پاکستان کو جس خون آشام دہشت گردی کی کارروائیوں کا سامنا ہے اس کی صدائے باز گشت پوری دنیا میں سنی جا رہی ہے۔دہشت گردی کی ان لرزہ خیز کارروائیوں سے پاکستان کے عوام کو آئے دن خون کے آنسو بہانا پڑتے ہیں۔حال ہی میں 18ستمبر کو جمعتہ المبارک کے روز پولیس لائنز کوہاٹ کے قریب نمازِ جمعہ کے دوران خود کش دھماکہ کے نتیجے میں پولیس اہلکاروں سمیت21 افراد جامِ شہادت نوش کر گئے۔دُکھ دہ اور لرزہ خیز بات یہ ہے کہ دہشت گردوں نے اپنی بارود سے بھری گاڑی پولیس لائنز کے گیٹ سے ٹکرا دی اِس موقع پر فائرنگ کے دوران سپیشل برانچ کی عمارت پر ایک اور خود کش دھماکہ بھی ہوا۔ ملک کے ایک سرے سے لیکر دوسرے سرے تک پورے ملک میں صف ِ ماتم بچھا دینے والے اس المناک حادثے نے لوگوں کو حواس باختہ کر کے رکھ دیا ہے۔ یہ سانحہ ہی ایسی نوعیت کا ہے کہ جس سے قوم میں عدم تحفظ کے احساس کا اُجاگر ہونا لازمی امر ہے اس ہولناک واقع پر سکتے کے عالم میں مبتلا کروڑوں ذہن اس سوچ میں غلطاں ہیں کہ کوہاٹ میں پولیس لائنز کے صدر دروازے سے ٹکرانے والی دہشت گردوں کی گاڑی ہنستے بستے اور رستے بستے شہر کی شاہراہوں سے کس طرح ایک طویل یا کچھ نہ کچھ سفر عبور کر کے اپنے ٹارگٹ تک پہنچی، یقینا یہ گاڑی کسی فضائی راستے سے تو سول لائنز تک نہیں لائی گئی ہو گی اس اجنبی اتنی بڑی گڑی کو یا اسی قسم کی گاڑیوں پر نظر رکھنے کے ذمہ دار اداروں کے اہلکار کہاں ہوتے ہیں۔ عدم تحفظ کا شکار غموں کے مارے عوام کے ذہنوں میں اُٹھنے والے ایسے سوالات قوم کیلئے سنگین اور ہلاکت خیز نتائج کا الارم رکھتے ہیں۔ ملک میں کہیں بھی کسی احتجاجی مظاہرے یا تحریک کے سدباب کی خاطر ہزارہا افراد یا اہلکاروں کی تعیناتی کو ضروری سمجھا جاتا ہے جو اَمن و امان کے لحاظ سے یقینا اہم ہے، مگر کسی بھی حساس علاقے میں بری طرح سے آنے والے پیدل یا بڑی بڑی گاڑیوں کے ساتھ آنیوالوں کو اپنے ٹارگٹ تک کھلے بندوں پہنچ جانے کی بات پوری قوم کیلئے لمحہ فکریہ کی حیثیت رکھتی ہے۔
اس قسم کے روح فرسا اور قوم کو غم و اندوہ سے دوچار کر دینے والے واقعات پر یکسو ہو کر سوچ و فکر کی تمام تر توانائیاں صرف کرنے پر غور ہونا لازم ہے، شاخِ اقتدار کی ٹہنیوں پر چہچہانے والے ذی وقار کرسی نشینوں کی آنیاں جانیاں دیکھی جا سکتی ہیں ان میں سے بعض کی کارکردگی کا عالم یہ ہے کہ نوجوانوں کو جدید ٹیکنالوجی سے آراستہ کرنے کو ناگزیر قرار تو دیتے ہیں، مگر اس حوالے سے کسی عملی اقدام کا آغاز انکے نزدیک عشایئے، بیانات کی حد تک ایک دوسرے سے آگے بڑھ کر نمایاں ہونے کی کوششیں ہیں۔ بڑے کروفر سے کہا جاتا ہے کہ سرمایہ کاری کے فروغ کیلئے حکومت پُرعزم ہے۔ انہی کے ہمدم و دمساز قسم کے اربابِ فن سے چہچہاہٹ کی آواز ابھرتی ہے کہ مختلف شعبوں میں ملک سے تعاون مضبوط بنانے پر اتفاق ہوا ہے۔ایک وفاقی وزیر امریکی ناظم الامور سے ملاقات کا ذکر کرتے ہوئے اپنی طرف سے بڑی دور کی یہ کوڑی لاتے ہیں کہ ان سے اقتصادی و سرمایہ کاری تعاون کے فروغ پر تبادلہ خیالات ہوا ہے۔ حقیقت کچھ یوں ہے کہ متعدد ممالک سے ملاقاتوں اور سرمایہ کاری کی دعوت دینے کے حوالے سے بیانات کا نا ختم ہونے والا سلسلہ بدستور جاری ہے اسی حوالے سے سوشل میڈیا پر تبصرہ اور تجزیہ نگاروں کی طرف سے یہ سوالات اُٹھ رہے ہیں تو کسی صورت بیجا نہیں ہیں کہ جن ممالک سے پاکستان میں سرمایہ کاری کیلئے آئے دن تبادلہ خیالات اور دردمندانہ انداز کی اپیلیں کی جا رہی ہیں،کاش ان سے کبھی کسی اس حوالے سے بھی اپیل سننے میں آتی کہ ہم خود بھی بیرونی ممالک میں اپنے زر کثیر سمیت جائیدادوں کا سرمایہ بھی وطن عزیز میں لا کر سرمایہ کاری کے میدان کے سپرد کرینگے۔ ہمیں اس سلسلے میں مزید دوستوں کے بھرپور تعاون کی ضرورت ہے۔ اگر ایسا ہو تو اسکے نتائج بیرونی ممالک میں سرمایہ کاری کیلئے کی گئی اپیلوں کیلئے یقینا کارگر ثابت ہو سکتے ہیں۔ اس قسم کی صورتحال کے در آئے بغیر اگر ملک کی سب سے اونچی کرسی پر براجمان شخصیت کی زبان سے یہ بیان جاری و ساری رہے کہ بلوچستان اور خیبرپختونخوا سمیت ملک بھر کے نوجوانوں کیلئے روزگار کے مواقع پیدا کرنے پر توجہ دی جائے یا یہ کہ ملک کے ہنر مند اور باصلاحیت نوجوانوں کو روزگار کی فراہمی حکومت کی اولین ترجیح ہے تو ایسے بیانات بھی نقش بر آب ہی ثابت ہوتے ہیں۔ملکوں اور قوموں میں اصلاحِ احوال نیچے سے ہی نہیں بلکہ اصولاً اوپر سے نیچے ہو کر ہی نتیجہ خیز ہوا کرتی ہے۔ اربابِ حل و عقد کو اس حقیقت کا احساس کرنا ہوگا۔

