گورنر راج : لازم ہے کہ ہم دیکھیں گے!

وہی ہوا جس کا ڈر تھا۔وہی ہوا جس سے یقینا بچا جا سکتا تھا،،،ایمرجنسی ڈکلیئر کردی گئی،،، کے پی کے میں گورنر راج لگا دیا گیا،،، اتنا بڑا قدم اُٹھانے کی یقینا کوئی تو وجہ بنی ہوگی،،، ورنہ تو گنڈا پور نے بھی کئی لانگ مارچ نکالے تھے،،، اُس پر تو انہوں نے کوئی ایکشن نہیں لیاتھا،،، لیکن اس بار سرکار نے انتہائی قدم اُٹھا کر یہ ثابت کر دیا کہ اڈیالہ جیل میں موجود قیدی ابھی بھی ان کے سروں پر سوار ہے،،، تبھی یہ اتنے بڑے اقدام کررہے ہیں،،،کہ انہوں نے منتخب حکومت کو گھر بھیجا ہے،،، تبھی انہوں نے کے پی کے کی ساری قیادت کو جیلوں میں ڈال دیا ہے،، تبھی انہوں نے راتوں رات آپریشن کرکے مبینہ طور پر مظاہرین پر تشدد کیا ہے،،، تبھی انہوں نے سول نافرمانی کے ڈر سے پولیس اور بیوروکریسی میں بھی بڑے پیمانے پر اُکھاڑ بچھاڑ کی ہے،،، تبھی انہوں نے جمہوریت کی بساط لپیٹ کر نیم ڈکٹیٹر شپ کو ترجیح دی ہے،،،

اور ویسے آگے چلنے سے پہلے بتاتا چلوں کہ موجودہ ایمرجنسی کا باعث بننے والے مطالبات میں اتنا بڑا مسئلہ بھی نہیں تھا،،، یعنی 18 اگست کو سپریم کورٹ آف پاکستان نے حکم دیا کہ عمران خان کو دو روز کے اندر اسلام آباد کے الشفا ہسپتال منتقل کیا جائے، مگر اس عدالتی حکم پر عمل درآمد کے بجائے شہباز شریف حکومت نے انہیں پاکستان انسٹیٹیوٹ آف میڈیکل سائنسز (پمز) لے جانے کے بعد دوبارہ اڈیالہ جیل منتقل کر دیا۔جس پر خیبرپختونخوا کے وزیراعلیٰ سہیل آفریدی نے اسلام آباد کی جانب لانگ مارچ کا اعلان کر دیا۔ وفاقی حکومت نے مارچ کو روکنے کے لیے تحریک انصاف سے مذاکرات کا راستہ اختیار کیا، تاہم سہیل آفریدی کا مو¿قف تھا کہ اگر عمران خان خود انہیں مارچ ختم کرنے کی ہدایت دیں تو وہ اپنے فیصلے پر نظرثانی کر سکتے ہیں۔ مذاکرات میں اتفاق رائے نہ ہو سکا تو وفاقی حکومت نے اس ناکامی کی ذمہ داری سہیل آفریدی پر عائد کرتے ہوئے خیبرپختونخوا میں گورنر راج نافذ کر دیا،،، اور ویسے بھی پاکستان کی سیاسی تاریخ میں کسی صوبے میں گورنر راج لگانا کوئی غیر معمولی واقعہ نہیں، لیکن اس اقدام کے پس منظر میں موجود تاریخی تلخیاں، سیاسی تصادم اور جمہوری عمل پر مرتب ہونے والے اثرات ہمیشہ تشویش کا باعث رہے ہیں۔ افسوس ناک امر یہ ہے کہ ماضی کی ان تلخ مثالوں سے سبق سیکھنے کے بجائے ہم ایک مرتبہ پھر اسی راستے پر چلتے دکھائی دے رہے ہیں۔کیوں کہ مشرف نے 12اکتوبر کو مارشل لاءلگایا اور ایمرجنسی ڈکلیئر کی،،، جبکہ انہوں نے 11اکتوبر کو ایسا کردیا،،، حالانکہ دونوں دن ایک ہی کام ہوا،،،لیکن مجھے یقین ہے کہ ن لیگ والے 11اکتوبر کو یوم نجات منائیں گے،،، اور 12اکتوبر کو یوم سیاہ،،، اس لیے سمجھ سے باہر ہے کہ آخر ہمارے سیاستدانوں کا دوہرا پن کب ختم ہوگا؟ خیر بات ہو رہی تھی کہ ہر ایمرجنسی کے بعد ہمیشہ ملک مسائل کا شکار ہوا۔ جیسے مشرقی پاکستان میں پہلا گورنر راج 1954میں اُس وقت لگایا گیا جب متحدہ محاذ نے صوبائی انتخابات میں مسلم لیگ کو بھاری شکست دی۔یہ وہاں پر جمہوری فتح تھی، مگر جب حسین شہید سہروردی، فضل الحق اور دوسرے رہنما حکومت سازی کی تیاری کر رہے تھے،تو گورنر اسکندر مرزا نے اچانک اسمبلی برخاست کر کے گورنر راج نافذ کر دیا۔اور وجہ یہ بتائی گئی کہ صوبے میں امن و امان کی بگڑتی صورت حال اور انتظامی مسائل کنٹرول سے باہر ہو گئے ہیں،،، اس حوالے سے اُس وقت کے اخبارات میں خاصی جگ ہنسائی ہوئی لیکن ہم اُس وقت بھی اچھے خاصے ڈھیٹ پن کا مظاہرہ کرتے تھے۔ کہ کہیں کسی صوبے میں مرکز کا کنٹرول نہ ختم ہو جائے اور مشرقی پاکستان میں کہیں عوامی حکومت نہ آجائے۔ اور اسی پہلے گورنر راج کے بعد پہلا موقع تھا جب بنگالیوں کو لگا کہ وفاق جمہوری حق نہیں دے رہا۔اور یہیں سے بنگالی قوم پرستی نے جنم لیا۔

پھر وہاں دوسرا گورنر راج 1958ءمیں لگا، جب صدر اسکندر مرزا نے ملک بھر میں مارشل لا نافذ کیا۔اس کے نتیجے میں مشرقی پاکستان سمیت تمام صوبوں میں گورنر راج لگا دیا گیا۔جس کے بعد صوبائی خودمختاری مکمل طور پر ختم ہو گئی۔فوجی نظم و نسق نے مقامی سیاست کو دبایا۔بنگالی عوام کو احساس ہوا کہ مرکز ان پر فوجی حکمرانی مسلط کر رہا ہے۔پھر تیسرا گورنر راج 1969ءمیں لگایا گیا جس کی بڑی وجہ وہاں پر ایوب خان کے خلاف تحریکیں چل رہی تھیں،،، جنرل ایوب نے استعفیٰ تودے دیا مگر اقتدارجیسے ہی جنرل یحییٰ خان کے پاس آیا تو انہوں نے پورے ملک میں مارشل لا کے ساتھ گورنر راج نافذ کردیا۔ جس سے مشرقی پاکستان کے عوام کو ایک بار پھر جمہوری نمائندگی سے محروم کر دیا گیا۔مشرقی پاکستان میں بار بار گورنر راج لگانے کے نتیجے میں جمہوری ادارے تباہ ہوئے، وفاق پر اعتماد ختم ہو گیا، بنگالی عوام میں احساسِ محرومی انتہا کو پہنچا اور بالآخر 1971 میں علیحدگی اور بنگلہ دیش کے قیام تک نوبت پہنچ گئی۔اور پھر یہ سب کچھ کہنے سننے میں شاید آسان لگے ، لیکن ان گورنر راجوں میں مشرقی پاکستان میں بہت سوں کو قتل کردیا گیا، ،، ہماری 90ہزار فوج کو وہاں ہتھیار ڈالنا پڑے ،،، جسے بھلانا شاید کبھی آسان نہیں ہوگا!

پھر بھٹو کی طرف سے 1973ءمیں بلوچستان کے منتخب وزیراعلیٰ عطاءاللہ مینگل کی حکومت کو برطرف کر کے صوبے میں گورنر راج نافذ کر دیا گیا۔ اکبر بگٹی گورنر بنائے گئے لیکن صرف دس ماہ کے بعد انہوں نے وزیراعظم ذوالفقار علی بھٹو کو خدا حافظ کہہ دیا،،، لیکن اس کے بعد از اثرات اتنے گہرے نکلے کہ بغاوت کی بنیاد یہیں سے پڑی۔پھر 1975ءمیں بھٹو کے ایک قریبی ساتھی حیات محمد خان شیرپاﺅ کو پشاور یونیورسٹی میں قتل کر دیا گیا۔ قتل کا الزام ولی خان اور ان کے ساتھیوں پر لگا کر صوبے میں گورنر راج نافذ کر دیا گیا۔ انٹیلی جنس ایجنسی کے سابق افسر میجر جنرل سید غوث گورنر بنا دیئے گئے لیکن وہ صوبے کے حالات نہ سنبھال سکے۔ بلوچستان اور خیبرپختونخوا آج بھی وہیں کھڑے ہیں جہاں پچاس سال پہلے کھڑے تھے۔الغرض آپ مشرف کی ایمرجنسی کو دیکھ لیں کہ اُس کے بعد حالات آج تک نہیں سنبھل سکے،،، نہ ملکی سطح پر پاکستان کو قرار آیا اور نہ صوبائی سطح پر۔ بلکہ پاکستان نے دہشت گردی کے خلاف فرنٹ لائن بننے کی جو قیمت اُس وقت ادا کی، ہم آج بھی اُسی ”قربانی“ کی وجہ سے خوار ہو رہے ہیں۔

ٓؒالغرض ،،، قصہ مختصر کہ موجودہ ایمرجنسی اور گورنرراج میں بھی آپ دیکھیں گے کہ اس کے سائیڈ ایفیکٹس ضرور آئیں گے،،، راقم کی طرف سے اسے چیلنج سمجھیں یا کچھ اور ،،،لیکن یہ طے ہے کہ ایسا کرنے سے حالات سلجھنے کے بجائے بگڑیں گے،،، اور پھر اہم ترین بات یہ ہے کہ ہم نے اس سے کبھی سبق بھی سیکھنے کی کوشش بھی نہیں کی۔ اور پھر یہ بات تو طے ہے کہ پاکستان میں اکثر گورنر راج سیاسی اختلافات یا حکومت گرانے کے لیے استعمال ہوا۔اس سے سیاست میں بداعتمادی اور انتقام کی فضا پیدا ہوئی۔کیوں کہ جب سیاسی نظام معطل ہوتا ہے تو انتظامی مشینری غیر مو¿ثر ہو جاتی ہے۔افسران غیر یقینی صورتِ حال میں فیصلے لینے سے گریز کرتے ہیں، اور ترقیاتی منصوبے رک جاتے ہیں۔اور سب سے اہم بات کہ گورنر راج عوامی رائے کے برخلاف ہوتا ہے، اس سے احتجاج، ہڑتالیں اور بدامنی بڑھ جاتی ہے۔

بہرکیف جہاں پر بھی گورنر راج لگایا گیا ہے، کیا وہاں پر بہتری ہوئی ہے؟ یقینا جس نے بھی ایسا کیا اُس نے اپنی حکومت کو کمزور کیا، وہ طاقتور نہیں ہوئی ،، یعنی آپ تحریک انصاف کو خود مقبولیت دے رہے ہیں،،، کیوں کہ آپ اُسے عوام سے ہمدردی کا ووٹ لے کر دینا چاہتے ہیں،،، اور عوام بھی اُسے ہی ووٹ دیتی ہے، جس پر ظلم ہو رہا ہو،،، نہیں یقین تو تاریخ اُٹھا کر دیکھ لیں،،، کہ جو سلوک آج تحریک انصاف کے ساتھ ہو رہا ہے،،، یہی سلوک ضیاءدور میں پیپلزپارٹی کے ساتھ 11سال تک ہوتا رہا،،، تو کیا وہ اقتدار سے آﺅٹ ہو گئی؟کیا مقتدرہ اُسے دبانے میں کامیاب رہی؟ وہ پھر بھی اقتدار میںآئی اور بار بار آئی۔ اُس وقت بھی جو لوگ ذہنی طور پر پیپلزپارٹی چھوڑ چکے ہوتے تھے،،، یہ اُن کو بھی گرفتار کر لیتے تھے،،، آج بھی جن لوگوں کا دھرنے سے تعلق ہی ہوتا،،، اُنہیں بھی حفظ ماتقدم کے طور پر گرفتار کر لیتے ہیں،،،جس کی وجہ سے وہ اپنی پارٹی کے ساتھ پکا ہو جاتا ہے،،، لہٰذاکسی پر ظلم کر کے اُس کا راستہ کبھی روکا نہیں جا سکتا،،، مذاکرات کا راستہ تلاش کریں،،، اپنی انا کی ضد سے باز رہیں،،، ملکی مفاد میں فیصلے کریں،،،

بہرکیف معاملہ سیاست کا نہیں ‘سلامتی کا ہے،اب پی ٹی آئی اس سسٹم کا حصہ نہیں رہی۔ میرا اندازہ ہے کہ اگلے مرحلے میں وہ قومی اسمبلی سے بھی استعفیٰ دے سکتی ہے۔ اس کے بعد کیا ہوگایقینا حالات مزید بگڑیں گے،،، لیکن حکومت ڈھٹائی کے ساتھ ان سیٹوں پر الیکشن کروا دے گی،،، اور ایک بار پھر تحریک انصاف کو سسٹم سے باہر کر دے گی،،، لیکن شفاف الیکشن آج ہوں یا 10سال بعد،،، فیصلہ حتمی ہوگا اور وہ عوام کا ہوگا،،، اور وہ فارم 45والا یعنی 2024والا ہی ہوگا،،، اس کے لیے آپ کچھ بھی کر لیں لیکن خاموش ووٹ ہمیشہ عوام کا ہوتا ہے ،،، اور وہ اُسی کے ساتھ ہوتا ہے جو مظلوم ہو،،، ورنہ آپ جتنا مرضی ظلم کر لیں بقول فیض احمد فیض
ہم دیکھیں گے، ہم دیکھیں گے
لازم ہے کہ ہم بھی دیکھیں گے
وہ دن کہ جس کا وعدہ ہے
جو لوحِ ازل میں لکھا ہے
جب ظلم و ستم کے کوہ گراں
روئی کی طرح اڑ جائیں گے