نیویارک (الجزیرہ، امریکی میڈیا) امریکی اور ایرانی حکام کے درمیان اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اجلاس کے موقع پر 3 گھنٹے طویل ملاقات ہوئی ہے۔امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ملاقات کو بہت اچھی اور انتہائی نتیجہ خیز قرار دیتے ہوئے کہا کہ مستقبل قریب میں دونوں فریقوں کے درمیان ایک اور ملاقات ہوگی۔
ملاقات میں امریکی نمائندوں اسٹیو وٹکوف اور جیرڈ کشنر نے شرکت کی جبکہ ایرانی وفد کی قیادت وزیر خارجہ عباس عراقچی نے کی۔ٹرمپ نے کہا کہ امریکا اور ایران کے درمیان جاری جنگ ختم کرنے کیلئے معاہدے کے امکانات موجود ہیں اور ایران کیلئےمعاہدہ کرنا اس کے مفاد میں ہے۔
ایرانی سرکاری ٹی وی کے مطابق ملاقات امریکا کی درخواست پر ہوئی، جس کا مقصد آبنائے ہرمز دوبارہ کھولنے کے لیے ایران کی شرائط سے آگاہ کرنا تھا۔ ایران نے بحری ناکہ بندی ختم کرنے، منجمد ایرانی اثاثے جاری کرنے اور تمام محاذوں پر جنگ ختم کرنے کی شرائط پیش کی ہیں۔
اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی سے خطاب میں ٹرمپ نے کہا تھا کہ انہیں ایران کے حوالے سے ایک بڑا فیصلہ کرنا ہے، یا تو ایران کے ساتھ معاہدہ کیا جائے یا اسلامی جمہوریہ ایران کو تیزی سے تباہ کردیا جائے۔
ٹرمپ نے کہا کہ ایران نومبر کے وسط مدتی انتخابات کے نتائج دیکھنے کا انتظار کر رہا ہے، تاہم وہ خود امیدوار نہیں ہیں اور ان کی صدارتی مدت میں ڈھائی سال باقی ہیں۔
امریکی صدر نے کہا کہ انتخابات ان کے ذہن میں نہیں ہیں، ان کی توجہ اس بات پر ہے کہ ایران کبھی جوہری ہتھیار حاصل نہ کرسکے۔یہ جون کے وسط کے بعد امریکی اور ایرانی حکام کے درمیان پہلی ملاقات ہے، تاہم دونوں ملکوں کے درمیان مذاکرات طویل عرصے سے تعطل کا شکار ہیں۔

