برداشت پیدا کریں، قومی اتفاق رائے ضروری ہے!

لاہور والوں کومبارک ہو کہ آخر کار قدرت کو رحم آ ہی گیا اور جمعرات کی صبح ہونے والی بارش نے صحیح معنوں میں موسم خوشگوار کردیا اور اب دھوپ میں وہ تلخی نہیں رہی جو اکتوبر آدھا گزر جانے کے بعد بھی محسوس ہو رہی تھی، بہرحال موسمی تغیرات کی وجہ سے گرمی کے عرصہ میں اضافہ ہو گیا اور درجہ حرارت بھی بڑھ گیا ہے جس کے باعث شدت بھی محسوس ہوتی رہی تاہم اب اللہ سے دعا ہے کہ کم از کم سردی کے وقت میں تو کمی نہ کرے کہ اس کی اپنی کرم نوازی سے ہی حیات چل رہی ہے اس سال مجھے گرمی کچھ زیادہ ہی محسوس ہوئی، شاید تقاضا عمر ہے کہ ہڈیوں میں پہلے جیسی برداشت نہیں رہی۔

اس بار گرمی میں ہونے والے اضافے کی وجہ سے مجھے تو وہ سب وعظ یاد آتے رہے جن کے مطابق اللہ کی اس زمین پر بسنے والے ایسے کاموں میں الجھے رہیں گے جن کی دین محمدیؐ میں ممانعت کی گئی اور پھر یہ بھی یاد آیا کہ واعظ کا فرمانا سورج سوا نیزے پر آ جائے گا۔ خیال ہوا کہ 50سنٹی گریڈ برداشت سے باہر ہو جاتی ہے تو سورج کا یہ قرب تو سب کچھ جلا کر راکھ کر دے گا اور زمین پر زندگی تمام ہو جائے گی۔ عالمان کرام نے روز محشر اور قیامت کے حوالے سے جو جو بتایا اور جیسے جیسے احادیث مبارکہ کی تشریح کی اس سے یہی ظاہر ہوتا ہے کہ ان دنوں ہم جس دور سے گزر رہے ہیں، یہ آخری ہی ہے کہ دیانت روٹھ گئی۔ جھوٹ سر پر چڑھ چکا، آپس کی رواداری ختم، جرائم میں اضافہ، تشویشناک امر یہ ہے کہ گھٹیا اور وحشت ناک جرائم بڑھ رہے ہیں، معصوم بچیوں اور بچوں کے ساتھ درندگی کے مظاہر طشت ازبام ہو رہے ہیں اور ان کو قتل کیا جا رہا ہے، اعتماد اور اعتبار اٹھ چکا، ہر روز یہ نظارے ہوتے ہیں اور اب تو بھائی، بھائی کا اور بیٹا باپ کا دشمن ثابت ہو رہا ہے۔ معاشرے میں برداشت ختم ہوگئی۔ دھوکا اور فراڈ بڑھ گیا، اس حوالے سے بعض واقعات سے ظاہر ہوتا ہے کہ جن افراد کے ذمہ برائی روکنے کا فرض عائد کیا گیا، وہی اسے پھیلانے یا پھر معاونت میں مصروف ہیں۔

گزشتہ روز ملتان چونگی سے قرطبہ چوک والی سپیڈو بس میں ایسا ہی منظر دیکھنے کو ملا، ملتان چونگی سے آنے والی بس جب قرطبہ چوک کے (چوبرجی کی طرف والے) سٹاپ پر رکی اور مسافر اترنے لگے۔ ایک معمر شخص گیٹ کے پاس پہنچا ہی تھا کہ ڈرائیور نے جلدی سے دروازہ بند کر دیا، وہ بزرگ اس میں پھنس گئے۔ شور مچانے پر عمل روکا گیا وگرنہ یہ خودکار دروازہ بابے کی پسلیاں بھی توڑ سکتا تھا اور احساس بھی یہ تھا کہ بابا اب گیا کہ گیا۔ زور زور سے پکار نے ڈرائیور کو متوجہ کیا اور دروازہ کھولا گیا جس کے بعد بابا نیچے اترا، اس کے بعد جو ہوا وہ معاشرے کا بہت بڑا المیہ ہے کہ مسافر نے اتر کر احتجاج کیا تو نوجوان ڈرائیور جو بنیادی طورپر دائیوکمپنی کا ملازم ہے اپنی نشست چھوڑ کر مسافر کو ڈانٹنے لگا، مسافر نے جوابی طور پر بتایا کہ ڈرائیور دروازے بند کرتے وقت ”سائیڈ مرر“ پر نگاہ رکھتا ہے جو اس کا فرض ہے او رمسافروں کے اتر جانے پر ہی دروازہ بند کرتا ہے، وہ نوجوان تو مشتعل ہو گیااور بولا! مسافر کو جلد اترنا چاہیے۔ ایسا محسوس ہوا کہ وہ معمر مسافر کی تواضع کرے گالیکن کنڈکٹر کی تھوڑی سی مداخلت کام آ گئی اور تنازعہ ٹل گیا۔ بزرگ منہ ہی منہ میں توبہ استغفار کا ورد کرتے اپنی منزل کو روانہ ہوگئے بس کے کئی مسافر اور باہر کھڑے لوگوں نے مداخلت تو نہ کی لیکن یہ ضرور کہتے رہے کہ ڈرائیور خودسر ہے اور شاید نوجوان ہونے کے باعث تلخ ہو رہا ہے۔

یہ ایک معمولی سا حادثہ ہے۔ یہاں تو اسی روز چوک گڑھی شاہو میں سیمنٹ سے لدھے ایک بڑے ٹریلر نے تیز رفتاری کے باعث ٹریلر ایک کار پر چڑھا دیا، کار تو تباہ ہونا تھی سو ہوئی تاہم اس میں سوار میاں بیوی اور ان کی بچی بھی دب کر جاں بحق ہوگئی۔ ٹریلر ڈرائیور معمول کے مطابق فرار ہوگیا۔ اب آگے کیا ہونا ہے۔ آئی جی پنجاب نے نوٹس لے کر سی ٹی او لاہور سے رپورٹ طلب کی ہے لیکن سوال یہ ہے کہ کیا ذمہ دار کے خلاف ”قتل“ کے الزام میں کارروائی ہوگی یا یہ حادثہ بھی حالات حاضرہ کے مطابق ایکسیڈنٹ کے کھاتے میں ڈال کر حل کر لیا جائے گا، یہ بھی عدم برداشت ہی کا معاملہ ہے۔

یہ واقعات قارئین کی آگاہی کیلئےہیں کہ معاشرے میں عدم برداشت کا کیا عالم ہے اور یہی عدم بردداشت قومی امور میں بھی ہے جس کی وجہ سے ملکی سطح کے معاملات بھی درست نہیں ہو پا رہے۔ خیبرپختونخوا میں گورنر راج اور ایمرجنسی کے نفاذ سے بھی یہی سب ظاہر ہے کہ ملکی اور قومی مسائل پر اتفاق رائے کا مطالبہ کرتے ہوئے بھی یہی دیکھا گیا کہ ایک دوسرے کو برداشت نہیں کیا جا رہا، حالانکہ سیاست کا عمل تو برداشت ہی سے مکمل ہوتا ہے اگر ایک دوسرے کا احترام نہ ہو تو سیاست ایسی ہی ہوتی ہے جیسی اب ہو رہی ہے اور یہ سلسلہ پیچھے سے چلا آ رہا ہے جس کی وجہ سے ملک میں حقیقی استحکام نہ آیا او رنہ آ رہا ہے، یہ سیاست دان جب الگ الگ بولتے ہیں تو بڑی اچھی باتیں کرتے ہیں۔ محاذ آرائی سے گریزاور قومی امور پر مکمل اتفاق رائے کا سبق دیتے ہیں لیکن عمل نہیں ہوتا اور یہ خود ہی ایک دوسرے کے خلاف ہو کر نظام کو تہس نہس کئے رکھتے ہیں۔

قومی اسمبلی اور سینیٹ سے ہنگامی حالات کے نفاذ کی کثرت رائے سے منظوری کے بعد پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس میں گورنر راج کے نفاذ کی قرارداد بھی منظور کرلی گئی اور یوں حکومتی اقدامات کو سند مل گئی، پیپلزپارٹی حکمران جماعت کی اتحادی جماعت ہے۔ لانگ مارچ کے عمل اور دیگر دھمکیوں کی وجہ سے جب اعلیٰ سطح پر انتظام سنبھالنے کا فیصلہ ہو گیا تو پیپلزپارٹی کو بھی اعتماد میں لیا گیا۔ گو یہ جماعت اپنے قیام و منشور اور سیاسی عمل کے باعث ایمرجنسی سے متفق نہیں تھی اور ابتداء میں کچھ تحفظات کا بھی مظاہرہ کیا گیا لیکن دہشت گردی کے حوالے سے حمائت کرنا ہی پڑی۔ اب بلاول بھٹو نے پھر سے مذاکرات کی تجویز دی ہے اور سپیکر ایاز صادق بھی دہرا رہے ہیں تاہم بات اس حد تک آگے چلی گئی کہ اب ریورس گیئر نہیں لگ سکے گا اور نہ ہی یوٹرن لیا جا سکتا ہے تاہم اب حکومت پی ٹی آئی کو بعض رعائتیں دینے پر تیار ہو سکتی ہے اگرچہ فی الحال تو سابقہ مذاکرات کی اندرونی کہانیاں بیان ہو رہی ہیں بہرحال بات یہی ہے کہ قومی اتفاق رائے لازم ہے۔ چاہے اب ہو یا تب ہو!