صنعت، زراعت، ایس ایم ایز اور آئی ٹی سیکٹر ہر مزید توجہ دینے کی ضرورت پر زور
لاہور چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری نے وفاقی بجٹ 2026-27 کو ایک متوازن بجٹ قرار دیا ہے جس میں معاشی استحکام اور دستاویزی معیشت کے فروغ کیلئے متعدد مثبت اقدامات شامل ہیں، تاہم چیمبر نے سرمایہ کاری پر مبنی ترقی، صنعتی توسیع اور روزگار کے مواقع میں اضافے کیلئے مزید اقدامات کی ضرورت پر زور دیا ہے۔
لاہور چیمبر کے صدر فہیم الرحمٰن سہگل، سینئر نائب صدر تنویر احمد شیخ اور نائب صدر خرم لودھی نے بجٹ پر اپنے ردعمل میں حکومت کی جانب سے اعلان کردہ متعدد ریلیف اقدامات کو سراہا۔ تاہم انہوں نے کہا کہ پاکستان کی طویل المدتی معاشی ترقی کیلئے اہم شعبے جیسے صنعت، ایس ایم ایز، زراعت اور آئی ٹی سیکٹر مزید توجہ کے متقاضی ہیں۔ ان کے مطابق ان شعبوں کیلئے مزید واضح حکمت عملی اور جامع روڈ میپ کی ضرورت ہے، کیونکہ یہ شعبے برآمدات، سرمایہ کاری اور روزگار کے اہم ذرائع ہیں۔
لاہور چیمبر کے عہدیداران نے آبی ذخائر اور ڈیمز کیلئے 109 ارب روپے کی مختص رقم کو موجودہ ضروریات کے تناظر میں محدود قرار دیا۔ انہوں نے 15,264 ارب روپے کے ٹیکس ہدف کے حوالے سے کہا کہ ریونیو میں بہتری کیلئے ٹیکس نیٹ کی توسیع پر زیادہ توجہ دی جانی چاہیے۔ چیمبر نے یہ بھی تجویز دی کہ سماجی تحفظ کے ساتھ ساتھ ہنرمندی اور انسانی وسائل کی ترقی میں سرمایہ کاری کو مزید فروغ دیا جائے۔ لاہور چیمبر کے عہدیداران نے سیکشن 7E کے خاتمے، پراپرٹی ٹرانزیکشن ٹیکس میں کمی، تنخواہ دار طبقے کیلئے ٹیکس ریلیف، برآمدی شعبے کیلئے ٹیکس میں کمی اور ٹیکس نظام کی بہتری کیلئے اقدامات کو سراہا۔ فہیم الرحمٰن سہگل نے کہا کہ بجٹ مالیاتی نظم و ضبط اور معاشی استحکام کے تسلسل کو ظاہر کرتا ہے۔ ان کے مطابق ٹیکس دہندگان کیلئے سہولتیں اور دستاویزی نظام میں بہتری مثبت اقدامات ہیں، تاہم صنعتی پیداوار، برآمدات اور مجموعی معاشی نمو کیلئے مزید پالیسی اقدامات کی ضرورت ہے۔
سینئر نائب صدر تنویر احمد شیخ نے کہا کہ پائیدار مالیاتی نظام کیلئے ٹیکس نیٹ کی توسیع ضروری ہے۔ انہوں نے ڈیجیٹلائزیشن اور فیس لیس نظام کے اقدامات کو سراہا اور کہا کہ غیر دستاویزی معیشت کو بھی نظام کا حصہ بنایا جانا چاہیے تاکہ ٹیکس کا دائرہ منصفانہ طور پر وسیع ہو سکے۔
نائب صدر خرم لودھی نے کہا کہ بجٹ میں متعدد مثبت اقدامات موجود ہیں، تاہم ایس ایم ایز اور صنعت کیلئے مزید جامع پالیسی اقدامات سے کاروباری اعتماد میں اضافہ ہو سکتا ہے۔ انہوں نے توانائی کی لاگت میں کمی، سستے مالی وسائل اور ریگولیٹری اصلاحات کی ضرورت پر بھی زور دیا۔
لاہور چیمبر کے عہدیداران نے امید ظاہر کی کہ پارلیمانی بحث کے دوران کاروباری برادری کے تجاویز اور تحفظات کو مدنظر رکھا جائے گا۔

