واشنگٹن(رائٹرز، اے پی) امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ امریکی حکام نے ایران کے ساتھ جنگ کے خاتمے کی کوششوں کے سلسلے میں آج ثالثوں سے دوبارہ بات چیت کی ہے، تاہم ان کا کہنا ہے کہ امریکا ایران کے خلاف جنگ ’’بہت جلد‘‘ جیت لے گا۔
اوول آفس میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ امریکی حکام نے ثالثوں سے بات کی ہے اور ایران کے ساتھ جاری جنگ جلد ختم ہوجائے گی۔ ان کا کہنا تھا کہ ’’ہم جیتیں گے، یہ کسی نہ کسی طرح ہوگا، اور یہ بہت جلد ہوگا۔‘‘
ٹرمپ نے کہا کہ جنگ کے خاتمے کے بعد تیل کی قیمتیں بھی نمایاں طور پر کم ہوجائیں گی۔ ان کا یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب ایران جنگ اور آبنائے ہرمز میں بحری آمد و رفت میں رکاوٹ کے باعث عالمی تیل منڈیوں میں قیمتیں 100 ڈالر فی بیرل سے تجاوز کرچکی ہیں۔
رائٹرز کے مطابق امریکی اور ایرانی حکام نے آج ثالثوں کے ساتھ الگ الگ رابطے کیے ہیں۔ ثالثی کی نئی کوششوں میں ایران کی جانب سے گزشتہ ہفتے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے موقع پر پیش کی گئی 7 روزہ تجویز کے ترمیم شدہ مسودے پر غور متوقع ہے۔
ایران کی تجویز میں جنگ بندی، آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنے، ایرانی منجمد اثاثے بحال کرنے، پابندیاں اٹھانے اور ایرانی بندرگاہوں کی امریکی ناکہ بندی ختم کرنے کے مطالبات شامل ہیں۔ اس کے بدلے ایران نے آبنائے ہرمز کھولنے اور جوہری پروگرام سمیت دیگر معاملات پر مذاکرات شروع کرنے کی پیشکش کی ہے۔
رائٹرز کے مطابق ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نیویارک میں موجود ہیں جہاں قطری ثالثوں سے ان کی ملاقات متوقع ہے، جبکہ ثالث اس کے بعد امریکی حکام سے بھی الگ ملاقات کریں گے۔ ایرانی حکام کا کہنا ہے کہ تہران امریکا کے باضابطہ جواب کا منتظر ہے۔
ڈونلڈ ٹرمپ نے اس سے قبل ایران کی 7 روزہ تجویز مسترد کرتے ہوئے تہران کی شرائط کو ناقابل قبول قرار دیا تھا، تاہم بعد میں انہوں نے رواں ہفتے ایران کے ساتھ مزید مذاکرات کی توقع ظاہر کی۔ نئی ثالثی کوششیں اسی تعطل کو ختم کرنے کے لیے کی جارہی ہیں۔
دوسری جانب امریکی ذرائع نے بتایا ہے کہ واشنگٹن ایران کو جوہری پروگرام میں ٹھوس پیش رفت کے بدلے معاشی پابندیوں میں ریلیف اور بعض منجمد اثاثوں کی بحالی کی پیشکش پر غور کر رہا ہے۔ تاہم امریکی حکام کے مطابق جوہری معاملات پر پیش رفت کے بغیر کسی حتمی معاہدے کو منظوری نہیں دی جائے گی۔
ڈونلڈ ٹرمپ نے برطانیہ میں ایک امریکی فوجی اڈے کو نشانہ بنانے کی مبینہ سازش کے الزام میں گرفتار کیے گئے مشتبہ افراد کی بعد ازاں ضمانت پر رہائی پر بھی حیرت کا اظہار کیا۔ انہوں نے کہا کہ اگر یہ اختیار ان کے پاس ہوتا تو وہ ان افراد کو رہا نہ کرتے۔
ایران اور امریکا کے درمیان مذاکرات کی نئی کوششیں ایسے وقت میں جاری ہیں جب آبنائے ہرمز میں بحری آمد و رفت متاثر ہے اور عالمی توانائی منڈیوں پر اس کے اثرات مرتب ہورہے ہیں۔ رائٹرز کے مطابق قطر سے منسلک بعض مائع قدرتی گیس بردار جہازوں کی آبنائے ہرمز سے آمد و رفت میں حالیہ دنوں اضافہ ہوا ہے، تاہم مجموعی بحری نقل و حرکت اب بھی جنگ سے پہلے کی سطح سے کم ہے۔

