نیویارک(رائٹرز، خبر ایجنسیاں)امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ ان کے ذہن میں صرف ایک بات ہے کہ ایران کسی صورت ایٹمی ہتھیار نہیں رکھ سکتا، تہران سے معاہدہ کرنے کی کوشش کی لیکن ایران نے انکار کردیا۔
اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی سے خطاب کرتے ہوئے ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ ایران کی حکومت انتہائی خراب طرز عمل کا مظاہرہ کر رہی ہے، تاہم انہیں یقین ہے کہ امریکی وسط مدتی انتخابات کے بعد تہران سے معاہدہ ہوجائے گا۔
امریکی صدر نے کہا کہ ایران ماضی میں مشرق وسطیٰ میں بدمعاشی کرتا تھا لیکن اب ایسا نہیں کرسکتا، امریکا نے آپریشن مڈنائٹ ہیمر کے دوران ایران کے ٹھکانوں کو نشانہ بنایا۔انہوں نے دعویٰ کیا کہ ایران دنیا میں دہشت گردی کو فروغ دے رہا تھا اور اس کی معیشت تباہ ہوچکی ہے، جبکہ ملک میں مہنگائی 300 فیصد تک پہنچ گئی ہے۔
ٹرمپ نے کہا کہ ایران کا برا طرز عمل اس لیے نہیں کہ وہ طاقتور ہے بلکہ اسلئے ہے کہ وہ کمزور ہوچکا ہے۔ امریکی بحریہ نے آبنائے ہرمز سے ایک ارب بیرل تیل نکلوایا ہے اور امریکی فوج روزانہ 22 سے 37 بحری جہازوں کو آبنائے ہرمز سے گزار رہی ہے۔
امریکی صدر نے کہا کہ وہ ایک بڑے فیصلے کا اعلان کرنے جارہے ہیں اور انہیں فیصلہ کرنا ہے کہ ایران کو تباہ کرنا ہے یا اسے دوبارہ پنپنے کا موقع دینا ہے۔ڈونلڈ ٹرمپ کے مطابق آپریشن ایپک فیوری کے دوران ایرانی بحریہ کے جہاز اور ریڈار تباہ کیے گئے جبکہ ایرانی فوج اور میزائل و ڈرون بنانے والی فیکٹریاں بند کردی گئیں۔
انہوں نے کہا کہ ایرانی قیادت یہ دیکھنا چاہتی ہے کہ امریکی وسط مدتی انتخابات میں ان کی پوزیشن کیا رہتی ہے، تاہم ایرانیوں کو احساس نہیں کہ وہ خود وسط مدتی انتخابات میں امیدوار نہیں ہیں۔
ٹرمپ نے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی سے خطاب میں پاک بھارت جنگ رکوانے کا بھی ذکر کیا۔ انہوں نے کہا کہ دوسروں نے امن کی بات کی، امریکا نے قیام امن ممکن بنایا، دوسروں نے ہمت کی بات کی تو امریکا نے ہمت دکھائی۔
امریکی صدر نے کہا کہ دوسروں نے خدشات کو نظر انداز کیا لیکن انہوں نے خدشات کا مقابلہ کیا، دوسروں نے طاقت کی بات کی جبکہ انہوں نے طاقت استعمال کرکے امریکا کو دنیا کا طاقتور ملک بنایا۔
ڈونلڈ ٹرمپ نے دہشت گردی کے خلاف قرارداد منظور کرنے پر سلامتی کونسل کا شکریہ ادا کیا۔انہوں نے کہا کہ امریکا آج ماضی کے مقابلے میں کہیں زیادہ طاقتور ہے، ملک آگے بڑھ رہا ہے اور اس کا مستقبل پہلے سے کہیں زیادہ روشن ہے۔
ٹرمپ نے مزید کہا کہ امریکا میں آج دنیا کے کسی بھی ملک کے مقابلے میں زیادہ سرمایہ کاری ہورہی ہے، جبکہ امریکی سرحدیں بھی پہلے سے زیادہ محفوظ ہیں۔امریکی صدر کا کہنا تھا کہ امریکا میں قتل کی وارداتوں کی شرح 125 سال کے مقابلے میں کم ترین سطح پر ہے اور ملک میں غربت کی شرح بھی ریکارڈ کم سطح پر آگئی ہے۔

