اقوام متحدہ اپنے مشن کی تکمیل سے قاصر ہوچکا ہے:رجب طیب اردوان

نیویارک (اقوام متحدہ) ترک صدر رجب طیب اردوان نے کہا ہے کہ 81 سال قبل عالمی امن و سلامتی کے قیام کے لیے قائم کیا گیا اقوام متحدہ اب اپنے مشن کی تکمیل کے قابل نہیں رہا، بلکہ اسے ایسا کرنے سے قاصر کردیا گیا ہے۔

اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اعلیٰ سطحی سالانہ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے رجب طیب اردوان نے کہا کہ گزشتہ ایک سال کے دوران لاکھوں افراد نے جانیں گنوائیں جبکہ اس سے کہیں زیادہ لوگوں کو ناقابل بیان مصائب کا سامنا کرنا پڑا۔

انہوں نے کہا کہ گزشتہ 12 ماہ تاریخ کے گزشتہ 30 برس کے خونریز ترین ادوار میں شمار ہوتے ہیں، اس دوران غزہ سے یوکرین اور روس، میانمار سے دارفور اور ایران سے لبنان تک 60 سے زائد تنازعات اور جنگیں جاری رہیں۔

ترک صدر نے کہا کہ فلسطین، لبنان، سوڈان اور دیگر بحران زدہ علاقوں کے وہ لوگ جنہوں نے اقوام متحدہ سے امیدیں وابستہ کر رکھی تھیں، شدید مایوس ہوئے ہیں۔

رجب طیب اردوان نے فلسطینی عوام کی صورتحال کو اجاگر کرتے ہوئے کہا کہ غزہ اور مغربی کنارے کے عوام کو درپیش ناانصافیاں انسانیت کے اجتماعی ضمیر کو شدید متاثر کرتی ہیں۔

انہوں نے اقوام متحدہ میں اصلاحات کی جاری کوششوں کی حمایت کرتے ہوئے کہا کہ اگلے سیکریٹری جنرل کی قیادت میں یہ عمل جاری رہنے کی توقع ہے، جو جنوری میں عہدہ سنبھالیں گے۔

ترک صدر نے سلامتی کونسل میں اصلاحات کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ ایسا نظام منصفانہ نہیں ہوسکتا جس میں 190 سے زائد ممالک کی خواہشات صرف پانچ ممالک کی مرضی سے مشروط ہوں۔

انہوں نے کہا کہ دنیا صرف پانچ ممالک سے بڑی ہے اور عالمی قوانین کا اطلاق طاقتور اور کمزور، دونوں پر یکساں ہونا چاہیے۔رجب طیب اردوان نے خبردار کیا کہ ایسا عالمی نظام جس میں قانون سے استثنیٰ معمول بن جائے، بالآخر زوال کا شکار ہوجاتا ہے۔