اسکرول، کلک، پچھتاوا اور تکرار: گزشتہ 15 سالوں میں ہمارا طرزِ خرید و فروخت کیسے بدلا؟

پندرہ سال پہلے تک خریداری محض ایک جسمانی عمل یا مشاغل کا حصہ ہوا کرتی تھی۔ آپ بازار کی طرف رخ کرتے، دکاندار کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر بات کرتے، اور ٹی وی پر 30 سیکنڈ کے اشتہار میں دکھائے گئے ایک مسکراتے ہوئے خاندان کو دیکھ کر کی گئی ذہن سازی کے تحت ٹوسٹر خرید لایا کرتے تھے۔ لیکن آج صورتحال بالکل مختلف ہے۔ آج ایک معمولی ٹوسٹر خریدنے کیلئے بھی آپ تین دن تک کسی نا معلوم ان لائن ایکسپرٹ صارف یا صارفین کے 400 تبصروں کا تجزیہ کرتے ہیں، مختلف آن لائن فورمز پر رائے لیتے ہیں، انسٹاگرام کے الگورتھم کی جانب سے مخصوص اشتہار دکھائے جانے کا انتظار کرتے ہیں، اور پھر بالآخر وائی فائی سے کنیکٹ ہونے والا ٹوسٹر آرڈر کر دیتے ہیں (اور کچھ دن بعد صرف اسلئےواپس کر دیتے ہیں کیونکہ اس کا اسٹیل کا شیڈ ایسا نہیں جیسا آپ کو چاہئیے تھا)۔

یہ ہے جدید صارف کی دنیا
ہم ماضی کے مقابلے میں کہیں زیادہ باخبر، بااختیار ہونے کے ساتھ ساتھ ہم کوالٹی اور دیگر سماجی، اقتصادی ہی نہیں اخلاقی اصولوں پر عمل دعآمد کا مطالبہ کرتے ہیں۔ لیکن سوال یہ ہے کہ ہم یہاں تک پہنچے کیسے؟

1۔ اسمارٹ فون: جیب میں بسا پورا بازار
اسمارٹ فونز اور تیز ترین انٹرنیٹ کی عام رسائی نے عام خریدار کو ایک تفتیشی افسر میں بدل دیا ہے۔ آج کا خریدار کریڈٹ کارڈ نکالنے سے پہلے مصنوعات کے خام مال کی تفتیش کرتا ہے، چھ الگ الگ سورسز کی چھان بین کر کے قیمتوں کا موازنہ کرتا ہے، اور ون ستارہ (One-star) دینے والے تبصروں کو عدالت کے کسی وکیل کی طرح باریکی سے دیکھتا ہے۔

اب کمپنیوں اور برانڈز کا معلومات پر اجارہ داری قائم نہیں رہی۔ اگر کوئی برانڈ اپنے دعووں میں مبالغہ آرائی سے کام لے، تو ٹک ٹاک پر رنگ لائٹ سامنے رکھ کر بیٹھنے والا کوئی بھی نوجوان، مارکیٹنگ ٹیم کی صبح کی چائے ختم ہونے سے پہلے ہی اس برانڈ کی ساکھ خاک میں ملا سکتا ہے۔

2۔ سوشل میڈیا اور روایتی اشتہار بازی کا خاتمہ
وہ دور ختم ہو چکا جب کوئی مشہور شخصیت شیمپو کی بوتل کے ساتھ مسکرا کر کھڑی ہوتی تھی اور لوگ اس پر آنکھیں بند کر کے اعتبار کر لیتے تھے۔ اگرچہ کچھ برانڈز اب بھی ایسی مہمات چلا رہے ہیں اور بعد میں حیران ہوتے ہیں کہ لوگوں کو برانڈ کے بجائے صرف اداکار ہی یاد رہا (ہماری مارکیٹ ریسرچ کمپنیوں کا کام ایسے ہی برانڈز کی ایسی غلطیوں سے ہی بزنس چلتا ہے)۔ آج کا خریدار کارپوریٹ اشتہارات کو شک کی نگاہ سے دیکھتا ہے۔ وہ اب کمپنیوں کے بجائے عام لوگوں کی آراء اور انفلونسرز (جو کہ درحقیقت زیادہ گہرائی سے دیکھنے والے عام لوگ ہی ہیں) پر زیادہ بھروسہ کرتا ہے۔

بالخصوص نئی نسل (ملینیئلز اور جن زی) اس معاملے میں بے حد چلاق ہے۔ وہ نجی و تجارتی معاہدوں کے تحت کیے گئے جعلی تبصروں کو فوراً پہچان لیتے ہیں۔ اگر کوئی برانڈ جعلی فالوورز یا لائکس خریدنے کی کوشش کرے، تو یہ نوجوان منٹوں میں اس کی ڈیجیٹل تفتیش کر کے حقیقت سامنے لے آتے ہیں اور شام کا کھانا کھانے سے پہلے اس برانڈ کا مذاق بنا دیتے ہیں۔ اب ‘صداقت’ صرف نعرہ نہیں بلکہ کاروبار کی بنیادی ضرورت بن چکی ہے۔

3۔ ترجیحات کی تبدیلی: اشیاء کے بجائے تجربات
نئی نسل نے حیثیت اور نمائش کے پرانے معیار بدل کر رکھ دیے ہیں۔ اب گیراج میں مہنگی گاڑیوں کی قطار دکھانے کا فیشن پرانا ہو چکا ہے، بلکہ بالی (Bali) کے کسی پائیدار اور ماحول دوست درخت پر بنے گھر سے تصویر شیئر کرنا زیادہ معتبر سمجھا جاتا ہے۔

آج کا خریدار ان باتوں پر خاص توجہ دیتا ہے-پائیداری
کیا یہ جیکٹ سمندری پلاسٹک کی ری سائیکلنگ سے بنی ہے یا ماحول کو نقصان پہنچا کر؟

-اخلاقی فراہمی (Ethical Supply Chains)
کیا اس پروڈکٹ کو بنانے والے مزدوروں کو مناسب اجرت دی گئی تھی؟

-ادارے کے اپنے اصول
جب کوئی نہیں دیکھ رہا ہوتا، تب یہ کمپنی کن اقدار پر قائم رہتی ہے؟
اگر کسی کمپنی کا طریقہ کار مشکوک نظر آئے، تو جدید خریدار بغیر وقت ضائع کیے اپنا رخ دوسری طرف موڑ لیتا ہے۔

4۔ کووڈ-19
ای کامرس کی دنیا میں سنسنی خیز تیزی کا مرتکب ہوا۔

اگر اسمارٹ فونز نے ڈیجیٹل شاپنگ کی بنیاد رکھی تھی، تو کووڈ-19 نے اس پر پٹرول کا کام کیا۔ چار دیواری میں بند انسانیت نے یہ طے کر لیا کہ راشن یا روزمرہ کی اشیاء کے لیے گھر سے باہر جانا اب ماضی کی بات ہے۔ جہاں پہلے گلی کے کونے والی دکان پر جانا معمول تھا، وہاں اب سامان کا براہِ راست گھر کے دروازے پر پہنچنا ایک بنیادی ضرورت بن چکا ہے۔

اس وبائی دور نے ایمیزون اور علی بابا جیسے ای کامرس اداروں کی حاکمیت کو ہمیشہ کے لیے قائم کر دیا، جبکہ روایتی دکانوں کو جدید طریقوں سے آہنگ ہونے یا پھر ہمیشہ کے لیے بند ہونے پر مجبور کر دیا۔ اب دو گھنٹے کے اندر سامان کی ترسیل (Delivery) کوئی سہولت نہیں بلکہ صارف کی بنیادی توقع ہے۔

یاد ہے مجھ کو جب گھر سے باہر جانا ہوتا تھا
کچھ لینے جا رہا ہوں’ یہ بھی اک بہانہ ہوتا تھا
پھر یوں اک بار کیا دوکان دروازے پہ کھل گئی
مجھ یوں لگا کہ آتما میری پھر گھر میں رل گئی
لگے ہیں کچھ مجھے اس سے سنبھلتے سنبھلتے
وہ دن بھی گئے جب باہر گھر سے کمانا ہوتا تھا
یاد ہے مجھ کو ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ (قمر آشام)

مارکیٹ کا انداز اب فروخت کنندہ کی من مانی سے بدل کر خریدار کے احتساب پر منتقل ہو چکا ہے۔ جدید خریدار سماجی طور پر بیدار، ڈیجیٹل وسائل سے لیس اور روایتی فروخت کے داؤ پیچ سے بالکل متاثر نہ ہونے والا ہے۔ اگلے 15 سالوں میں زندہ رہنے کی خواہش رکھنے والے کاروباروں کیلئے اصول انتہائی سادہ ہے: شفاف رہیں، حقیقی افادیت فراہم کریں، گاہک کی ذہانت کا احترام کریں، اور کچھ بھی ہو جائے- جعلی ساکھ بنانے کی غلطی ہرگز نہ کریں۔