاہدہ کی گردان الاپ رہا ہے لیکن مزاحمت کاروں کی کمر توڑنے میں اسرائیل کا معاون ہے اس سلسلے میں مسلمان تو مسلمان اب تو یورپ کو بھی سوچنا ہو گا۔
میں ایک سے زیادہ بار احادیث کی روشنی میں عرض کر چکا کہ دنیا اختتام کی طرف بڑھ رہی ہے اور اس میں مسلمان خسارے میں ہوں گے، قدرت نے خود انسان کے ہاتھوں ہی اسباب پیدا کرانا شروع کر رکھے ہیں۔ موسمیاتی تبدیلی، گلیشیرز کا پگھلنا، دنیا بھر میں آندھیاں اور سیلاب، زلزلے اور تمام تر جدت کے باوجود وسیع نقصان،یہ سب توبہ کا تقاضہ کرتے ہیں کہ اللہ کو راضی کیا جائے اور اس کی برکت سے انسانی محنت کے ساتھ ان آفات سماوی کا مقابلہ اور بہتری کے لئے اقدامات کئے جائیں لیکن ادھر کوئی توجہ نہیں۔مسلمانوں کے لئے تو واضح ہے ”یہ قرآن میں کیوں غور نہیں کرتے، کیا ان کے دِلوں پر قفل پڑے ہوئے ہیں“۔

