اونٹاریو کے وزیر اسٹین چو ہوٹل اخراجات کے تنازع پر مستعفی

ٹورنٹو (سی بی سی) اونٹاریو کے وزیرِ سیاحت، ثقافت اور گیمنگ اسٹین چو نے ٹورنٹو میں ہوٹل قیام کے 16 ہزار ڈالر کے اخراجات پر تنقید کے بعد کابینہ سے فوری طور پر استعفیٰ دے دیا۔

اسٹین چو نے سوشل میڈیا پر جاری بیان میں کہا کہ وہ اپنے فیصلے کی مکمل ذمہ داری قبول کرتے ہیں اور اس غلطی پر معذرت خواہ ہیں۔ انہوں نے کہا کہ وہ بطور رکن صوبائی اسمبلی (ایم پی پی) اپنے حلقہ ولوڈیل کی نمائندگی جاری رکھیں گے۔

انہوں نے بتایا کہ انہوں نے اسمبلی کے طویل اجلاسوں کے دوران ٹورنٹو میں رہائش سے متعلق اپنے تمام اخراجات کا جائزہ لیا اور وہ قواعد کے مطابق تھے، تاہم اعتراف کیا کہ انہوں نے آسان راستہ اختیار کیا اور یہ نہیں سوچا کہ عام شہری اس فیصلے کو کس نظر سے دیکھیں گے۔

اسٹین چو نے کہا کہ انہوں نے تمام 16 ہزار ڈالر کے اخراجات اپنی جیب سے واپس ادا کر دیے ہیں اور وہ نہیں چاہتے کہ ان کی وجہ سے حکومت کے کام متاثر ہوں۔

عوامی ریکارڈ کے مطابق 2023ء سے صوبائی کابینہ کے متعدد وزراء اور حکومتی ارکان، جو ٹورنٹو یا اس کے نواح میں رہتے ہیں، خصوصی حالات کے تحت ٹورنٹو کے ہوٹلوں میں قیام کے اخراجات سرکاری خزانے سے وصول کرتے رہے ہیں۔

ریکارڈ کے مطابق برمپٹن ایسٹ سے رکن اسمبلی ہردیپ گریوال نے 2023ء سے اب تک 27 ہزار ڈالر سے زائد، مسی ساگا۔اسٹریٹس ویل سے ایسوسی ایٹ وزیر نینا تانگری نے تقریباً 19 ہزار ڈالر، جبکہ برمپٹن سینٹر سے ایسوسی ایٹ وزیر شرمین ولیمز نے 15 ہزار ڈالر سے زائد کے ہوٹل اخراجات کلیم کیے۔

دوسری جانب پریمیئر ڈگ فورڈ نے اسٹین چو کے استعفے کو درست فیصلہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ ایسے اخراجات “مکمل طور پر ناقابل قبول” ہیں اور انہیں ہرگز برداشت نہیں کیا جائے گا۔

انہوں نے کہا کہ حکومت اس اصول کو ختم کرنے جا رہی ہے جس کے تحت کوئنز پارک سے 50 کلومیٹر کے اندر رہنے والے ارکان مخصوص حالات میں ہوٹل کے اخراجات وصول کر سکتے تھے، اور تمام متعلقہ ارکان سے ایک ایک پائی واپس لی جائے گی۔

ادھر اونٹاریو لبرل پارٹی کے عبوری رہنما جان فریزر نے کہا کہ صرف اسٹین چو کا استعفیٰ کافی نہیں، بلکہ اگر کسی اور وزیر نے بھی اس استثنائی ضابطے کا غلط استعمال کیا ہے تو اسے بھی مستعفی ہونا چاہیے۔

نیو ڈیموکریٹک پارٹی کی رہنما میریٹ اسٹائلز نے کہا کہ صرف استعفیٰ اس معاملے کا جواب نہیں، کیونکہ حکومتی ارکان نے مجموعی طور پر ٹیکس دہندگان کے ایک لاکھ 20 ہزار ڈالر سے زائد ہوٹل اخراجات وصول کیے ہیں۔

اونٹاریو گرین پارٹی کے رہنما مائیک شرائنر نے کہا کہ جب عام شہری مہنگائی، کرایوں اور روزمرہ اخراجات سے پریشان ہیں، ایسے میں حکومتی ارکان کا عوامی خزانے سے اپنے طرزِ زندگی کے اخراجات پورے کرنا تشویش ناک ہے۔