خیبر پختونخوا میں گورنر راج: وفاق کا کڑا امتحان

خیبر پختونخوا میں ایمرجنسی اور گورنر راج کے نفاذ کے بعد وفاقی حکومت نے ایک حکم نامہ جاری کیا ہے، جس کے تحت گورنر خیبر پختونخوا وفاقی حکومت کی جانب سے صوبائی امور انجام دیں گے، جبکہ ان کی معاونت کے لیے 11 رکنی مشاورتی کونسل بھی تشکیل دے دی گئی ہے۔

تاہم اختیارات کی منتقلی اور مشاورتی کونسل کی تشکیل محض انتظامی اقدامات ہیں۔ وفاقی حکومت کا اصل امتحان ان اقدامات کے عملی نتائج ہوں گے۔ اگر اس غیر معمولی فیصلے سے دہشت گردی، بدانتظامی اور عوامی مشکلات میں خاطر خواہ کمی نہ آئی تو وفاقی حکومت کی سیاسی ساکھ متاثر ہو سکتی ہے، جبکہ تحریکِ انصاف کو نئی سیاسی زندگی ملنے کا موقع بھی پیدا ہو سکتا ہے۔ یوں اس کی طویل صوبائی حکمرانی اور ناقص کارکردگی پر اٹھنے والے سنگین سوالات پس منظر میں جا سکتے ہیں۔

وفاقی اور صوبائی حکومتوں کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی، خصوصاً صوبائی حکومت کی سرپرستی میں ہونے والے حالیہ احتجاجی مارچ کے بعد، مزید شدت اختیار کر گئی۔ اسی پس منظر میں وفاقی حکومت نے 11 اکتوبر 2026 کو خیبر پختونخوا میں ایمرجنسی اور گورنر راج نافذ کیا اور امن و امان کی بحالی کے لیے فوج کی تعیناتی کی منظوری دی۔ وفاق کا مؤقف ہے کہ صوبائی حکومت انسدادِ دہشت گردی میں ناکام رہی، اس نے ریاستی اداروں سے تعاون نہیں کیا اور دہشت گرد عناصر کے بارے میں مبینہ نرم رویہ اختیار کیا۔ دوسری جانب تحریکِ انصاف اس فیصلے کو غیر جمہوری اقدام اور صوبائی خودمختاری کے منافی قرار دیتی ہے۔

پاکستان کے آئین کے آرٹیکل 232 اور 234 میں بالترتیب ایمرجنسی اور گورنر راج کی گنجائش موجود ہے، تاہم دونوں کے نفاذ کے جواز اور آئینی شرائط مختلف ہیں۔ وفاقی حکومت نے اپنے اقدام کے لیے انہی آئینی اختیارات کا سہارا لیا ہے۔ ان اختیارات کا استعمال درست تھا یا نہیں، اس پر آئینی اور قانونی بحث ہو سکتی ہے۔ عمومی طور پر جمہوری نظام میں ایسے اقدامات قابلِ ستائش نہیں سمجھے جاتے۔ تاہم یہ حقیقت اپنی جگہ موجود ہے کہ خیبر پختونخوا ایک طویل عرصے سے دہشت گردی، بے روزگاری، معاشی مشکلات اور انتظامی کمزوریوں سے دوچار ہے۔

خیبر پختونخوا میں دہشت گردی کے خلاف جدوجہد میں عام شہریوں، فوج، پولیس اور دیگر قانون نافذ کرنے والے اداروں کے اہلکاروں نے بھاری جانی قربانیاں دی ہیں۔ ساؤتھ ایشیا ٹیررازم پورٹل کے مطابق 2026 کے پہلے 9 ماہ میں دہشت گردی سے متعلق تشدد اور انسدادِ دہشت گردی کی کارروائیوں کے دوران 319 سکیورٹی اہلکار اور 251 شہری جاں بحق ہوئے، جبکہ 1,132 دہشت گرد ہلاک ہوئے۔ 2025 کے اسی عرصے میں 327 سکیورٹی اہلکار اور 188 شہری جان سے گئے تھے۔ صوبائی پولیس کے مطابق 2026 کی پہلی ششماہی میں 122 پولیس اہلکار جاں بحق اور 175 زخمی ہوئے، جبکہ گزشتہ سال اسی مدت میں یہ تعداد بالترتیب 63 اور 84 تھی۔

دہشت گردی کی اس لہر میں لیفٹیننٹ کرنل، میجر، کیپٹن، ایس پی اور ڈی ایس پی جیسے اعلیٰ فوجی و پولیس افسران بھی شہید ہوئے۔ اغوا کی وارداتیں بھی تشویش ناک ہیں۔ ایک تحقیقی ادارے کے مطابق 2024 میں صوبے سے 54 اور 2025 میں 127 افراد اغوا ہوئے۔ جون 2026 میں جنوبی وزیرستان سے ایک ایس ایچ او سمیت 8 پولیس اہلکار اغوا کیے گئے، جبکہ دسمبر 2025 میں اسسٹنٹ کمشنر شاہ ولی خان دہشت گرد حملے میں شہید ہوئے۔ چند روز قبل الیکشن کمیشن آف پاکستان کے ڈائریکٹر جنرل شمشاد خان محسود بھی خیبر پختونخوا کے ضلع ٹانک میں نامعلوم افراد کی فائرنگ سے جاں بحق ہوئے۔ یہ واقعات ریاستی عمل داری اور عوامی تحفظ کو درپیش سنگین خطرات کی نشاندہی کرتے ہیں۔

صوبائی قیادت کی ذمہ داری تھی کہ وہ سلامتی کے معاملات میں ریاستی اداروں سے مؤثر تعاون کرتی اور عوام کے جان و مال کے تحفظ کو سیاسی اختلافات پر ترجیح دیتی۔ لیکن ایسے تعاون کے فقدان کی قیمت بالآخر قانون نافذ کرنے والے اداروں کے اہلکاروں اور عام شہریوں کو ادا کرنا پڑتی ہے۔

تحریکِ انصاف 2013 سے، نگران حکومتوں کے ادوار کو چھوڑ کر، خیبر پختونخوا میں برسراقتدار رہی ہے۔ اس طویل حکمرانی کے باوجود تعلیم، صحت، روزگار، بلدیاتی نظام، امن و امان اور انتظامی اصلاحات جیسے اہم شعبوں میں اس کی کارکردگی پر سنگین سوالات موجود ہیں۔ عوام کی زندگیوں میں کوئی نمایاں اور دیرپا بہتری نظر نہیں آتی، جبکہ کئی بنیادی مسائل حل ہونے کے بجائے مزید پیچیدہ ہوئے ہیں۔ صوبائی حکومت کی خاصی توجہ اور توانائی وفاقی حکومت کے ساتھ سیاسی محاذ آرائی کی نذر ہوتی رہی۔ سیاسی نعرے، احتجاج اور جلسے اچھی حکمرانی کا متبادل نہیں ہو سکتے۔

13 سال کی حکمرانی کے بعد بھی اگر بنیادی سہولتوں، پولیس کی استعداد اور انتظامی نظام میں سنگین مسائل موجود ہیں تو تحریکِ انصاف کو صرف وفاق کی کوتاہیوں کا حوالہ دینے اور خود کو سیاسی مظلوم بنا کر پیش کرنے کے بجائے اپنی ترجیحات اور پالیسیوں کا حساب بھی دینا چاہیے۔ اسے واضح کرنا چاہیے کہ پولیس، بلدیاتی اداروں، تعلیم اور صحت کے شعبوں میں اصلاحات کے دعووں کے عملی اور قابلِ پیمائش نتائج کیا ہیں۔

اسی طرح یہ سوال بھی اہم ہے کہ وزیرِ اعلیٰ کے انتخاب میں انتظامی اہلیت، سیاسی بصیرت اور بحرانوں سے نمٹنے کی صلاحیت کو بنیادی معیار کیوں نہیں بنایا گیا؟ کیا وفاق کے خلاف سخت محاذ آرائی اور سیاسی کارکنوں کو متحرک رکھنے کی صلاحیت ہی قیادت کے انتخاب کا معیار ہونی چاہیے؟ جو قیادت صوبے کے وسائل، وقت اور توجہ کو مسلسل سیاسی تصادم میں الجھائے رکھے، اس کے لیے عوامی مسائل کو ترجیح دینا مشکل ہو جاتا ہے۔ خیبر پختونخوا میں بھی یہی صورتِ حال دیکھنے میں آئی۔

تحریکِ انصاف کی سیاست میں احتجاج اور مزاحمت نمایاں رہے ہیں۔ بلاشبہ احتجاج اور اختلافِ رائے جمہوری حقوق ہیں، لیکن سیاسی مقاصد کے لیے بار بار اسلام آباد کی طرف احتجاجی مارچ کرنا، سرکاری وسائل کا غیر قانونی استعمال، شہریوں کی آمدورفت میں بلاجواز رکاوٹیں پیدا کرنا، املاک کو نقصان پہنچانا اور تشدد کسی بھی سیاسی جماعت کے لیے قابلِ دفاع نہیں ہو سکتے۔ دوسری جانب وفاقی حکومت کو بھی پُرامن احتجاج اور جائز سیاسی مطالبات کو طاقت کے ذریعے دبانے سے گریز کرنا چاہیے۔ قانون کا اطلاق حکومت اور اپوزیشن دونوں پر یکساں ہونا چاہیے۔

عمران خان کی قید، صحت اور اہلِ خانہ سے ملاقاتوں کا معاملہ بھی سیاسی کشیدگی کا سبب رہا ہے۔ ہر زیرِ حراست شخص کو قانون کے مطابق طبی سہولتوں، وکلا تک رسائی اور اہلِ خانہ سے ملاقات کے حقوق حاصل ہونے چاہییں۔ ان بنیادی حقوق کو سیاسی اختلافات سے مشروط نہیں کیا جا سکتا، تاہم انہیں سیاسی کشیدگی بڑھانے کا ذریعہ بنانا بھی مناسب نہیں۔

کچھ عرصہ قبل عمران خان کی بہن ڈاکٹر عظمیٰ خان نے ملاقات کے بعد ان کی جسمانی صحت کو مستحکم قرار دیا تھا۔ دوسری جانب تحریکِ انصاف کے بعض رہنماؤں کی طرف سے ان کی صحت کے بارے میں زیادہ تشویش ناک اور غیر مصدقہ دعوے سامنے آئے۔ ان بیانات نے عوام اور سیاسی کارکنوں میں بے یقینی پیدا کی، جبکہ بیرونِ ملک میڈیا میں بھی متضاد اطلاعات سامنے آئیں۔ ایسے حساس معاملات میں بیماری کو سیاسی مقاصد کے لیے بڑھا چڑھا کر پیش کرنا نامناسب ہے، لیکن حقیقی طبی خدشات کو نظرانداز کرنا بھی غیر ذمہ دارانہ عمل ہے۔ مستند طبی رپورٹس اور آزادانہ معائنے ہی کو بنیاد بنایا جانا چاہیے۔

سوشل میڈیا نے سیاسی اظہار کے مواقع بڑھائے ہیں، لیکن اس کے ساتھ جھوٹی خبروں، گمراہ کن ویڈیوز، کردار کشی اور اشتعال انگیز مواد کے پھیلاؤ میں بھی اضافہ ہوا ہے۔ بیرونِ ملک مقیم بعض یوٹیوبرز اور اندرونِ ملک سرگرم سیاسی کارکنوں کے غیر مصدقہ دعووں، ذاتی حملوں اور گالم گلوچ نے سیاسی مکالمے کے معیار کو نقصان پہنچایا ہے۔ سیاسی مخالفین اور ریاستی اداروں پر جائز تنقید ہر شہری کا حق ہے، لیکن دھمکیاں دینا، دانستہ غلط معلومات پھیلانا اور تشدد پر اکسانا قابلِ قبول نہیں۔ اس سلسلے میں حکومتی کارروائی بھی واضح قانون، قابلِ تصدیق شواہد، عدالتی نگرانی اور بلاامتیاز اطلاق کی پابند ہونی چاہیے، تاکہ اختلافِ رائے دبانے کا راستہ نہ کھلے۔

اب وفاقی حکومت کو محض صوبائی اختیارات سنبھالنے پر اکتفا کرنے کے بجائے اہداف، ذمہ داریوں، مدت اور منتخب آئینی نظام کی بحالی کا واضح اور قابلِ عمل منصوبہ پیش کرنا ہوگا۔ کامیابی نئی تقرریوں یا انتظامی اعلانات سے نہیں بلکہ دہشت گردی میں پائیدار کمی، پولیس کی بہتر صلاحیت، ترقیاتی کاموں میں پیش رفت، شہریوں کے تحفظ اور روزمرہ زندگی میں عملی بہتری سے جانچی جائے گی۔ دہشت گردی کے واقعات، تفتیشی کارروائیوں، بنیادی سہولتوں اور ترقیاتی منصوبوں پر پیش رفت باقاعدگی سے عوام کے سامنے رکھی جانی چاہیے۔ عوامی نمائندوں اور مقامی اداروں کو غیر متعلق بنا دینا مستقبل کے سیاسی استحکام کے لیے نقصان دہ ہو سکتا ہے۔

اگر وفاقی حکومت ان مقاصد کے حصول میں کامیاب ہوتی ہے تو اسے عوامی اعتماد حاصل کرنے کا موقع مل سکتا ہے۔ لیکن ناکامی کی صورت میں اس غیر معمولی فیصلے کے جواز اور وفاقی حکومت کی صلاحیت پر مزید سوالات اٹھیں گے۔ اس سے بھی بڑا سیاسی خطرہ یہ ہے کہ تحریکِ انصاف اپنی صوبائی کارکردگی کا جواب دینے کے بجائے خود کو سیاسی انتقام کا نشانہ بنا کر پیش کرے۔

پاکستان کی سیاسی تاریخ میں سخت حکومتی اقدامات بعض اوقات مخالف جماعتوں کے لیے عوامی ہمدردی کا سبب بنتے رہے ہیں۔ اگر گورنر راج مطلوبہ نتائج نہ دے سکا تو تحریکِ انصاف کی 13 سالہ صوبائی حکمرانی کا احتساب پس منظر میں جا سکتا ہے اور سیاسی مظلومیت کا بیانیہ ایک مرتبہ پھر غالب آ سکتا ہے۔ یوں وفاقی حکومت کی ناکامی تحریکِ انصاف کو اپنی حکومتی کارکردگی پر اٹھنے والے سوالات سے توجہ ہٹانے کا موقع دے سکتی ہے۔ تاہم عوامی ردِعمل کا انحصار حکومتی اقدامات، ان کے نتائج اور مجموعی سیاسی حالات پر ہوگا۔

اس نازک مرحلے پر خیبر پختونخوا کی تمام سیاسی جماعتوں پر بھی مشترکہ ذمہ داری عائد ہوتی ہے۔ انہیں باہمی الزام تراشی، سیاسی محاذ آرائی اور ایک دوسرے کے خلاف پوائنٹ اسکورنگ کے بجائے مل بیٹھ کر دہشت گردی، امن و امان اور عوامی مشکلات کے حل کے لیے مشترکہ لائحۂ عمل تیار کرنا چاہیے۔ اگر وفاقی حکومت یا صوبائی انتظامیہ آئین و قانون کے مطابق امن کی بحالی کے لیے کوئی مثبت اور مؤثر اقدام اٹھاتی ہے تو سیاسی اختلافات کے باوجود تمام جماعتوں کو اس کی حمایت اور عملی تعاون کرنا چاہیے۔ جہاں خامیاں ہوں، وہاں تعمیری تنقید اور اصلاح کی تجاویز بھی پیش کی جائیں۔ صوبے میں امن و امان کا قیام کسی ایک جماعت کی کامیابی یا ناکامی کا مسئلہ نہیں بلکہ تمام سیاسی قوتوں اور عوام کا مشترکہ مفاد ہے۔

تحریکِ انصاف کو بھی مستقل احتجاج اور محاذ آرائی کے بجائے پارلیمانی کردار، مذاکرات اور انتظامی جواب دہی کو زیادہ اہمیت دینی ہوگی۔ دوسری جانب وفاقی حکومت کو سیاسی مخالفین کے جائز مطالبات سننے، زیرِ حراست افراد کے قانونی حقوق کا تحفظ کرنے اور مذاکرات کے دروازے کھلے رکھنے چاہییں۔ خیبر پختونخوا کے عوام کو شخصیت پرستی، سیاسی نعروں اور مسلسل محاذ آرائی سے بڑھ کر امن، تعلیم، صحت، روزگار اور بااختیار بلدیاتی اداروں کی ضرورت ہے۔

بالآخر گورنر راج کی کامیابی یا ناکامی کا فیصلہ سیاسی تقریریں نہیں بلکہ عملی نتائج کریں گے۔ اگر دہشت گردی اور عوامی مشکلات میں خاطر خواہ کمی نہ آئی یا آئینی نظام بروقت بحال نہ ہوا تو وفاقی حکومت اپنی ذمہ داری سے نہیں بچ سکے گی۔

اس بحران میں اصل کامیابی کسی سیاسی جماعت کی فتح یا شکست نہیں بلکہ دہشت گردی کی شکست، شہریوں کا تحفظ اور جمہوری اداروں کی مضبوطی ہے۔