واشنگٹن(دی نیشنل ڈیسک، دی ایپوک ٹائمز، اناطولیہ نیوز ایجنسی) امریکی بحریہ کے قائم مقام سیکریٹری ہنگ کاؤ نے اعتراف کیا ہے کہ ایرانی حملوں سے بحرین میں امریکی بحری تنصیب کو شدید نقصان پہنچا، جہاں امریکی بحریہ کے پانچویں بیڑے کا ہیڈکوارٹر بھی قائم ہے۔
ہنگ کاؤ نے گفتگو میں کہا کہ ایرانی افواج نے بحرین میں امریکی بحری تنصیب کو بری طرح نقصان پہنچایا۔ ان کے مطابق بحرین کی نیول سپورٹ ایکٹیویٹی کو پہنچنے والے نقصان کے باعث طویل عرصے سے تعینات امریکی طیارہ بردار بحری جہاز یو ایس ایس ابراہم لنکن کے عملے کیلئے وہاں لنگر انداز ہونے کی جگہ باقی نہیں رہی۔
امریکی قائم مقام وزیرِ بحریہ نے بتایا کہ آیا امریکی افواج کو بحرین کے اڈے پر دوبارہ تعینات ہونا چاہیے اور اسے بحال کیا جانا چاہیے یا نہیں، اس معاملے کا جائزہ لینے کے لیے ایک ٹاسک فورس کام کررہی ہے۔ امریکی بحریہ کے اعلیٰ عہدیدار ایڈمرل ڈیرل کاؤڈل بھی کہہ چکے ہیں کہ نقصان کے باعث امریکی افواج مستقبل قریب میں بحرین کی اس تنصیب میں واپس نہیں جائیں گی۔
رپورٹس کے مطابق بحرین میں امریکی بحری تنصیب پر ایرانی حملوں سے کمانڈ ہیڈکوارٹر سمیت متعدد عمارتوں اور مواصلاتی تنصیبات کو نقصان پہنچا تھا، جبکہ نقصان کی مرمت پر کروڑوں ڈالر لاگت آنے کا اندازہ لگایا گیا ہے۔
ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے ہنگ کاؤ کے اعتراف کا خیرمقدم کرتے ہوئے کہا کہ وہ امریکی قائم مقام وزیرِ بحریہ کی صاف گوئی کو سراہتے ہیں۔عباس عراقچی نے کہا کہ ایرانی مسلح افواج نے واقعی بحرین میں امریکی پانچویں بیڑے کے ہیڈکوارٹر کو شدید نقصان پہنچایا، اس کے علاوہ امریکی جارحیت کی معاونت کرنے والے دیگر اڈوں کو بھی نشانہ بنایا۔ایرانی وزیر خارجہ نے مزید کہا کہ امریکی عوام اس بات کے مستحق ہیں کہ انہیں اسرائیل کی جنگوں کا بوجھ نہ اٹھانا پڑے۔

