واشنگٹن/ٹورنٹو (رائٹرز/سی بی سی) امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کینیڈا سے آنے والے جنگلاتی آگ کے دھوئیں پر سخت ردعمل دیتے ہوئے دھمکی دی ہے کہ اگر صورتحال برقرار رہی تو کینیڈا پر عائد درآمدی محصولات (ٹیرف) میں مزید اضافہ کیا جا سکتا ہے۔
صدر ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم پر جاری بیان میں کہا کہ کینیڈا اپنے جنگلات اور جھاڑیوں کی مناسب دیکھ بھال میں ناکام رہا ہے، جس کے باعث آلودہ اور غیر صحت بخش دھواں غیر ضروری طور پر امریکا میں داخل ہو رہا ہے۔
انہوں نے کہا کہ یہ “جان بوجھ کر کی جانے والی غفلت” ہے، جو اب ہر سال کا معمول بنتی جا رہی ہے اور اس سے امریکا کو اربوں ڈالر کا نقصان ہو رہا ہے، اس آلودگی کی قیمت بھی کینیڈا پر عائد ٹیرف میں شامل کی جائے گی۔
امریکی صدر نے کہا کہ وہ اس معاملے پر وزیراعظم مارک کارنی سے رابطہ کریں گے کیونکہ موجودہ صورتحال “مکمل طور پر ناقابل قبول” ہے۔
دوسری جانب اونٹاریو کے وزیراعظم ڈگ فورڈ نے امریکی ریپبلکن سیاست دانوں کے بیانات کا جواب دیتے ہوئے کہا کہ شکایت کرنے کے بجائے کینیڈا کی مدد کی جائے، جیسے کینیڈا نے ماضی میں امریکا میں قدرتی آفات کے دوران امداد فراہم کی تھی۔
ٹورنٹو میں گفتگو کرتے ہوئے ڈگ فورڈ نے کہا کہ اگر کچھ سیاست دان صرف تنقید کرنا چاہتے ہیں تو اس کے بجائے انہیں آگ بجھانے میں مدد بھیجنی چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ کینیڈا نے ہمیشہ اپنے امریکی دوستوں کی مشکل وقت میں مدد کی ہے اور اب بھی اسی تعاون کی توقع رکھتا ہے۔
ادھر واشنگٹن میں کینیڈا کے سفارت خانے کے ترجمان نے کہا کہ کینیڈا کے سفیر مارک وائزمین امریکی انتظامیہ اور کانگریس کے ارکان سے جنگلاتی آگ، اس سے نمٹنے کی کوششوں اور دھوئیں کے دونوں ممالک پر اثرات کے حوالے سے مسلسل رابطے میں ہیں۔
ادھر امریکی ریاست مشی گن سے تعلق رکھنے والے چار ریپبلکن اراکینِ ایوانِ نمائندگان نے وزیراعظم مارک کارنی کو خط لکھ کر خبردار کیا ہے کہ اگر کینیڈا نے مزید مؤثر اقدامات نہ کیے تو امریکا اپنے طور پر کارروائی کرے گا۔
وزیراعظم مارک کارنی نے اس خط پر براہِ راست تبصرہ نہیں کیا، تاہم انہوں نے کہا کہ موسمیاتی تبدیلی سے نمٹنا پوری دنیا، بشمول امریکا، کی مشترکہ ذمہ داری ہے۔
دریں اثنا ریپبلکن رکنِ کانگریس ٹام بیریٹ نے مطالبہ کیا ہے کہ اگر کینیڈا جنگلاتی آگ پر قابو نہیں پاتا تو گورڈی ہاؤ بین الاقوامی پل کی افتتاحی تقریب مؤخر کر دی جائے۔ادھر امریکی سیاسی مشیر کیٹی ملر نے سوشل میڈیا پر کینیڈا میں جنگلاتی آگ کا نقشہ شیئر کرتے ہوئے لکھا کہ “اسی لیے کینیڈا کو امریکا کی 51ویں ریاست ہونا چاہیے۔”

