جنسی زیادتی کیس: ارب پتی کاروباری شخصیت فرینک سٹروناچ کی سزا کالعدم

ٹورنٹو (سی بی سی) کینیڈا کی ایک عدالت نے ارب پتی کاروباری شخصیت فرینک سٹروناچ کی جنسی زیادتی کے ایک مقدمے میں سنائی گئی سزا کو کالعدم قرار دیتے ہوئے اس الزام پر مس ٹرائل (مقدمے کو غیر مؤثر) قرار دے دیا ہے۔

93 سالہ فرینک سٹروناچ کو گزشتہ ماہ اونٹاریو کی عدالت نے دو الزامات میں قصوروار قرار دیا تھا، جن میں ایک جنسی زیادتی اور دوسرا تاریخی نوعیت کا غیراخلاقی حملہ (انڈیسنٹ اسالٹ) شامل تھا، جو دو مختلف خواتین کی شکایات سے متعلق تھے۔

فرینک سٹروناچ کی وکیل لیورا شمیش کے مطابق جمعہ کو سماعت کے دوران ایک خاتون کی علیحدہ دیوانی مقدمے کی وکیل کی ای میلز عدالت میں پیش کی گئیں، جن میں موجود معلومات خاتون کی فوجداری مقدمے میں دی گئی گواہی سے متضاد تھیں۔

انہوں نے کہا کہ سزا سنائے جانے کے بعد عدالت کی جانب سے مس ٹرائل قرار دینا انتہائی غیر معمولی فیصلہ ہے۔ ان کے مطابق عدالت نے مس ٹرائل قرار دینے سے قبل متعلقہ خاتون کا مؤقف دوبارہ نہیں سنا۔

اونٹاریو کی وزارتِ اٹارنی جنرل نے مس ٹرائل کی تصدیق کی، تاہم اس کی مزید تفصیلات جاری نہیں کیں۔

یہ مس ٹرائل 1980ء کی دہائی کے اوائل میں مبینہ جنسی زیادتی کے الزام سے متعلق ہے۔ شکایت کنندہ خاتون نے بیان دیا تھا کہ وہ فرینک سٹروناچ کے ریستوران میں عشائیے کے بعد ان کے اپارٹمنٹ گئی، جہاں واپسی کے دوران سٹروناچ نے مبینہ طور پر اس کے جسم کو اس کی رضامندی کے بغیر چھوا۔

عدالت نے گزشتہ ماہ اپنے فیصلے میں خاتون کی گواہی کو قابلِ اعتماد قرار دیتے ہوئے اس الزام میں سٹروناچ کو قصوروار ٹھہرایا تھا، تاہم اب اس الزام پر سزا کالعدم قرار دے دی گئی ہے۔

دوسری جانب 1977ء کے ایک الگ واقعے سے متعلق انڈیسنٹ اسالٹ کے جرم میں فرینک سٹروناچ کی سزا برقرار ہے۔ اس مقدمے میں انہیں ستمبر میں سزا سنائی جائے گی۔

فرینک سٹروناچ پر ابتدا میں سات خواتین کی شکایات کی بنیاد پر 1970ء اور 1990ء کی دہائیوں کے درمیان پیش آنے والے مبینہ واقعات سے متعلق 12 الزامات عائد کیے گئے تھے، تاہم مقدمے کے دوران متعدد الزامات واپس لے لیے گئے یا ان میں انہیں بری کر دیا گیا۔ اب ان کے خلاف صرف انڈیسنٹ اسالٹ کی ایک سزا برقرار ہے۔