اصل مسلہ

ہم پاکستانی بھی عجیب قوم ہیں۔ ہم نے سرکاری ادارے اس اصول پر بنائے ہیں کہ ادارہ جتنا خسارے میں جائے، اس میں ملازمین کی تعداد اتنی ہی زیادہ ہونی چاہیے۔ منطق یہ ہے کہ اگر ایک آدمی سے کام چل سکتا ہے تو دس رکھو، دس سے کام چل سکتا ہے تو سو رکھو، اور اگر پھر بھی کام نہ چلے تو وزیر، مشیر اور ایک نئی کمیٹی بنا دو۔
پھر سال کے آخر میں اعلان کرو:
“قومی ادارہ خسارے میں ہے، حکومت اسے بچانے کیلئےاربوں روپے دے گی۔”
سوال یہ ہے کہ حکومت کس چیز کو بچا رہی ہے؟ ادارے کو، یا اس نظام کو جس نے ادارے کو اس حال تک پہنچایا؟
جو جو سرکاری ادارے ماضی میں ختم ہوئے یا آج کل سفید ہاتھی ہیں ان کو اسی سٹائل میں تباہ کیا گیا۔ سوزوکی پر ٹرک کیا ٹینک لوڈ کر کے پہاڑی پر چڑھائیں گے تو نتیجہ جو نکلے گا وہی نکل رہا ہے۔ پاکستان ریلوے اس کی ایک شاندار مثال ہے۔
عام طور پر ایک تقابلی عدد گردش کرتا ہے کہ بھارت میں تقریباً 22 ہزار ٹرینوں کے لئے لگ بھگ 11 لاکھ ملازمین ہیں، یعنی تقریباً 50 ملازمین فی ٹرین، جبکہ پاکستان میں 228 ٹرینوں کے مقابلے میں ملازمین کی تعداد اس تناسب سے کئی گنا زیادہ بنتی ہے۔ کہا جاتا ہے ہماری تعداد 350 ملازم فی ٹرین ہے شاید۔ یہ موازنہ اپنی موجودہ شکل میں مکمل طور پر سیب سے سیب کا موازنا نہیں بنتا کیونکہ بھارتی ٹرینوں کے اعداد میں مختلف اقسام کی سروسز شامل ہیں۔ لیکن اس سے جو بنیادی سوال پیدا ہوتا ہے، وہ بالکل جائز ہے:
ہماری سرکاری مشینری میں فی یونٹ پیداوار کے مقابلے میں انسانی وسائل کی لاگت اتنی زیادہ کیوں ہے؟
پاکستان ریلوے کے سرکاری سالنامے میں 2023-24 کے لیے 58,680 ملازمین درج ہیں، جبکہ ریلوے روزانہ 228 مسافر، میل اور ایکسپریس ٹرینیں چلانے کا عدد بھی وسیع پیمانے پر رپورٹ ہوتا ہے۔ یعنی مسئلہ صرف یہ نہیں کہ “ملازم زیادہ ہیں”۔
اصل مسئلہ یہ ہے کہ پاکستان میں ادارے پیداوار کے لیے نہیں، ملازمتیں پیدا کرنے کے لیے چلائے جاتے ہیں۔ اور یہیں سے خسارے کی اصل کہانی شروع ہوتی ہے۔ اور تاریخ سے لگتا ہے کہ پھر فرنٹ مینوں کے ذریعے یہی ادارے کسی ذاتی منفعت میں نجی یا ادارہ جاتی ملکیت کے سپرد کر دیئے جاتے ہیں۔
ریلوے ہے یا روزگار اسکیم؟
ریلوے کا کام مسافر کو ایک شہر سے دوسرے شہر پہنچانا ہے۔
لیکن ہم نے اسے اس سے کہیں زیادہ عظیم ذمہ داری دے دی:
ہر حکومت اپنے کارکنوں کو کھپائے، ہر بااثر شخص اپنے آدمی کو لگوائے، ہر یونین اپنے حصے کا دباؤ ڈالے، ہر افسر اپنا دفتر بنائے، ہر دفتر اپنا عملہ رکھے اور ہر نئی حکومت یہ اعلان کرے کہ “ملازمین کے حقوق پر کوئی سمجھوتہ نہیں ہوگا۔”
مسافر جائے بھاڑ میں۔
ریل گاڑی چلے یا نہ چلے، ملازم کی تنخواہ ضرور چلنی چاہیے۔
ٹرین وقت پر پہنچے یا تین گھنٹے دیر سے، دفتر وقت پر بند ہونا چاہیے۔
ادارہ منافع کمائے یا اربوں کا بوجھ قومی خزانے پر ڈالے، پنشن بہرحال دینی ہے۔
یہ کاروبار نہیں، قومی خزانے کے ذریعے اجتماعی کفالت کا ایسا نظام ہے جس میں کارکردگی واحد غیر ضروری چیز رہ گئی ہے۔
بھارت نے ریلوے کو ادارہ رکھا، ہم نے اسے مائی باپ بنا دیا
بھارتی ریلوے کا حجم پاکستان سے کئی گنا بڑا ہے۔ بھارتی حکومت کے مطابق وہاں 2025-26 میں تقریباً 25 ہزار ٹرینیں روزانہ چل رہی تھیں اور تقریباً 741 کروڑ مسافروں نے سفر کیا۔ یہاں ایک بنیادی فرق سمجھنے کی ضرورت ہے۔
بڑی تعداد میں ملازمین ہونا بذات خود مسئلہ نہیں۔ کم پیداوار کے مقابلے میں غیر متناسب ملازمین ہونا مسئلہ ہے۔
ایک لاکھ لوگ اگر ایک ایسا نظام چلا رہے ہوں جو کروڑوں لوگوں کو محفوظ، تیز اور سستا سفر فراہم کرتا ہے تو وہ افرادی قوت ہے۔
لیکن اگر اتنے ہی لوگ ایک ایسے ادارے کو چلا رہے ہوں جسے ہر سال قومی خزانے سے سہارا درکار ہو تو وہ افرادی قوت نہیں، مالی بوجھ بن جاتی ہے۔
پاکستان ریلوے نے 2024-25 میں ریکارڈ تقریباً 93 ارب روپے آمدن بھی حاصل کی، جو اس بات کا ثبوت ہے کہ ادارے میں معاشی صلاحیت موجود ہے۔
پھر سوال اور بھی اہم ہوجاتا ہے:
اگر آمدن بڑھ سکتی ہے تو خرچ کیوں قابو میں نہیں آتا؟
یہی بیماری پی آئی اے میں تھی۔
اب ذرا ریلوے سے جہاز پر آجائیے۔
پی آئی اے کبھی پاکستان کی شناخت تھی۔ اس کے بکنے تک لانے کی وجہ یہ بنی کہ اس کا ذکر آئے تو سب سے پہلے سوال ہوتا تھا:
“اس کا خسارہ کتنا ہے؟” (خیر وہ خزانے ہر ڈال دیا گیا ہے)
یہ بھی کمال ہے۔
دنیا کی ایئرلائنز مسافر، روٹس، جہاز، کارکردگی، فیول اکانومی اور منافع کی بات کرتی ہیں۔
ہماری بحث میں اکثر یہ ہوتا ہے کہ فلاں ملازم کو نکالنے کی کوشش ہوئی تو یونین ناراض ہوگئی۔
یعنی مسافر کو لاہور سے کراچی پہنچانا مشکل نہیں۔
اصل مشکل یہ ہے کہ ملازم کو اس کے کام کی بنیاد پر جانچا جائے۔ اور اب وہی ایئر لائن بکنے کے بعد زبردست چل رہی ہے
سرکاری بس ہو یا شہری ٹرانسپورٹ، کہانی وہی
پنجاب کی اربن ٹرانسپورٹ کو دیکھ لیجیے۔ بس سروس کا بنیادی سوال ہونا چاہیے:
کتنے مسافر؟
کتنا کرایہ؟
کتنی لاگت؟
فی کلومیٹر خرچ؟
فی مسافر سبسڈی؟
کتنی بسیں؟
کتنے ملازمین؟
فی بس کتنے ملازمین؟
فی روٹ کتنی آمدنی؟
لیکن ہم عموماً یہ سوال نہیں کرتے۔
ہم پوچھتے ہیں:
“صاحب، حکومت کتنی سبسڈی دے رہی ہے؟” سیاسی فائدہ، باقی اگلی حکومت بھگتے۔
گویا سبسڈی کوئی بیماری نہیں، قومی علاج ہے۔
پھر بجٹ میں اربوں روپے رکھے جاتے ہیں، افتتاح ہوتا ہے، فیتہ کٹتا ہے، تصویریں بنتی ہیں اور کچھ عرصے بعد ایک نئی خبر آتی ہے:
“سروس کو مزید مالی معاونت درکار ہے۔”
یعنی بس مسافر کو منزل تک پہنچائے نہ پہنچائے، خزانے کو ضرور منزل تک پہنچا دیتی ہے۔
مسئلہ ملازم نہیں، غلط نظام ہے
یہاں ایک بات بالکل واضح ہونی چاہیے۔
سرکاری ملازم کو موردِ الزام ٹھہرانا آسان ہے، مگر اصل قصور ملازم کا نہیں۔
اگر کسی ادارے میں ضرورت سے دوگنا لوگ بھرتی کیے گئے ہیں تو اس کا ذمہ دار وہ شخص نہیں جس نے ملازمت حاصل کی۔
ذمہ دار وہ وزیر، افسر، حکومت اور سیاسی نظام ہے جس نے ادارے کو میرٹ اور ضرورت کے بجائے سیاسی تقرریوں کا میدان بنایا۔ اسی طرح ملازم کو اچانک نکال دینا بھی کوئی اصلاح نہیں۔
اصل اصلاح یہ ہے کہ:
نئی بھرتی ضرورت اور پیداواری صلاحیت سے منسلک ہو۔
ہر ادارے میں sanctioned strength نہیں بلکہ required strength طے ہو۔
ہر ملازم کی job description ہو۔
ہر عہدے کی measurable productivity ہو۔
ہر ادارے کا annual operating target ہو۔
اور سب سے اہم:
ادارے کے سربراہ کی تنخواہ اور ملازمت بھی ادارے کی کارکردگی سے منسلک ہو۔
اگر ادارہ مسلسل خسارے میں ہے تو صرف مالی سال ختم نہ ہو، ذمہ داری بھی طے ہو اور احتساب بھی !
مگر یہاں الٹا نظام ہے
پاکستان میں سرکاری ادارہ خسارے میں جائے تو حکومت کہتی ہے:
“مزید پیسہ چاہیے۔” ادارہ پھر خسارے میں جائے:
“مزید پیسہ چاہیے۔”
پھر خسارہ بڑھے:
“اصلاحات کی ضرورت ہے۔”
اور اصلاحات کا مطلب؟
نئی کمیٹی۔
پھر نئی کمیٹی کی رپورٹ۔
پھر رپورٹ پر نئی کمیٹی۔
پھر نئی کمیٹی کے لیے بجٹ۔ پھر “کام مٹی”…
اور یوں ایک خسارے میں چلنے والے ادارے کو بچانے کے لیے اتنی کمیٹیاں بن جاتی ہیں کہ آخرکار کمیٹیاں خود ایک نیا سرکاری محکمہ بن جاتی ہیں۔
اصل بیماری “ایک ادارہ، کئی مالک” ہے پاکستان میں سرکاری اداروں کا سب سے بڑا مسئلہ صرف overstaffing نہیں۔
مسئلہ political ownership without financial responsibility ہے۔
وزیر کہتا ہے یہ میرا ادارہ ہے۔
افسر کہتا ہے یہ میری وزارت ہے۔
یونین کہتی ہے یہ ہمارے ملازمین ہیں۔
سیاسی رہنما کہتا ہے یہ ہمارے ووٹر ہیں۔
اور آخر میں خزانہ کہتا ہے:
“پیسے میں دوں گا۔”
لیکن جب نقصان ہو تو ذمہ دار کوئی نہیں۔
یہی وجہ ہے کہ پاکستان میں سرکاری اداروں کو کاروباری اصولوں پر چلانے کی بات ہمیشہ سیاسی نعرے سے آگے نہیں بڑھتی۔ کیونکہ کاروباری اصول کا پہلا سوال ہی بہت خطرناک ہے:
“آپ کے ادارے کو واقعی کتنے لوگ درکار ہیں؟”
اس سوال کا جواب ہزاروں سیاسی مفادات کو بے روزگار کرسکتا ہے۔
ہمیں ایک اصول طے کرنا ہوگا
ریاست کا کام ہر شہری کو سرکاری ملازمت دینا نہیں۔ ریاست کا کام ہر شہری کو اچھی سروس دینا ہے۔
ریلوے کا مقصد ریلوے ملازمین کو روزگار دینا نہیں، مسافر اور مال کو محفوظ، تیز اور مؤثر طریقے سے منزل تک پہنچانا ہے۔
پی آئی اے کا مقصد ملازمین کی تعداد بڑھانا نہیں، مسافروں کو قابلِ اعتماد فضائی سروس دینا تھا۔
اربن ٹرانسپورٹ کا مقصد بس ڈپو میں ملازمین بڑھانا نہیں، شہریوں کو مؤثر پبلک ٹرانسپورٹ فراہم کرنا ہے۔
اور سرکاری ادارے کا مقصد یہ نہیں کہ وہ ہر حکومت کے سیاسی کارکنوں، عزیزوں، سفارشیوں اور بااثر لوگوں کے لیے روزگار کا محفوظ ٹھکانہ بن جائے۔
آخری سوال
اگر ایک نجی کمپنی کا مالک ہر سال اپنی جیب سے خسارہ پورا کرتا رہے تو وہ چند ماہ میں کاروبار بند کردے گا۔
ریاستی ادارہ خسارے میں جائے تو اسے بند نہیں کیا جاتا۔ اسے عوام کی جیب سے مزید رقم دی جاتی ہے۔ پھر اسی عوام پر ٹیکس بڑھایا جاتا ہے۔
پٹرول مہنگا کیا جاتا ہے۔
بجلی مہنگی کی جاتی ہے۔
گیس مہنگی کی جاتی ہے۔
اور آخر میں بتایا جاتا ہے:
“قومی اداروں کو بچانا ہم سب کی ذمہ داری ہے۔”
بالکل درست۔
مگر ایک سوال کا جواب بھی تو دیجیے:
قومی خزانے کو بچانا کس کی ذمہ داری ہے؟
اگر ایک ٹرین چلانے کے لیے ضرورت سے کئی گنا زیادہ لوگ رکھے جائیں، ایک جہاز کے ساتھ دفتر در دفتر ملازمین بڑھتے جائیں، ایک بس سروس کے ساتھ انتظامی ڈھانچہ بسوں سے زیادہ تیزی سے پھیلتا جائے، تو پھر خسارہ کوئی معمہ نہیں۔
یہ خسارہ نہیں، حساب کتاب کی پیش گوئی ہے۔ اور اگر حکومت پھر بھی یہی نظام جاری رکھے تو ہمیں حیران نہیں ہونا چاہیے کہ سرکاری ادارے خسارے میں کیوں ہیں۔
اصل حیرت تو یہ ہونی چاہیے کہ اتنے برسوں سے یہ نظام ابھی تک خسارے کو منافع میں بدلنے کا دعویٰ کیسے کر رہا ہے۔
مسئلہ ٹرین کی رفتار کا نہیں۔
مسئلہ یہ ہے کہ ہماری ریاست نے اداروں کو چلانے کے بجائے انہیں پالنے کا فیصلہ کر رکھا ہے۔