اسٹاک ہوم:کیمیا کا نوبیل انعام فرانس کے ہنری کاگن اور جاپان کےکینسو سوئی کے نام

اسٹاک ہوم(رائٹرز) 2026ء کا نوبیل انعام برائے کیمیا فرانسیسی سائنسدان ہنری کاگن اور جاپانی سائنسدان کینسو سوئی نے جیت لیا۔

نوبیل انعام دینے والے ادارے کے مطابق دونوں سائنسدانوں کو غیر متناسب ’’آئینہ نما‘‘ سالمات کے ایک دیرینہ معمے کو حل کرنے پر یہ اعزاز دیا گیا ہے۔ ان کی تحقیق ادویات کی تیاری کے لیے انتہائی اہم سمجھی جاتی ہے کیونکہ بہت سے سالمات ایک دوسرے کی آئینہ نما شکلوں میں موجود ہوتے ہیں اور ان دونوں شکلوں کے انسانی جسم پر مختلف اثرات ہوسکتے ہیں۔

نوبیل کمیٹی برائے کیمیا کے رکن پیٹر سومفائی نے بتایا کہ کسی دوا کی ایک آئینہ نما شکل ایک اثر پیدا کرسکتی ہے جبکہ دوسری شکل مختلف اثر مرتب کرسکتی ہے، اس لیے کیمیا دانوں کے لیے مطلوبہ شکل کے سالمات کو منتخب طور پر تیار کرنے کے طریقے انتہائی اہم ہیں۔

76 سالہ کینسو سوئی جاپانی جبکہ 95 سالہ ہنری کاگن فرانسیسی شہری ہیں۔ دونوں کی تحقیق انیسویں صدی کے فرانسیسی کیمیا دان لوئی پاسچر کے کام پر آگے بڑھی، جنہوں نے دریافت کیا تھا کہ بعض کیمیائی مادے ایک دوسرے کی آئینہ نما شکلوں میں موجود ہوتے ہیں۔

رائٹرز کے مطابق پاسچر نے انگوروں میں پائے جانے والے ٹارٹرک تیزاب پر تحقیق کے دوران مشاہدہ کیا تھا کہ جراثیم اس مادے کی صرف ایک شکل کو خمیر میں تبدیل کرتے ہیں، جس سے یہ ثابت ہوا کہ بعض مادے بظاہر یکساں ہونے کے باوجود مختلف خصوصیات رکھتے ہیں۔

ہنری کاگن اور کینسو سوئی نے بعد میں ایسی غیر متناسب کیمیائی تبدیلیوں کے طریقے دریافت کیے جن کے ذریعے سالمات کی آئینہ نما شکلوں میں سے ایک کو دوسری کے مقابلے میں زیادہ مقدار میں تیار کیا جاسکتا ہے۔ اس پیش رفت نے ادویات بنانے کے لیے مطلوبہ کیمیائی شکل کے انتخاب میں اہم کردار ادا کیا۔

اس تحقیق کی اہمیت کی ایک مثال تھیلیڈومائڈ کے واقعے سے بھی واضح ہوتی ہے۔ انیس سو ساٹھ کی دہائی کے آغاز میں اس دوا کے استعمال سے ہزاروں بچے پیدائشی نقائص کا شکار ہوئے تھے۔ بعد کی تحقیق سے معلوم ہوا کہ دوا کی ایک مخصوص آئینہ نما شکل ان نقصانات سے وابستہ تھی۔

ہنری کاگن اور کینسو سوئی نوبیل انعام کے ساتھ 12 ملین سویڈش کرونا کی انعامی رقم بھی مشترکہ طور پر حاصل کریں گے۔ دونوں سائنسدانوں کو 10 دسمبر کو اسٹاک ہوم میں سویڈن کے بادشاہ کارل شانزدہم گستاف نوبیل تمغے عطا کریں گے۔