سال 2026 نے مشرقِ وسطیٰ اور اس کے گرد و پیش کے جغرافیائی سیاسی منظرنامے کو بڑی حد تک بدل دیا ہے۔ ایران، اسرائیل اور امریکہ کے درمیان تصادم، آبنائے ہرمز پر کشمکش، بحیرۂ احمر میں عدم استحکام اور خلیجی ممالک کی جانب سے نئے دفاعی و سلامتی کے انتظامات کی تلاش نے کئی پرانے مفروضوں کو کمزور کر دیا ہے۔
پاکستان کیلئےیہ تبدیلی ایک اہم موقع بھی ہے اور ایک بڑا امتحان بھی۔
ایک طویل عرصے تک پاکستان کی اہمیت اس کے جغرافیائی محلِ وقوع سے وابستہ رہی۔ جنوبی ایشیا، وسطی ایشیا، چین، ایران، افغانستان اور بحیرۂ عرب کے سنگم پر واقع ہونے کی وجہ سے پاکستان مختلف ادوار میں عالمی طاقتوں کے لیے اہم رہا ہے۔ مگر آج سوال صرف یہ نہیں کہ پاکستان کہاں واقع ہے۔ اصل سوال یہ ہے کہ بدلتی ہوئی دنیا میں پاکستان کیا کردار ادا کر سکتا ہے اور اس کردار کو اپنے قومی مفاد میں کیسے استعمال کر سکتا ہے۔
ایران سے متعلق حالیہ تنازع نے اس نئی حقیقت کو نمایاں کیا۔ اس نے ثابت کیا کہ ایران کے گرد کسی بڑے تصادم کے اثرات چند ممالک تک محدود نہیں رہتے۔ آبنائے ہرمز میں جہاز رانی متاثر ہو تو توانائی کی عالمی منڈی دباؤ میں آتی ہے، خلیجی معیشتوں میں بے یقینی بڑھتی ہے اور پورے خطے کی سلامتی کی ترجیحات بدلنے لگتی ہیں۔
ایسے ماحول میں پاکستان نے نسبتاً متوازن سفارتی راستہ اختیار کیا۔ اسلام آباد نے ایک طرف سعودی عرب اور ترکیہ کے ساتھ اپنے قریبی تعلقات برقرار رکھے، تو دوسری طرف تہران اور واشنگٹن کے ساتھ رابطے کے دروازے بھی کھلے رکھے۔
یہی توازن پاکستان کو ایک ایسے کردار کی طرف لے گیا جس کی اسے طویل عرصے سے خواہش رہی ہے: صرف جغرافیائی یا عسکری اہمیت رکھنے والی ریاست نہیں، بلکہ مختلف فریقوں کے درمیان رابطے اور مکالمے کا قابلِ اعتماد پل۔
امریکہ اور ایران کے درمیان مذاکراتی عمل میں پاکستان اور قطر کا ثالثی کے کردار میں سامنے آنا اسی تبدیلی کی علامت ہے۔ جون میں اسلام آباد میں ہونے والی مفاہمتی پیش رفت کے بعد سوئٹزرلینڈ میں مذاکرات ہوئے، جن میں ایران اور امریکہ کے نمائندوں کے ساتھ پاکستان اور قطر نے ثالثی میں کردار ادا کیا۔
یہ پاکستان کے لیے ایک اہم سفارتی کامیابی تھی۔ کئی برس تک دہشت گردی، سیاسی بحرانوں اور معاشی مشکلات کے حوالے سے عالمی خبروں میں رہنے والے پاکستان کو اب ایک ایسے ملک کے طور پر بھی دیکھا جانے لگا ہے جو مشکل علاقائی تنازعات میں رابطے اور مذاکرات کے لیے جگہ پیدا کر سکتا ہے۔
یقیناً نئے حالات نے پاکستان کو علاقائی اور عالمی سطح پر ایک اہم کردار دیا ہے اور اس کی سفارتی ساکھ اور نیک نامی میں بھی اضافہ ہوا ہے۔ مگر اصل کامیابی اس وقت ہوگی جب یہ مقام عارضی جغرافیائی اہمیت کے بجائے دیرپا قومی طاقت میں تبدیل ہو۔
اسی تناظر میں 7 اگست کو پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ کے درمیان طے پانے والا مکہ مشترکہ دفاعی معاہدہ خاص اہمیت رکھتا ہے۔اس معاہدے کے تحت کسی ایک رکن ملک پر مسلح حملہ تمام رکن ممالک پر حملہ تصور کیا جائے گا۔ پاکستان نے واضح کیا ہے کہ یہ انتظام دفاعی نوعیت کا ہے اور کسی مخصوص ریاست کے خلاف نہیں۔
اس معاہدے کا ادارہ جاتی ڈھانچہ بھی سامنے آ رہا ہے۔ استنبول میں تزویراتی سیاسی و دفاعی کمیٹی کے پہلے اجلاس میں تینوں ممالک نے سعودی عرب میں مستقل سیکریٹریٹ قائم کرنے، دفاعی صنعت میں تعاون بڑھانے اور مشترکہ ٹیکنالوجی و پیداوار پر کام کرنے پر اتفاق کیا۔
تینوں ممالک اس بندوبست میں مختلف مگر باہم تکمیلی صلاحیتیں لاتے ہیں۔ سعودی عرب مالی وسائل اور عرب و اسلامی دنیا میں سیاسی اثر و رسوخ رکھتا ہے۔ ترکیہ ایک بڑی عسکری قوت اور تیزی سے ترقی کرتی دفاعی صنعت کا حامل ہے۔ پاکستان عسکری تجربہ، تزویراتی صلاحیتیں اور دونوں ممالک کے ساتھ دیرینہ دفاعی تعلقات رکھتا ہے۔
یہ پیش رفت پورے مشرقِ وسطیٰ میں جاری ایک بڑے رجحان کا حصہ ہے۔ خلیجی ممالک امریکہ کے ساتھ اپنے تاریخی تعلقات برقرار رکھتے ہوئے سلامتی کے لیے مزید شراکت داریاں اور متبادل راستے تلاش کر رہے ہیں۔
اس کا مطلب یہ نہیں کہ مشرقِ وسطیٰ امریکہ سے دور ہو رہا ہے۔ زیادہ درست بات یہ ہے کہ خطے کے ممالک کسی ایک طاقت پر مکمل انحصار کے بجائے اپنے لیے زیادہ سفارتی، دفاعی اور اقتصادی گنجائش چاہتے ہیں۔
پاکستان کی خارجہ پالیسی بھی اسی سمت میں بڑھتی دکھائی دیتی ہے۔ وہ چین کے ساتھ تزویراتی شراکت داری برقرار رکھنا چاہتا ہے، امریکہ کے ساتھ تعلقات بہتر رکھنا چاہتا ہے، سعودی عرب اور ترکیہ کے ساتھ دفاعی تعاون بڑھا رہا ہے اور ایران کے ساتھ بھی رابطہ قائم رکھنا چاہتا ہےلیکن یہی تنوع پاکستان کیلئےایک بڑا سفارتی امتحان بھی ہے۔
خصوصاً سعودی عرب اور خلیجی ممالک کے ساتھ بڑھتا ہوا دفاعی تعاون ایران کے حوالے سے محتاط توازن کا تقاضا کرتا ہے۔ ایران پاکستان کا ہمسایہ ہے اور دونوں ایک طویل سرحد رکھتے ہیں۔ وہاں کسی بھی قسم کا عدم استحکام پاکستان کی سلامتی، تجارت اور معیشت پر براہِ راست اثر ڈال سکتا ہے۔
اسی لیے پاکستان کے لیے ضروری ہے کہ وہ کسی ایسے علاقائی بندوبست کا حصہ نہ بنے جو اسے ناگزیر طور پر ایک ہمسایہ ملک کے مقابل کھڑا کر دے۔ اگر پاکستان ایک طرف قابلِ اعتماد سکیورٹی پارٹنر اور دوسری طرف مؤثر سفارتی ثالث رہنے میں کامیاب ہوتا ہے تو یہی اس کی خارجہ پالیسی کی بڑی کامیابی ہوگی۔
مگر پاکستان کا اصل امتحان خارجہ محاذ سے بھی آگے ہے۔
دنیا میں پاکستان کی اہمیت بڑھے، اس کی آواز سنی جائے اور بڑی طاقتیں اسے ایک سنجیدہ علاقائی کردار کے طور پر دیکھیں، یہ یقیناً خوش آئند ہے۔ لیکن کسی بھی خارجہ پالیسی کی حقیقی قدر اس بات سے طے ہوتی ہے کہ اس کے فوائد ملک کے شہریوں تک پہنچتے ہیں یا نہیں۔
پاکستان ماضی میں بھی کئی مرتبہ عالمی سیاست میں غیر معمولی اہمیت اختیار کر چکا ہے۔ سرد جنگ، افغان جنگ اور 11 ستمبر کے بعد کے برس اس کی مثالیں ہیں۔ مگر یہ تزویراتی اہمیت ہمیشہ ایسی دیرپا اقتصادی ترقی میں تبدیل نہیں ہو سکی جسے عام پاکستانی اپنی روزمرہ زندگی میں محسوس کر سکے۔
یہی ماضی کا سب سے بڑا سبق ہے۔
موجودہ موقع کو مختلف بنانا ہے تو پاکستان کو اپنی سفارتی اہمیت کو سرمایہ کاری، صنعت، توانائی، معدنیات، دفاعی پیداوار، ٹیکنالوجی، تجارت، برآمدات اور روزگار میں تبدیل کرنا ہوگا۔
کیونکہ پاکستان کی سب سے بڑی ضرورت آج صرف عالمی اہمیت نہیں بلکہ معاشی استحکام ہے۔
عام آدمی مہنگائی، بے روزگاری، بڑھتے گھریلو اخراجات اور محدود معاشی مواقع کے باعث شدید دباؤ میں ہے۔ متوسط اور کم آمدنی والے خاندانوں کے لیے گھر کا بجٹ چلانا، بچوں کی تعلیم، علاج، بجلی و گیس کے بل اور بنیادی ضروریات پوری کرنا مسلسل مشکل ہو رہا ہے۔
اگر پاکستان دنیا کی اہم سفارتی میزوں پر تو موجود ہو لیکن عام شہری کی زندگی میں بہتری نہ آئے تو یہ کامیابی ادھوری ہوگی۔عالمی اثر و رسوخ کا حقیقی ثمر تب ہوگا جب نئی سرمایہ کاری سے روزگار پیدا ہو، صنعت بڑھے، کاروباری ماحول بہتر ہو، برآمدات میں اضافہ ہو، نوجوانوں کو مواقع ملیں اور عام شہری کی قوتِ خرید بہتر ہو۔
مگر معاشی استحکام بھی ایک بنیادی شرط کے بغیر پائیدار نہیں ہو سکتا: سیاسی استحکام۔
سرمایہ کاری اور اقتصادی منصوبہ بندی کو اعتماد، پالیسیوں کے تسلسل اور مستقبل کے بارے میں یقین درکار ہوتا ہے۔ مسلسل سیاسی محاذ آرائی، ادارہ جاتی کشیدگی اور معاشی سمت کی بار بار تبدیلی کسی بھی ملک کی ترقی کو محدود کر دیتی ہے۔
اسی لیے موجودہ حالات میں حکومت اور اپوزیشن دونوں پر بڑی ذمہ داری عائد ہوتی ہے۔
سیاسی اختلاف جمہوریت کا لازمی حصہ ہے۔ حکومت اور اپوزیشن کا ایک دوسرے سے اختلاف کرنا فطری بھی ہے اور ضروری بھی۔ لیکن اختلاف اور دشمنی ایک چیز نہیں۔ جب سیاسی مقابلہ ذاتی انا، ضد، انتقام اور مستقل محاذ آرائی میں بدل جائے تو اس کی قیمت عوام ادا کرتے ہیں۔
پاکستان کو اب اس سیاست سے آگے بڑھنے کی ضرورت ہے۔
حکومت اور اپوزیشن کو اپنی سیاسی پوزیشن برقرار رکھتے ہوئے کم از کم معیشت، آئینی و ادارہ جاتی استحکام، سرمایہ کاری، تعلیم، توانائی، روزگار اور طویل مدتی قومی پالیسی جیسے معاملات پر ایک دوسرے کے ساتھ بیٹھنا چاہیے۔
قومی اتفاقِ رائے کا مطلب سیاسی اختلاف کا خاتمہ نہیں۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ کچھ بنیادی معاملات کو روزمرہ کی سیاسی جنگ سے بالاتر رکھا جائے۔
سیاسی جماعتیں ایک دوسرے کی حریف ہو سکتی ہیں، لیکن پاکستان کے عوام کسی سیاسی دشمنی کے فریق نہیں۔
کروڑوں پاکستانی بہتر زندگی کے حق دار ہیں۔ انہیں باعزت روزگار، معیاری تعلیم، قابلِ برداشت علاج، معاشی تحفظ اور اپنے بچوں کے لیے بہتر مستقبل چاہیے۔ انہیں سیاسی طبقات کی باہمی عداوتوں اور ذاتی مفادات کی قیمت مسلسل ادا نہیں کرنی چاہیے۔
اس لیے آج پاکستان کے سامنے بنیادی سوال یہ نہیں کہ دنیا میں اس کا وزن کتنا بڑھا۔
اصل سوال یہ ہے کہ کیا پاکستان اپنی بڑھتی ہوئی عالمی اہمیت کو اپنے عوام کی خوشحالی میں تبدیل کر سکتا ہے؟
حقیقی تزویراتی خودمختاری مضبوط معیشت سے جنم لیتی ہے۔ جو ملک مسلسل بیرونی مالی مدد کا محتاج ہو، اس کی خارجہ پالیسی کی گنجائش محدود رہتی ہے۔ اس کے برعکس ایک معاشی طور پر مضبوط ملک عالمی طاقتوں کے ساتھ زیادہ اعتماد اور آزادی سے تعلقات قائم کر سکتا ہے۔
پاکستان کے لیے اس وقت ایک غیر معمولی موقع موجود ہے۔ دنیا کے مختلف مراکزِ طاقت کے ساتھ اس کے روابط اسے ایک منفرد سفارتی جگہ دیتے ہیں۔ لیکن تاریخ کا سبق واضح ہے: جغرافیائی اہمیت خودبخود قومی خوشحالی میں تبدیل نہیں ہوتی۔
اس کے لیے دانشمندانہ سفارت کاری کے ساتھ مضبوط معیشت، سیاسی استحکام، پالیسیوں کا تسلسل اور بنیادی قومی اتفاقِ رائے ضروری ہے۔
پاکستان کی تاریخ میں اکثر اس کی اہمیت اس وقت بڑھی جب دوسرے ممالک جنگ میں مصروف تھے۔
اب اس کے سامنے اس سے کہیں بڑا موقع ہے۔
پاکستان ایسا ملک بن سکتا ہے جس کی اہمیت صرف جنگوں اور بحرانوں میں نہ ہو، بلکہ امن، تجارت، توانائی، علاقائی رابطوں اور تنازعات کے حل میں بھی ہو۔
مگر اس نئے کردار کی حقیقی کامیابی کا فیصلہ عالمی دارالحکومتوں میں نہیں، پاکستان کے گھروں، بازاروں، اسکولوں، کارخانوں اور روزگار کے مواقع میں ہوگا۔
اگر نوجوان کو کام ملے، کاروبار کو اعتماد ملے، مہنگائی کا بوجھ کم ہو اور ایک عام خاندان اپنے بچوں کے مستقبل کے بارے میں زیادہ پُرامید ہو سکے، تب ہی کہا جا سکے گا کہ پاکستان نے اپنی نئی جغرافیائی اہمیت کو حقیقی قومی کامیابی میں بدل دیا ہے۔
آخرکار کسی ملک کی اصل طاقت صرف یہ نہیں کہ دنیا اسے کتنی اہمیت دیتی ہے۔
اصل طاقت یہ ہے کہ وہ اپنے عوام کو کتنی بہتر زندگی دے سکتا ہے۔

